08 June 2020 - 15:11
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 442907
فونت
امام جعفر صادق علیہ السلام سلسلۂ امامت کی چھٹی کڑی تھے،آپ کی والدہ ام فروہ بنت قاسم ابن محمد ابی بکر تھیں۔آپ نےتاحیات مخلوقات کی رہنمائی اور بادیہ نشینوں کی ہدایت فرمائی اور ہمیشہ یہی فرمایا کرتے تھے ہم مخلوقات خدا پر اللہ کی حجت ہیں۔

 

تحریر: محمد رضا (مبلغ جامعہ امامیہ)

امام جعفر صادق علیہ السلام کی شخصیت ہر فضیلت وکمال کے اعتبار سے جامع ترین شخصیت ہے۔اس طرح سے کہ شیعوں کے علاوہ اہل تسنن کے علماء اور عرفاءنے بھی امامؑ کی شخصیت کی تعریف کی ہے اورآپ کی حیات طیبہ کے متعدد واقعات کو نقل کیا ہے۔اس تحریر میں ہم احمد بن حسن استرآبادی(دسویں صدی کے شیعہ عالم دین)کی امام ؑ کی ولادت وفضائل سے متعلق سب سےقدیم تحریر پیش کریں گے اور شیخ فرید الدین عطار نیشاپوری (عالم اہل تسنن)کی  تحریر کو پیش کرنےکی سعادت حاصل کریںگے۔

قرآن ناطق کا تذکرہ:

امام جعفر صادق علیہ السلام سلسلۂ امامت کی چھٹی کڑی تھے،آپ کی والدہ ام فروہ بنت قاسم ابن محمد ابی بکر تھیں۔آپ نےتاحیات مخلوقات کی رہنمائی اور بادیہ نشینوں کی ہدایت فرمائی اور ہمیشہ یہی فرمایا کرتے تھے:ہم مخلوقات خدا پر اللہ کی حجت اورخداکے احکام کو بندوں تک پہونچانے والے ہیں۔آج کے وہ شیعہ جنہوں نےولایت علی علیہ السلام کے دامن سے تمسک اختیار کرلیا ہے حقیقت میں انہیں لوگوں نے آپ کے ذریعہ اپنی ملت وقوم کو درست کرلیا اور ان کی پیروی سے اپنی اور اپنی امت کی نجات کا سامان مہیا کرلیا۔

امامؑ کےبے شمار فضائل وکمالات تاریخ کے سنہرے اوراق پر موجود ہیںجن میں سے چند کو ہم تحریر کررہے ہیں:

ایک دفعہ دو لوگوں میں جھگڑا ہوگیا،ان میں سے ایک اہلبیت سے محبت کرتاتھااوران کی محبت کو اپنے لئے باعث فخرسمجھتاتھااوردوسرا بنی امیہ کی ولایت کا حامی تھا،دونوںافراد فیصلہ کے لئے ابو حنیفہ کے پاس گئے توابوحنیفہ نے کہاتم لوگوں کو چاہئے کہ اس شخص کے پاس جاؤجوعزت ومنزلت،حسب و نسب کے اعتبارسے مخلوق عالم میں سب سے افضل ہےتوان لوگوں نے پوچھا کہ وہ کون ہے ؟فرمایا:

وہ امام جعفرصادق ابن محمد ابن علی ابن حسین ابن علی علیہم السلام ہیں۔ دونوں جب امامؑ کی خدمت میں پہنچےتووہاں لوگ امامؑ کے ارد گرد موجود تھے اورامام احکام حلال و حرام کی تعلیم دے رہے تھے ،قبل اس کے کہ یہ لوگ اپنا مدعا امام کی خدمت میں پیش کرتے امام اس ناصبی کی طرف مخاطب ہوئے اورفرمایا: دشمن اہلبیتؑ کا خدا کے نزدیک کوئی مرتبہ نہیں ہےاورپھرفرمایا:فریق فی الجنۃ(ہمارے چاہنے والوں کا مقام جنت ہے) و فریق فی السعیر(اورہمارے دشمنوں کا ٹھکانا جہنم ہے )

جب بعض چاہنے والوں نے امامؑ کی محبت میں غلو سے کام لیتےہوئے یہ کہہ دیا کہ امامؑ اللہ کے شریک ہیں ۔توامامؑ نے یہ سنتے ہی وضو کیا اورفرمایا:ہماری محبت آخرت میں نجات کا باعث ہے لیکن ہماری محبت میں افراط اورغلوکرناموجب ندامت و پشیمانی ہے ۔اس لئے کہ ہم بندگانِ خدا میں سے ہیں اورہم مخلوقات خدا کا حصہ ہیں۔

امامؑ نے فرمایا کہ میں اپنے رب کی ملاقات کا مشتاق ہوں اوراس رجب یا شوال کے مہینہ میں اس دنیا سے کوچ کرجاؤں گااوراللہ کی اس دعوت کے آگے’’یدعوالیٰ دارالسلام‘‘پر لبیک کہتے ہوئے دنیا کی قید سے رہا ہوکرجنت ماویٰ میں پہنچ جاؤں گا،اس لئے کہ دشمنوں نے مجھے زہر دے کر لباس شہادت میرے جسم پر ڈال دیا ہے۔

امامؑ کی شہادت کے بعد راوی نے ان تمام باتوں کی تصدیق کی جو امامؑ نے بتائی تھی،۶۵ سال کی عمر میںمنصور کے زمانے میں جب امامؑ کو زہر دے کر شہیدکردیاگیا اورلوگ تدفین کے متعلق تردید کا شکارتھےآسمان سے ایک آواز آئی کہ اس بندۂ صالح کے جنازے کو اٹھاؤاوراس کے جد اوروالد کے پہلو میں سپردخاک کردو۔ ۱

امام جعفرصادق علیہ السلام،عطار نیشاپور کی نظر میں :

وہ امت محمدیہ کےسلطان،حجت نبوی کے برہان،عالم کون ومکان،قلب اولیاء کاسکون،چونکہ آپ نے اہلبیت ؑسے تمام باتوں کونقل کیا ہےلہٰذا ہم امامؑ کی چند احادیث پیش کرتے ہیں ،مجھے تعجب ہے ان لوگوں پرجو یہ کہتےہیں کہ اہل سنت و الجماعت اوراہلبیتؑ کے درمیان فاصلہ اورجدائی ہے۔ بلکہ میرا عقیدہ یہ ہے کہ انسان کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتاہے جب تک کہ انسان رسول کے ساتھ ساتھ ان کے اہلبیت پر ایمان نہ لے آئے ۔ ۲

امامؑ کی ہبیت

مروی ہے کہ ایک شب خلیفہ منصور نے اپنے وزیر سے کہاکہ جاؤاورامام جعفر صادق علیہ السلام کو میرے پاس لے آؤ تاکہ میں انہیں قتل کردوں ۔

وزیر نے کہا کہ امامؑ ایک گوشہ میں عبادت الٰہی میں مصروف رہتے ہیںلہٰذا ظاہراً آپ کو امامؑ سے کوئی نقصان نہیں ہے اوران کو قتل کرکے آپ کو کوئی فائدہ نہیں حاصل ہوگا۔لیکن منصوراپنی بات پراڑارہا،وزیر گیا،ادھر منصورنے اپنےسپاہیوں سے کہہ دیا کہ اگر جعفرصادق علیہ السلام آئیں اورمیں اپنی ٹوپی کو اتاردوں تو تم انہیں قتل کردینا۔

وزیر امامؑ کو لے کرآیا،امام ؑکو دیکھتے ہی منصورپریشانی کی حالت میں امامؑ کے سامنے گیاانہیں سینے سے لگایااوردوزانوہوکرامامؑ کے سامنے بیٹھ گیااورنہایت ہی احترام سے امامؑ سے کہا کہ آپ کو زحمت کرنے کی کیا ضرورت تھی ، امامؑ نے کہا کہ کیا تم نے مجھے نہیں بلایا تھا تاکہ اطاعت الٰہیہ سے دوررکھ سکو۔

اس کے بعد منصور نے مان نے عرض کیا: اے فرزند رسول آپ مخلوقات عالم پر فوقیت رکھتے ہیں اور آپ پر واجب ہے کہ ہم کو نصیحت فرمائیں۔امامؑ نے فرمایا:اے ابوسلیمان مجھے ڈر ہے کہ کہیں روزقیامت میرےجدمجھ سے سوال نہ کریں کہ تم نے حق کی پیروی کیوں نہیں کی؟توابو سلیمان نے کہا کہ اے پروردگار جس شخص کی خلقت میں آب نبوت استعمال کیا گیا اور جو دنیا میں سب سے بلند ہےجب اس کا یہ حال ہے تو میری کیا حیثیت ہے۔ ۳

حکم دیا کہ مکمل عزت واحترام کے ساتھ امامؑ کو گھر پہنچا دیاجائے ۔منصورکے جسم میں لرزہ پیدا ہوااوربے ہوش ہو کرزمین پرگرپڑا،اورتین دن بعد اس دنیاسے رخصت ہوگیا۔جب غش سے افاقہ ہواتووزیر نے کہا یہ کیا ماجراتھا؟منصور نے جواب دیا کہ جب امامؑ آئے تو میں نے ایک اژدھے کو دیکھاجواپنی زبان کوتخت کے نیچے رکھ کر مجھ سے کہہ رہا تھا کہ اگر تم نے ان کو تھوڑی سی بھی اذیت پہنچانے کی کوشش کی تو میں تم کو تخت سمیت نگل جاؤں گا ،میں اژدھے کے ڈرسے یہ نہیں سمجھ سکاکہ کیاکروں اورکیا نہ کروں،اس لئے میں نے امامؑ سے عذرخواہی کی اوربے ہوش ہو کرزمین پر گرپڑا۔۴

 

عقلمند ترین انسان

مروی ہے کہ امام جعفرصادق علیہ السلام نے ابو حنیفہ سے پوچھا کہ عقلمند ترین انسان کون ہے ؟ ابو حنیفہ نے کہا کہ وہ انسان عقلمندترین ہے جو نیکی اوربرائی میں فرق کرسکے ۔تو امامؑ نے فرمایا:جانوربھی نیکی اوربرائی میں فرق رکھتے ہیں کہ ان کو مارا جا رہا ہےیا چارادیا جارہاہے،تب ابوحنیفہ نے کہا کہ آپ فرمائیں کہ آپ کی نظر میں عقلمند ترین انسان کون ہے ؟امامؑ نے فرمایا: وہ شخص جو دو نیکیوں اوردو برائیوں میں فرق کرسکے ،خیرالخیرین کو اختیارکرے اورشرالشرین کو ترک کردے ۔

 

سخاوت امام

ایک مرتبہ کسی انسان کی دینار کی تھیلی چوری ہوگئی ۔اس شخص نے امامؑ کے اوپر الزام لگایا جب کہ وہ امامؑ کو نہیں پہچانتا تھا تو امامؑ نے اس سے پوچھا کی کتنے دینار کی تھیلی تھی؟اس نے عرض کیا: ہزار دینار کی۔ مولانے اسے گھر لے جاکر ہزار دینار عطا کردئیے ۔

اس شخص کو شرمندگی ہوئی تو اس نے اپنی تھیلی نکالی اور امامؑ کی تھیلی واپس کرتے ہوئے کہا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی تھی ۔

امام ؑنے فرمایا کہ جو ہم راہ خدا میں دے دیتے ہیں اسے واپس نہیں لیتے ۔جب اس نے آپ کی سخاوت دیکھی تو لوگوں سے دریافت کیا کہ آخر یہ  کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ امام جعفر صادق علیہ السلام ہیں۔یہ سن کر اسے بہت شرمندگی ہوئی۔ ۵

امامؑ کا اخلاق

روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ امامؑ اللہ اللہ کہتے ہوئے یک وتنہا ایک راستہ سے گذر رہے تھے ۔ آپ کے پیچھے ایک پریشان حال انسان بھی اللہ اللہ کہتے ہوئے جارہا تھا ۔امام نے فرمایا: اللہ میرے پاس لباس نہیں ہے فوراً لباس آگیا تو اس پریشان حال آدمی نے اما مؑ سے کہا کہ آپ اپنا کہنہ لباس مجھے دے دیجئے اس لئے کہ میں بھی ذکر الٰہی کرنے میں آپ کا شریک تھا۔یہ بات اما مؑ کو بہت پسند آئی اور آپ نے اپنا لباس اسے عطا کردیا۔۶

 

 حکیمانہ ارشادات

۱۔ہر وہ گناہ جس کا آغاز خوف سے اور انتہا معذرت پر ہو وہ انسان کو حق تک پہونچاتاہےاور ہر وہ اطاعت جس کی ابتدا سکون واطمینان سے ہو اور انتہا خود پسندی پر ہو وہ انسان کو حق سے دور کردیتی ہے۔خود پسندی کے ساتھ عبادت کرنا گناہ اور گناہ کے ساتھ معذرت خواہی اطاعت الٰہی کا باعث ہے۔۷

۲۔اما م صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ فقیر صابر کا مرتبہ بلند ہےیا یا شکر گزار امیر کا؟آپ نے فرمایاکہ اس فقیر کا مرتبہ بلند ہے جو صبر کرتا ہے، اس لئے کہ امیر کا دل اس کی جھولی میں رہتا ہےا ور صابر کا دل اللہ کے پاس ہوتا ہے۔ ۸

۳۔شرک مخلوقات خدا میں کالے پتھر پر سیاہ چیونٹی کی رفتار سے بھی پوشیدہ طریقہ سے سرایت کرتا ہے۔۹

۴۔انسان کا دشمن عقلمند ہو یہ انسان کی خوش نصیبی ہے۔۱۰

۵۔پانچ لوگوں سے دوستی نہ کرنا:

۱۔جھوٹا:اس لئے کہ وہ ہمیشہ تمہیں دھوکہ میں رکھے گا۔

۲۔بیوقوف:وہ تمہیں فائدہ پہونچانا چاہے گا لیکن نقصان پہونچا دےگا۔

۳۔کنجوس:تمہارا بہترین وقت ضائع کردےگا۔

۴۔بددل:ضرورت کے وقت تم کو چھوڑدےگا۔

۵۔فاسق:ایک لقمہ کے عوض تمہیں بیچ دےگا اور ایک لقمہ سے کم کی بھی لالچ کرےگا۔۱۱

۶۔دنیا میںا للہ کی ایک جنت ہے اور ایک جہنم۔عافیت جنت کا نام ہے اور بلا جہنم کا۔اپنے کام کو خدا پر چھوڑنا عافیت ہے او ر کام کو خود پر چھوڑنا بلا ہے۔۱۲

امام جعفر صادق علیہ السلام علی ابن عثمان ہجویری کی نظر میں:

علی ابن عثمان نے امام ؑکے بارے میں کہا:آپ سنت الٰہی کی تلوار،اللہ کاراستہ،معرفت خدا کاوسیلہ،نیک سیرت،آپ کا ظاہر وباطن یکسان تھا،آپ کے علوم اور افکارعلماء سلف وخلف میں مشہور ہیں۔

امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:لاتصح العبادۃ الابالتوبۃ،فقدم التوبۃ علی العبادۃفقال اللہ تعالیٰ:التائبون العابدون۔عبادت بغیر توبہ کے صحیح نہیں ۔لہٰذا عبادت سے پہلے توبہ کرو چونکہ اللہ نے قرآن میں التائبو ن کی لفظ کوالعابدون پر مقدم کیا ہے۔

مروی ہے کہ دائود طائی ایک مرتبہ اما مؑ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا: مولا مجھے نصیحت فرمادیجئے میرا دل سیاہ ہوچکا ہے۔

امامؑ نے فرمایا: اے ابو سلیمان! تم خود اس زمانے کے سب سے بڑے زاہد ہو تمہیں نصیحت کی کیا ضرورت ہے ؟ابوسلیمان نے عرض کیا: اے فرزند رسول آپ مخلوقات عالم پر فوقیت رکھتے ہیں اور آپ پر واجب ہے کہ ہم کو نصیحت فرمائیں۔ امامؑ نے فرمایا:اے ابوسلیمان مجھے ڈر ہے کہ کہیں روزقیامت میرےجدمجھ سے سوال نہ کریں کہ تم نے حق کی پیروی کیوں نہیں کی؟توابو سلیمان نے کہا کہ اے پروردگار جس شخص کی خلقت میں آب نبوت استعمال کیا گیا اور جو دنیا میں سب سے بلند ہےجب اس کا یہ حال ہے تو میری کیا حیثیت ہے۔ ۱۳

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات:

۱: میراث مکتوب:۱۳۷۴،۵۱۰۔۵۲۱

۲: تذکرۃ الاولیاء۔ص۱۲۔۱۳

۳: کشف المحجوب۔۱۳۸۴۔ص۱۱۶۔۱۱۸

۴: تذکرۃ الاولیاء۔ص۱۳۔۱۴

۵: ۔تذکرۃ الاولیاء۔ص۱۵

۶: تذکرۃ الاولیاء۔ص۱۵۔۱۶

۷: تذکرۃ الاولیاء۔ص۱۶

۸: تذکرۃ الاولیاء۔ص۱۷

۹: تذکرۃ الاولیاء۔ص۱۷

۱۰: تذکرۃ الاولیاء۔ص۱۷۔۱۸

۱۱: تذکرۃ الاولیاء۔ص۱۸

۱۲ تذکرۃ الاولیاء۔ص۱۱۔۱۸

۱۳: تذکرۃ الاولیاء۔ص۱۸

۴: کشف المحجوب۔۱۳۸۴۔ص۱۱۶۔۱۱۸

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں
پسندیده خبریں