27 July 2020 - 13:32
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 443282
فونت
ھندوستان کی خفیہ ایجنسیوں نے ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ متنازعہ شہریت قانون نافذ ہونے کے بعد ھندوستان میں مقیم افغان مسلمانوں نے عیسائیت اختیار کرنا شروع کردی ہے۔

رسا ںیوز ایجنسی کی ڈیلی پاکستان سے رپورٹ کےمطابق، ھندوستان کی خفیہ ایجنسیوں نے ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ متنازعہ شہریت قانون نافذ ہونے کے بعد بھارت میں مقیم افغان مسلمانوں اور روہنگیا پناہ گزینوں نے عیسائیت اختیار کرنا شروع کردی ہے۔

اطلاعات کے مطابق خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان اور روہنگیا پناہ گزینوں نے متنازعہ شہریت قانون پاس ہونے کے بعد سے انڈین شہریت حاصل کرنے کیلئے عیسائی مذہب اختیار کرنا شروع کردیا ہے۔

مرکزی ایجنسیوں نے حکومت کو اس حوالے سے بریفنگ بھی دی ہے اور بتایا ہے کہ اب تک افغان شہریوں کے عیسائی مذہب اختیار کرنے کے 25 کیسز سامنے آچکے ہیں۔

جنوبی دہلی میں واقع افغان چرچ کے سربراہ ادیب احمد میکسول نے ایک انگریزی روزنامہ کو بتایا کہ سی اے اے کے بعد سے افغان مسلمانوں میں عیسائیت قبول کرنے کا رجحان دیکھنے میں آرہا ہے۔

34 سالہ میکسول 21 سال کی عمر میں ہندوستان آیا تھا۔ اس کے والدین سنی مسلمان ہیں اور افغانستان میں کابل کے قریب مقیم ہیں۔/۹۸۸/ن

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬