
الاصلاح و الامة تحریک لبنان کے صدر شیخ ماهر عبدالرزاق نے گذشتہ روز دہشت گردوں کی جانب سے مسلحانہ حملہ میں صحیح و سالم جان بچ گئی اس کے بعد رسا نیوز ایجنسی کے عالمی رپورٹر سے خصوصی گفت و گو میں بیان کیا : دہشت گرد گروہ نے کل نصف شب میں بندہ کے گھر پر حملہ کیا اور شدید گولی باری کی ان کا مقصد میرا قتل تھا مگر میرے محافظوں کی طرف سے سخت مقابلہ کی وجہ سے وہ اپنے مقصد میں ناکام رہے اور وہاں سے راہ فرار اختیار کیا ۔
شیخ ماهر عبدالرزاق نے لبنان اور تمام اسلامی ممالک میں موجودہ کچہ تکفیری گروہ کی فکر پر تنقید کرتے ہو کہا : تکفیری تمام کوتاہ فکری کے ساتہ اپنے غیر ہم فکر کو ختم کونے کی پوری کوشش کر رہے ہیں جو کہ بہت ہی افسوس کا مقام اور نا امید کرنے والا ہے ، تکفیری گروہ قتل و خون کے علاوہ کسی بھی طرح کی منطق اور دلیل کی طرف توجہ نہیں دیتے ہیں ۔
لبنان کے اہلسنت عالم دین نے اپنے اتحاد کی کوشش اور اسلامی مقاومت کی حمایت کی موقف کی تاکید کرتے ہوئے کہا : ہمارا جرم صرف اسلامی اتحاد اور لبنان میں مذہبی و قبیلہ ای فتنہ سے مقابلہ کرنا ہے ۔ ہمارے اعتقاد کے مطابق اسلامی اتحاد دینی و انسانی ضرورت ہے کہ جو اسلامی دنیا کو اختلاف کے دلدل سے نجات دلا سکتی ہے ۔
الاصلاح و الامة تحریک لبنان کے صدر نے علاقہ میں صہیونی اور امریکی حکومت کی سازش و منصوبہ سے مقابلہ کو شدت پسند گروہ کی ناراضگی کا سبب جانا ہے اور کہا : صہیونی حکومت کی سازش سے مقابلہ کرنے کی کوشش تکفیری گروہ کو ناراض کر دیتی ہے ۔