20 August 2013 - 17:51
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 5818
فونت
آیت الله مکارم شیرازی:
رسا نیوز ایجنسی - حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ دشمن ملت اسلامیہ کے اختلافی مسائل کو برجستہ کرنے کے درپہ ہے اور دونوں فریقوں کو ورغلا کر اپسی دشمنی ایجاد کرنا چاہتا ہے کہا: علمائے اسلام اعتدال پسندی اپنا کر دشمن کی سازش کو نقش بر آب کریں ۔
حضرت آيت الله مکارم شيرازي

 

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹَر کی رپورٹ کے مطابق، مراجع تقلید قم میں سے حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے «اعتدال پسندی  اور ملت اسلامیہ کی یکجہتی میں علماء کا کردار» کے عنوان سے منعقد ہونے والے اجلاس میں جو اج مشھد مقدس میں دفتر تبلیغات اسلامی کے کانفرنس حال میں منعقد ہوا، اعتدال پسندی کو عالم تکوین و تشریع کا حصہ جانا اور کہا: اعتدال پسندی دنیا اور انسانی وجود کی بقا کا سبب ہے ۔


انہوں ںے اپنی گفتگو کے سلسلہ کو اگے بڑھاتے ہوئے اعتدال پسندی کے حوالہ سے ایات اور دین اسلام میں موجود احکامات کی جانب اشارہ کیا اور کہا: خداوند متعال نے سورہ بقرہ کی 43 ویں ایت میں فرمایا ہے کہ جس طرح تمھارا قبلہ معتدل ہے تم بھی معتدل امت ہو ۔


اپ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ علمائے اخلاق نے ہمیشہ اعتدال پسندی کی نصیحیتیں کی ہیں کہا: تمام اخلاقی فضیلتوں میں اعتدال اور میانہ روی اپنائی جائے ۔


حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے اپنے بیان میں مزید اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ اسلامی اتحاد اعتدال کی مراعات کی صورت میں برقرار ہوسکتا ہے مسلکی اور مذھبی افراط و تفریط کی سخت مخالفت کی اور کہا: اپنے عقائد پر اصرار اور دوسروں کی توہین دین اور اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے ۔


اس مرجع تقلید نے اسلامی مذاھب کی توہین کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا: بعض افراد نے اسلامی مذاھب کی توہین کے حوالہ سے استفتاء کیا تو میں نے جواب میں کہا کہ دیگر اسلامی مذاھب کی توہین حرام ہے ۔


انہوں ںے ان افراد پر تنقید کرتے ہوئے جو مشکلات کے حل میں دینی عقائد اور اتحاد کے خواہاں ہیں کہا: اسلامی مذاھب کے درمیان اس قدر مشترکات موجود ہیں جن کے زیر سایہ اعتدال اور میانہ روی کو اپنا شیوہ بنا کر اتحاد کیا جاسکتا ہے ۔


اس مرجع تقلید نے مزید کہا: ہم نے جب پہلی بار جب مکہ مکرمہ کی زیارت کی تو دیکھا کہ حج کے اعمال اہلسنت سے بہت مختلف نہیں ہیں بلکہ فقط بعض فروعات میں اختلاف ہے اور انہیں مشترکات کی بناء پر امت واحدہ تشکیل پا سکتی ہے ۔


حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے مسلمانوں کو اسلام دشمن عناصر سے مقابلہ کی تاکید کی اور کہا: علمائے اسلام اس طرح برتاو کریں کہ مسلمان، اسلام کے دشمنوں سے جو اسلام کے وجود کو پسند نہیں کرتے ان سے اشنا ہوسکیں اور اسلامی مشترکات اپنا سکیں ۔


قران کریم کے نامور مفسر نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ دشمن ملت اسلامیہ کے اختلافی مسائل کو برجستہ کرنے کے درپہ ہے اور دونوں فریقوں کو ورغلا کر اپسی دشمنی ایجاد کرنا چاہتا ہے کہا: علمائے اسلام اعتدال پسندی کے اپنا کر دشمن کی سازش کو نقش بر آب کریں ۔


انہوں ںے ملت اسلامیہ میں اختلاف اور تفرقہ کی اگ کو شعلہ ور کرنا اسلام کے دشمنوں کا کام جانا اور کہا: دشمن نے اج مسلمانوں کو مصر اور دیگر اسلامی ممالک میں ایک دوسرے کے خون کا پیاسہ کر رکھا کہ اور خود ایک کونہ میں کھڑے ہوکر ان کی حالت زار پر تماشائی اور خنداں ہے ۔


وھابیت عالم اسلام کی عظیمت مصیبت


اس مرجع تقلید نے وھابیت کو عالم اسلام کی عظیم مصیبت جانا اور کہا: تعجب کی بات ہے کہ بے انتہا بے گناہوں کا خون بہانے والی وہابیت خود کو سلفی کہتی ہے ، انبیاء کے سلف صالح ہرگز مسلمانوں کے خلاف خودکش حملہ نہیں کرتے تھے ، بے گناہوں کا مسجدوں میں قتل عام نہیں کرتے تھے اور انبیاء ان باتوں کے مخالف تھے، یقینا وہابیت کے یہ اقدامات بدعت ہیں ۔


حضرت آیت الله مکارم شیرازی  نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ اج وہابیت کے دو دھڑے ہیں کہا: ان کا ایک گروپ شدت پسند اور افراطی ہے جو اپنے علاوہ دوسروں کو کافر جانتے ہیں جو ناقابل اصلاح بھی ہیں ، مگر ان کا ایک گروپ معتدل اور میانہ رو ہے جو گفتگو اور مذاکرہ کے ذریعہ ہدایت پا سکتا ہے ۔


انہوں ںے مذاھب اسلامی پر اتہامات کو اتحاد کی راہ میں روڑے اور مشکلات جانا اور کہا: افسوس وہابیت ہمیں اس طرح پیش کرتی ہے کہ شیعہ کا خدا پر عقیدہ نہیں ہے اور وہ فقط امام حسین(ع) کی زیارت کو جاتے ہیں ، اسی بنیاد پر ہم نے ریڈیو اور ٹی وی سے درخواست کی تھی کہ ایک مستند فیلم تیار کریں جو زائرین بیت اللہ الحرام میں ہمارے حضور کا بیان گر ہو ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬