18 March 2014 - 19:25
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 6538
فونت
رسا نیوز ایجنسی - مکتبۃ الرضا لاہور پاکستان کے مالک سید رضا کو نہج البلاغہ فروخت کے جرم میں پاکستان پولیس نے گرفتار کرلیا ۔
نہج البلاغہ


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مکتبۃ الرضا لاہور پاکستان کے مالک سید رضا کو نہج البلاغہ فروخت کے جرم میں پاکستان پولیس نے گرفتار کرلیا ۔


اس رپورٹ کے مطابق، لاہور کے معروف شیعہ مکتبہ الرضا کے مالک سید محمد رضا کو مولائے کائنات کے خطبات، خطوط اور کلمات قصار پر مشتمل کتاب نہج البلاغہ فروخت کرنے کے جرم میں ایف آئی آر درج کرکے گرفتار کر لیا گیا ہے۔


تفصیلات کے مطابق مورخہ چودہ مارچ کی شب تقریباً ساڑھے آٹھ بجے کچھ دیوبندی ملاں اردو بازار میں واقع مکتبہ الرضا پر آئے اور پوچھا کہ آپ کا نام کیا ہے جس پر سید محمد رضا نے اپنا نام بنایا، اسی دوران اعلٰی پولیس حکام جن میں تھانہ نیو انار کلی کے ایس ایچ او نعمان بشیر اور ڈی ایس پی علاقہ عبدالحق درانی بھاری نفری کے ساتھ پہنچ گئے اور سید محمد رضا کو یہ کہتے ہوئے گرفتار کر لیا کہ اس نے فرقہ وارانہ کتاب نہج البلاغہ فروخت کی ہے، اس وقت تھانہ کے اندر و باہر بیسیوں تکفیری، دشمنان علی جمع ہوگئے، تاکہ پولیس پر پریشر ڈالا جاسکے، جب پولیس نے سید محمد رضا کی گرفتاری کی باقاعدہ تصدیق کر دی تو اس کے بعد یہ لوگ تھانے سے چلے گئے۔

 

مکتب الرضا کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق، سرگودھا کے کسی گاؤں کے رہائشی شوکت حیات نے کتاب نہج البلاغہ مکتبہ الرضا سے خریدی اور جب اس نے مطالعہ کیا تو بقول اس کے کتاب میں ام المومنین عائشہ، صحابہ کرام عشرہ مبشرہ سمیت معاویہ کی توہین کی گئی تھی، اس پر سید محمد رضا جو فروخت کنندہ ہیں، پر 095 اے اور 298 اے کا پرچہ کاٹ کر گرفتار کر لیا گیا۔ اور سید محمد رضا کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا۔


ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سارا کھیل منظم سازش کے تحت کھیلا جا رہا ہے، تھانہ نیو انار کلی کے ایس ایچ او نعمان بشیر اور تکفیری گروہ نے اعلٰی پولیس حکام سے ملکر یہ سازش تیار کی ہے اور اس کا مقصد ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ کرنا ہے، مذکورہ ایس ایچ او اس سے پہلے بھی جہاں کہیں رہے ہیں، انہوں نے اہل تشیع کیساتھ متعصبانہ رویہ اختیار کیا ہے اور کئی ایک جلوسوں و مجالس پر پابندی بھی لگائی ہے۔

 

یاد رہے کہ نہج البلاغہ مولا علی علیہ السلام کے خطبات اور خطوط و کلمات قصار پر مشتمل ایسا مجموعہ ہے جس کی تشریحات مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والوں نے کی ہیں اور اس بلیغ ترین کلام سے رہنمائی کا کام لیا ہے، چند برس قبل اقوام متحدہ نے بھی حضرت علی علیہ السلام کے اس خوبصورت مجموعہ کلام میں سے اپنے گورنرز کے نام لکھے گئے تاریخی خطوط کو انسانی حقوق کا چارٹر قرار دیکر اس سے استفادہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی طرح پاکستان میں بھی جب ملک معراج خالد نگران وزیراعظم بنائے گئے تو انہوں نے تمام سرکاری دفاتر میں یہ خطبہ چھپوا کر بھجوایا تھا، تاکہ اس سے مستفید ہوسکیں۔ اس مسئلہ پر پوری ملت تشیع میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے اور ملی و قومی تنظیموں کی طرف سے بھرپور احتجاج کا فیصلہ متوقع ہے، ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ سعودی ڈالرز نے ہر شعبے میں اپنے اثرات دکھانے شروع کر دیئے ہیں۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬