‫‫کیٹیگری‬ :
19 April 2014 - 16:12
News ID: 6661
فونت
رسا نیوز ایجنسی ـ حضرت آیت الله نوری همدانی نے سادہ زندگی بسر کرنا اور لوگوں کی مشکلات کو حل کرنا اسلامی معاشرے کے حکام کے لئے دو اہم خصوصیات جانا ہے اور بیان کیا : جو لوگ سماج کے اوپری سطح پر ہیں ان کے اندر ایسی خصوصیت ہونی چاہیئے ۔
ايت اللہ نوري ھمداني


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق حضرت آیت الله حسین نوری همدانی مرجع تقلید نے ایران کے صوبہ مازندران کے بعض علماء طلاب سے ملاقات میں حکام کی سادہ زندگی بسر کرنے پر تاکید کرتے ہوئے اظہار کیا : جو لوگ سماج میں اعلی مقام رکھتے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ عوامانہ زندگی بسر کریں اور ہمیشہ لوگوں کی مشکلات حل کرنے میں پیش قدم رہیں ۔

انہوں نے اپنی گفت و گو کے دوسرے حصہ میں علماء و طلاب کی فعالیت کو فضیلت ترین عمل جانا ہے اور کہا : جب قائد انقلاب اسلامی کو ڈاکٹریٹ کا اعزاز دینے کی خواہش کی گئی تو انہوں نے فرمایا میرے لئے سب سے اعلی و عظیم میڈل طلبہ ہونا ہے ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے مشہور و معروف استاد نے اس سلسلہ میں چند روایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : طالب علموں کی عزت و مقام کے سلسلہ میں بہت زیادہ روایت موجود ہیں کہ اس میں سے یہ ہے کہ جو بھی علم دین حاصل کرنے میں مشغول ہے اور اس اثنا میں اس کو موت آ جائے تو اس کو شہید کا درجہ و ثواب ملے گا ۔

حضرت آیت الله نوری همدانی نے اخلاص ، علم حاصل کرنے میں جستجو و کوشش کرنا ، اعلی ارادہ ، مستحکم عزم و ارادہ ، انہماک ، نظم اور سستی و تنبلی سے دوری کو طالب علموں کی کامیابی کی خصوصیت میں سے جانا ہے اور بیان کیا : علم حاصل کرنا ایک طرح کا جہاد ہے ؛ آپ لوگوں کو چاہیئے کہ اس موقع سے صحیح استفادہ کریں اور جو نعمت بھی آپ کے پاس ہے جیسے جوانی ہمت ، صحت و سلامت ، مواقع اور استعداد ان تمام چیزوں کو اخلاص کے مطابق عمل کریں خدا مزید توفیق میں اضافہ کرے گا ۔

انہوں نے اس تاکید کے ساتھ کہ سماج میں طلاب و علماء کی جتنی ذمہ داری ہے کسی دوسرے طبقہ کے لوگوں کی ذمہ داری نہیں ہے کہا : آپ لوگ تعلیم و اسلامی تربیت کے پرچم دار ہیں اور سماج کے خاص ہیں ، سماج کے لوگوں کی نگاہ آپ کی طرف ہے ؛ اسی وجہ سے تعلیم و تحصیل کے درمیان ہر شخص کو چاہیئے اپنے لئے ایک روش و راستہ معین کریں اور اپنی صلاحیت ، شوق و پسند کے مطابق اس میدان میں اپنی تمام قوت لگا دیں ۔ 

مرجع تقلید نے اہمیت و مختلف قسم کی ذمہ داری جو طلاب اپنے ذمہ لے سکتے ہیں اشارہ کرتے ہوئے اظہار کیا :  بعض طالب علم تبلیغی امور میں کامیاب ہیں وہ اس راستہ میں قدم بڑھائیں اور بعض تعلیم و تعلم و طلاب کی تربیت جو بہت ہی اہم امور ہے اس میدان میں قدم رکھیں ، بعض لوگ اجتہاد و فقاہت کی عظیم چوٹی پر پہوچنے کے لئے کوشش کریں ۔

حضرت آیت الله نوری همدانی نے تبلیغ کو طالب علموں کی اہم ذمہ داری میں شمار کیا ہے اور اس آیہ «الَّذینَ یُبَلِّغُونَ رِسالاتِ اللَّهِ وَ یَخْشَوْنَهُ وَ لا یَخْشَوْنَ أَحَداً إِلاَّ اللَّهَ» کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : ہم لوگوں کو چاہیئے کہ اپنے زبان و بیان اور عمل و اخلاق کے ذریعہ دین کی تبلیغ کرین کیونکہ لوگ ہمارے عمل پر سب سے زیادہ توجہ کرتے ہیں ۔

انہوں نے تبلیغ کی اہمیت کی تاکید اور اس تبلیغ کے سلسلہ میں درونی و عالمی نگاہ کی طرف بھی توجہ رکھنا ضروری بتایا ہے بیان کیا : ہم لوگوں کی کوشش ہے کہ اسلام ناب کا تعارف تمام دنیا والوں تک کرایا جائے اس سلسلہ میں ہم لوگوں کو مزید کوشش کرنی چاہیئے ۔
 

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬