‫‫کیٹیگری‬ :
30 June 2014 - 14:21
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 6959
فونت
روزه‌ داری کے احکام (2)؛
رسا نیوزایجنسی - مرحوم حضرت آیت الله شیخ جواد تبریزی کے دفتر میں استفائات کے ذمہ دار نے کہا : روزہ رکھنے کی توانائی رکھنے والے بچے کو روزہ رکھنے سے روکنے کا گناہ ماں باپ کی گردن پر کفارہ خود بچے کی گردن پر ہے ۔
احکام روزہ داري

 

فقہی مسائل کے ماھر حجت الاسلام حسین وحید پور نے رسا نیوزایجنسی کے رپورٹر سے گفتگو میں اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ اگر ماں باپ مطمئن ہوں کہ روزہ ان کے بچے کے لئے نقصان دہ نہیں ہے اور فقط محبت و شفقت کی بنیاد پر روزہ رکھنے سے منع کرتے ہیں تو آگاہ رہیں کہ یہ ممانعت ان کے گناہگار ہونے کا سبب ہے ۔

 

حجت الاسلام وحید پور نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ لڑکے، لڑکیوں کی بہ نسبت دیرمیں بالغ ہوتے ہیں لھذا تھوڑے سے مقدمات کے ساتھ وہ روزہ رکھ سکتے ہیں کہا : 15 سال کی عمر میں معمولا لڑکوں کو روزہ رکھنے کی توانائی حاصل ہوجاتی ہے ۔

 

فقہی مسائل کے ماھر نے مزید کہا : مگر لڑکیاں جن کا 9 سال پورا ہوچکا ہے اور دین کی نگاہ میں وہ بالغ ہوچکی ہیں اگر مردد ہوں کہ روزہ رکھنے کی توانائی رکھتی ہیں یا نہیں اس حالت میں اگر ماں باپ مطمئن ہوں کہ روزہ رکھنے کی توانائی نہیں رکھتی ہے تو کوئی حرج نہیں کہ محبت و شفت کی بنیاد پر انہیں روزہ رکھنے سے روک دیں ۔

 

مرحوم حضرت آیت الله شیخ جواد تبریزی کے دفتر میں استفائات کے ذمہ دار نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اگر ماں باپ مطمئن ہوں کہ بچہ روزہ نہیں رکھ سکتا تو اسے روزہ رکھنے سے روک دیں اور اگر مطمئن نہ ہوں تو خود کو جھنمی نہ بنائیں کہا : جو بچہ روزہ رکھنے کی توانائی رکھتا ہو اسے روزہ رکھنے سے روکنے کا گناہ ماں باپ کی گردن پر ہے مگر کفارہ بچہ کی گردن پر ہے ۔

 

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ روزہ رکھنے کے لئے روزہ رکھنے کی طاقت و توانائی شرط ہے لھذا جو بچے روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں وہ روزہ رکھیں اور اگر طاقت نہیں ہے تو روزہ نہ رکھیں کہا : ماں باپ بچے کےحق میں محبت و شفقت سے کام نہ لیں اگر بچہ حقیقتا روزہ رکھ سکتا ہے تو روزہ رکھے اور اسے روزہ رکھنے سے نہ روکیں ۔

 

حجت‌ الاسلام وحید پورنے مزید بیان کیا : جو بچے روزہ رکھنے کی توانائی نہیں رکھتے وہ اپنی عدم توانائی کو پورے مہینہ روزہ نہ رکھنے کا بہانہ نہ بنائیں اگر ہوسکے تو ایک دن بیچ کرکے روزہ رکھیں اور بعد میں چھوٹے ہوئے روزہ کی قضا کردیں ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬