‫‫کیٹیگری‬ :
26 October 2014 - 23:52
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 7411
فونت
حجت الاسلام آقاتهرانی :
رسا نیوز ایجنسی ـ ایران کے پارلیہ مینٹ میں تہران کے نمائندہ نے خدا کے راستہ میں ثابت قدم رہنے کو امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کی اہم خصوصیت جانا ہے اور کہا : آج کل بعض لوگ رواداری کا نعرہ لگا رہے ہیں یہ مغرب کے زیر اثر ہیں جو ہماری ثقافت سے ہم آہنگ نہیں ہے ۔
حجت الاسلام آقاتهراني


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق ایران کے پارلیہ مینٹ میں تہران کے نمائندہ حجت الاسلام مرتضی آقاتهرانی گذشتہ شب ایران کے مقدس شہر قم کے فاطمیون انجمن کی طرف سے منعقدہ مجلس عزا میں تقریر کرتے ہوئے ثابت قدم ہونے کو آئمہ اطہار علیہم السلام کی اور ان کی پیروی کرنے والوں کی خصوصیت جانا ہے اور اظہار کیا : خدا کے راہ میں امیر المومنین علی علیہ السلام کی ہمت و جوش خروش سبب بنا کہ بہت سارے لوگ آن حضرت کو مورد الزام قرار دیں اور یہ «لاَ یَخَافُونَ لَوْمَةَ لآئِمٍ» کے بہترین مصداق تھے ۔

انہوں نے وضاحت کی : افسوس کی بات ہے رواداری کا نعرہ اس وقت بعض لوگوں کی طرف سے رواج پا رہا ہے کہ جو مغرب کے زیر تاثیر ہیں اور وہ اس طرح کی باتیں زیادہ کرتے ہیں ، آپ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ جو لوگ مغرب سے تعلق رکھتے ہیں اس وقت کیا گل کھلا رہے ہیں ؟! جب ہابرمارس قم آئے تو ان کی ہم لوگوں سے یہ درخواست تھی کہ ہم لوگ اپنے انقلابی و اسلامی مستحکم موقف سے ذرا گریز کریں ۔


حوزہ علمیہ قم میں درس اخلاق کے استاد نے اس اشارہ کے ساتھ کہ ۳۰ فی صد امریکا کا بجٹ ثقافتی امور کے لئے مخصوص ہے بیان کیا : ان کے سٹلائیٹ چائینل اور سائیٹ کا کام یہ ہے کہ اسلام کے چہرہ کو خراب کر کے پیش کیا جائے ؛ داعش کی طرح گروہ کو وجود میں لاتے ہیں اسلام اور تکفیر کے نام پر مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کا جان لینے پر تیار کرتے ہیں ؛ ہم لوگوں کو اس تحریک کو پہچاننا چاہیئے ۔


حجت الاسلام آقاتهرانی نے تحیّر کو ثبات قدم کا مقابل اور مذموم صفات میں سے جانا ہے اور بیان کیا : اسی وجہ سے انبیاء بھی خداوند عالم سے درخواست کرتے تھے کہ ان کو ثبات قدم عنایت فرمائے «رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْکَافِرِینَ» ۔


انہوں نے امام خمینی (ره) اور قائد انقلاب اسلامی کو اس زمانہ میں ثبات قدم کا مظہر جانا ہے اور بیان کیا : انقلاب اسلامی کے بعض حصہ میں ایسے حادثہ رونما ہوئے ہیں کہ اگر یہ بزرگان پیچھے ہٹتے تو کچھ باقی نہیں رہتا لیکن ہم لوگ دیکھ رہے ہیں کہ اس اقدار کی بنیاد کو مضبوطی و استحکام کے ساتھ باقی رکھا ہے ۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬