28 October 2016 - 23:05
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 424120
فونت
انٹیلی جنس اداروں کے مطابق پشاور میں اس وقت داعش کے کئی درجن سہولت کار جن میں تنظیم کے کئی مقامی رہنماء بھی شامل ہیں۔ انٹیلی جنس بیورو، سی ٹی ڈی سمیت کئی دیگر اداروں کی تحویل میں ہیں۔
داعش



رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق پشاور میں حالیہ عرصے کے دوران دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں مذہبی شدت پسند تنظیم داعش ملوث ہے تاہم ایک منصوبے کے تحت کالعدم تحریک طالبان کے دھڑے جماعت الاحرار ان واقعات کی ذمے داری قبول کرتی آ رہی ہے، داعش کے سہولت کار اور کارندے پیغام رسانی کیلئے سب سے محفوظ طریقہ ٹیلی گرام استعمال کرتے ہیں، کچھ ماہ پہلے تک کوئی بھی انٹیلی جنس ادارہ داعش کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا تھا تاہم اب صورتحال تبدیل ہوگئی ہے۔

انٹیلی جنس اداروں کے مطابق پشاور میں اس وقت داعش کے کئی درجن سہولت کار جن میں تنظیم کے کئی مقامی رہنماء بھی شامل ہیں۔ انٹیلی جنس بیورو، سی ٹی ڈی سمیت کئی دیگر اداروں کی تحویل میں ہیں۔ ان سے کی جانے والی تفتیش کے مطابق داعش پشاور کے سربراہ کا تعلق شہر کے نواحی علاقے متنی سے ہے جو مبینہ طور پر آفریدی قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے۔

عام طور پر 5 یا 6 افراد پر متشمل گروپ ہوتا ہے۔ تنظیم کیلئے کام کرنے والے افراد میں سبزی فروش، موچی تک شامل ہیں جو آمد و رفت اور ریکی کیلئے رکشا و ٹیکسی استعمال کرتے ہیں، ان کو ماہانہ کی بنیاد پر 20 سے 35 ہزار روپے تک دیے جاتے ہیں، یہ افراد پیغام رسانی کیلئے میسجنر، واٹس ایپ اور دیگر ذرائع کے بجائے سب سے محفوظ طریقہ ٹیلی گرام استعمال کرتے ہیں اور اس وجہ سے داعش کے ذمے دار افراد کی نگرانی یا گرفتار کرنا مشکل کام ہے۔

انٹیلی جنس اداروں کے مطابق گلبہار، پھندو، پتنگ چوک فقیرآباد اور یکہ توت کے علاقوں میں ان کے سلیپنگ سیل موجود ہیں اور یہی سیل شہر میں پولیس، فورسز سمیت دیگر سرکاری اہلکاروں و شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں، خفیہ اداروں نے داعش کا ایک گروہ پکڑا ہے جس سے تفتیشی ٹیموں کو اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ اسی گروپ کے رہنما حمزہ عرف عبداللہ عرف راجہ عرف راجو عرف ثابت نے ریاستی اداروں کے سامنے 19 افراد کے قتل کا اعتراف کیا تھا، ان مارے جانے والے افراد میں اکثریت پولیس اور فورسز کے اہلکاروں کی تھی۔ /۹۸۸/ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬