29 April 2017 - 12:57
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 427803
فونت
حجت الاسلام آغا سید حسن:
مرکزی امام بارگاہ بڈگام میں جمعہ اجتماع سے خطاب کے دوران انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مالی مراعات تنازعہ کشمیر کا حل نہیں اور کسی بھی بڑے سے بڑے مالی پیکیج سے کشمیریوں کے جذبات اور خواہشات کا رُخ نہیں موڑا جاسکتا۔
آغا سید حسن موسوی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینیئر حریت رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے مقبوضہ کشمیر میں سوشل میڈیا پر حکومتی پابندی کو ریاستی انتظامیہ کی بے بسی اور فورسز کے انسانیت سوز کارروائیوں کی پردہ پوشی سے تعبیر کیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ کشمیر میں سوشل میڈیا پر مکمل قدغن سے قابض فورسز کے مظالم عوام سے پوشیدہ نہیں رہ سکتے۔ مرکزی امام بارگاہ بڈگام میں جمعہ اجتماع سے خطاب کے دوران آغا سید حسن نے مزاحمتی قائدین و کارکنان کی گرفتاریوں پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تحریک اُس مرحلے میں داخل ہوچکی ہے، جہاں قائدین کی گرفتاریاں عوام کے تحریکی جذبات اور تحریکی پروگرموں پر اثر انداز نہیں ہوسکتے۔

آغا سید حسن نے پنزگام کپواڑہ میں نہتے عوام پر قابض فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں کی پُرزور مذمت کرتے ہوئے اس واقعہ میں ایک معمر شخص کی شہادت پر دلی رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے ہندو انتہا پسند تنظیموں کی طرف سے کشمیری عوام کی تحریک آزادی کو دبانے کے لئے ’’جن سینا‘‘ کی تشکیل کے منصوبے کو دہلی کی بزدلی اور بدحواسی کا کھلا ثبوت قرار دیا۔

آغا سید حسن نے واضح کیا کہ جب کشمیر میں تعینات بھارت کی سات لاکھ فوج مکمل اختیارات اور بربریت کی کھلی چھوٹ کے باوجود کشمیریوں کی برحق آواز کو نہ دبا سکی تو نام نہاد جن سینا کس کھیت کی مولی ہے۔

آغا سید حسن نے کہا کہ مالی مراعات تنازعہ کشمیر کا حل نہیں اور کسی بھی بڑے سے بڑے مالی پیکیج سے کشمیریوں کے جذبات اور خواہشات کا رُخ نہیں موڑا جاسکتا۔

انہوں نے کشمیری طلاب پر جاری قابض فورسز کے جبر و تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کارروائیوں کا مہذب دنیا میں کوئی بھی اخلاقی یا سیاسی جواز نہیں ہے۔ /۹۸۸/ ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬