04 September 2017 - 14:07
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 429799
فونت
ثروت اعجاز قادری:
کراچی میں گائے کی قربانی کرنے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے پاکستان سنی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان کی حکومت روہنگیائی مسلمانوں کے قتل پر آواز بلند کرئے، او آئی سی کو متحرک کیا جائے کہ وہ بدھ مت مذہب کے دہشتگردوں کو لگام دینے کیلئے عالمی برادری سے رابطے تیز کریں۔
محمد ثروت اعجاز قادری

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ کشمیر اور روہنگیا کے مسلمانوں پر اسلام مخالف مظالم ڈھائے ہوئے ہیں، کوئی آواز اٹھانے والا نہیں ہے، اقوام متحدہ اسلام دشمن قوتوں کی لونڈی بنی ہوئی ہے، 34 ممالک کا فوجی اتحاد کس لئے بنا ہے، اگر یہ اتحاد مسلمانوں پر مظالم نہیں روک سکتا تو اس اتحاد کی کوئی اہمیت نہیں ہے، اگر یہ مسلمانوں کے تحفظ میں اپنا کردار ادا نہیں کر سکتا، تو اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، محض یہ اتحاد بادشاہت کو بچانے کیلئے تصور کیا جائے گا، کشمیر، فلسطین اور میانمار میں مسلمانوں کے گھروں کو جلانا خواتین کی عصمت دری اور قتل عام پر عالمی طاقتوں کو خاموش نہیں رہنا چاہیے، انصاف پوری انسانیت کیلئے ایک جیسا ہوگا، تو دہشتگردی ختم ہوگی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں اپنی رہائشگاہ قادری ہاﺅس پر گائے کی قربانی کرنے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ مسلمانوں پر ہونے والے مظالم انسانیت کی تذلیل ہے، اقوام متحدہ اپنا مثبت کردار ادا کرے، او آئی سی روہنگیائی مسلمانوں کے بے دردی سے قتل کا فوری نوٹس لے۔

ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ اقلیتوں کے تحفظ کا نعرہ لگانے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی بدھ مذہب کی دہشتگردی پر خاموشی سوالیہ نشان ہے، دین اسلام تمام مذاہب کا احترام اور ان کی عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے، امن کا نوبیل انعام پانے والی آنگ سانگ سوچی کی ناک کے نیچے میانمار کے مسلمان جل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام دشمن قوتوں کے خلاف مسلم ممالک کو یکجا ہونا ہوگا، میانمار اور بھارت میں مسلمان اقلیتوں پر مظالم کسی طور برداشت نہیں کرسکتے، پاکستان کی حکومت روہنگیائی مسلمانوں کے قتل پر آواز بلند کرئے، او آئی سی کو متحرک کیا جائے کہ وہ بدھ مت مذہب کے دہشتگردوں کو لگام دینے کیلئے عالمی برادری سے رابطے تیز کریں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں امن کو فروغ دینا ہے، تو نیک نیتی سے اتحاد بین المذاہب کو فروغ دینا ہوگا۔ /۹۸۸/ ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬