30 December 2019 - 13:51
News ID: 441837
فونت
آزاد بھارت میں جینے والوں یہ آپ کی آواز ہے ملک کے ھرباشندےکی آوزہے جو اپنی مادر وطن بھارت سےمحبت کر تے ہیں انکی آواز ہےآپکو ان آر سی کاعلم ہوا تو پریشان ہیں ۔

تحریر: سید مشاہد عالم رضوی

آزاد بھارت میں جینے والوں یہ آپ کی آواز ہے ملک کے ھرباشندےکی آوزہے جو اپنی مادر وطن بھارت سےمحبت کر تے ہیں انکی آواز ہے آپ کو ان آر سی کاعلم ہوا تو پریشان ہیں جبکہ ایسے ہی کتنے بل ماضی قریب میں لائے گئے اورلوگ غفلت میں پڑے ہوئے اسے سیاست دانوں کے ووٹ بٹورنے کی چالیں سمجھتے رہے یہ تو تھا عوام کا خیال اور ذمداران وقایدین حضرات اسے آخر تک یہ گردان کر کہ اسکا تعلق ہم سے نہیں ہماری قوم قبیلے سے نہیں اس لئے کوئی موقف اختیار کرنے کی چنداں ضرورت بھی کیا ہے چپی سادھے بیٹھے رہے جبکہ ملک میں سیاست کرنے والے یہ سوچ کر کبھی بھی قانون نہیں لاے کہ کسی صاحب یا قوم کو نقصان نہ پہنچے بلکہ اس خیال کےبرخلاف پارٹیاں اپنا اور اپنی پارٹی کا مفاد دیکھ کر ہی قانون اور بل لاتے اور بناتے ہیں اور ملک کے عوام اورملک نظر انداز کر دیا جاتاہیےاور یہ گھورکھ دھنداپرانا ہے اور کہتے سب ہیں ہم ملک کے مفاد میں کام کررہے ہیں ۔


اسٹوڈنٹس اور قیل وقال کا آگا پیچھا

مگر اب عوام بیدار ہے خصوصا جوان نسل طلبہ وطالبات اور اگریقین نہ آئے تو شیری رویش کمار کا وہ انٹرویو جو یونیورسٹی کی طالبات سے انہوں نے لیا ہےاسے سن لیجۓآپ کو بھارتیوں کی صحیح سوچ اور رجحان کاقدراندازہ ہوجائے گا جنہوں نے شدت پسند بی جے پی کے نظریہ کو سرے سے خارج کردیا ہے اور اپنے تجزیہ وتحلیل سے ان آر سی اور سی ای ای کو آئینہ دیکھا یا واقعاً قابل تعریف ہیں یہ جوان جو ملک کا مستقبل ہیں مگراس کے باوجود ہر قوم وملت کے بڑے بوڑھے اور پڑھے لکھے دانشوروں اور عالموں کی گہار کی جگہ ابھی بھی سونی سونی سی اور خالی خالی یا مدھم ہے شاید یہ جوان اسٹوڈنٹس آپ سب کو غیرت دلانے میں کامیاب ہوں خصوصاََ جو اکیلے اپنے مقام پر ایک ہم بنتے ہیں اورقیل وقال کرنے والے جو ابھی موھومات کے جال میں گرفتار ہم تو نہیں پھنسیں گے صیادوں کے جال میں طوطے کی طرح رٹ لگائے جال میں الٹےپڑے ہیں اور انکے قیل وقال کا آگا پیچھا نامحرموں کے سامنے ہےخدا را عقل عملی کا ثبوت دیجئے

پیران کلیسا ہوں کہ شیخان حرم ہوں
نے جدت کردار نے جدت رفتار    "اقبال"

یہ بھارت بھارت باسیوں ہی کا ہے

اس بات کا کسی پارٹی سے لینا دینا ہے نہ تو اس مھان بھارت پر کسی کی اجارہ داری ہے تاریخ ہند بہتر بتاے گی کہ اس ملک سے کس نے وفاداری کی ہے اور کس نے غداری چاہے اسے ہندوستانیوں نے لکھا ہو یا غیروں نے یاانگریزوں نے موجودہ حالات میں ہرباشعور بیچین نگاہوں سے اپنے اپنے قوم و قبیلہ کے پڑھے لکھے لوگوں کے فیصلے اور ان کے ردعمل کو دیکھنا چاہتا ہے اور ملک وملت کی دادرسی کا شدت سے انتظار ہے کیونکہ اسے پتہ ہے کہ

ہے جرم ضعیفی سزا مرگ مفاجات

حضرت امام حسین علیہ السلام کے قیام کا ایک مقصد ذلت آمیز زندگی سے عزت کی موت ہی بہتر ہےتھا جو آج بھی زندہ وپایندہ ہے

بی جے پی اپنی بقا کی جنگ میں مشغول

سبھی یاکم ازکم ملک کےادر کاسٹ اور مسلمان اچھی طرح سمجھ رہے ہیں کہ ار ایس ایس کی منشاء کے مطابق چلنے والی بی جے پی حکومت پبلک کا بھلا نہیں اپنی بقا چاہتی ہے لہذا روشن ہو چکا ہے کہ شہریت ترمیمی بل ان آر سی جیسا مسلہ کسی خاص قوم یا مسلمانوں کانہیں بلکہ سارے بھارتیوں کامسئلہ ہے لہذااب سمجھ دارعوام فرنٹ پر ہے اسٹوڈنٹس میدان میں ہیں جنہیں دانشورانِ قوم کی جانب سے پشت پناہی اورمضبوط اسٹینڈ کی تلاش وجستجو اور ضرورت ہے ۔

پھوس کاچھپر آپ کا ہے

ہمارا تمہارا کرنے کی تاریخ ایکسپائر ہوچکی ہے جسے چھوٹے بڑے عالم وجاھل عورت ومرد کوسمجھنے کی ضرورت ہے ہم سب ایک ہیں ہمارا درد ایک ہے ہماراملک ایک ہے احساس وجزبات ایک ہیں اور آیٔئن ایک ہے ہر چندمذہب الگ ہوسکتے ہیں مگر یہاں دھرم کا سوال نہیں حق اور ملک کے سنودھان کا سوال ہے ملک کی سالمیت کا سوال ہے جس کے لئے بہرحال متحدہ اسٹینڈ اور مؤقف ہی راہ چارہ ہے تاکہ اجتماعی مسائل کا ویسے ہی سامنا کیا جاسکے جسطرح فسطائیت اجتماع کو بےچین ومنتشر کرنے کے لئے اک جٹ ہے خدا را اپنے مفادات کانزلہ چھنک دیجیۓ ملکی دھارے میں آۓ ورنہ نواز دیوبندی کے یہ چار مصرعہ یادرکھئے

جلتے گھرکو دیکھنے والے

پھوس کا چھپرآپکا ہے

آپ کے پیچھے تیزہوا ہے آگے مقدر آپکاہے

اس کے قتل پر میں بھی چپ تھا میرانمبراب آیا

میرے قتل پر آپ بھی چپ ہیں اگلا نمبر آپ کاہے۔

/

 

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬