30 December 2019 - 15:43
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 441844
فونت
ڈاکٹر سلیم حیدر:
ایم آئی ٹی پاکستان کے چیئرمین نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے اور پاکستان سمیت عالم اسلام کے حکمران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، بھارتی ظلم اور بربریت کے آگے مسلمان ڈٹے ہوئے ہیں لیکن مسلمان ممالک کی بے حسی کا شکار ہیں ۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم حیدر نے سندھ کے مہاجروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارت میں مسلمانوں پر کئے جانے والے مظالم پر اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری سمیت بین الاقوامی بااثر شخصیات کو خطوط ارسال کریں جن میں بھارتی مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے اور پاکستان سمیت عالم اسلام کے حکمران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، بھارتی ظلم اور بربریت کے آگے مسلمان ڈٹے ہوئے ہیں لیکن بدقسمتی سے مسلمان ممالک کی بے حسی اور ہٹ دھرمی ختم نہیں ہورہی۔

مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین نے کہا کہ نریندر مودی کی وحشیانہ سوچ اور مسلمان دشمنی کھل کر سامنے آگئی ہے، ایک طرف بھارتی فورس اور دوسری جانب آر ایس ایس کے دہشت گرد غنڈے مسلمان نوجوان مرد و خواتین کو تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں، ان کا قتل عام کیا جارہا ہے، گھر وں میں گھس کر خواتین کی بے حرمتی کی جارہی ہے۔

ڈاکٹر سلیم حیدر کا کہنا تھا کہ بھارت میں مسجد، درگاہ، مدارس اور تعلیمی ادارے بھی بھارتی حکمرانوں کی دہشت گردی اور بربریت سے محفوظ نہیں ہے، اگر یہی صورتحال رہی تو کشمیر کے بعد بھارت میں مسلمانوں کا جینا دوبھر ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ 52 اسلامی ملکوں کے ہوتے ہوئے بھارت کے مسلمان اس قدر بے بس اور مجبور کردیئے گئے ہیں کہ اب انہیں معاشی، سیاسی اور اقتصادی طور پر امتیازی سلوک کا سامنا ہے، مسلمان نوجوانوں پر بھارت میں تعلیم کے دروازے بند کئے جارہے ہیں، انہیں جبری اپنے ملک سے بیدخل کرکے ہندو ازم کو جبراً مسلط کیا جارہا ہے۔

مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین نے کہا کہ ایم آئی ٹی بھارت میں موجود اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ ہے، حکومت پاکستان سفارتی اور سیاسی طور پر بھارتی مسلمانوں کے تحفظ کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں
پرطرفدارترین