12 October 2013 - 13:10
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 6048
فونت
آیت الله سید عبدالله غریفی:
رسا نیوزایجنسی – شھر دراز بحرین کے امام جمعہ نے بحرین علماء کونسل کے خلاف ہونے والے حملہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا: اگر بحرین علماء کونسل کی فعالیتیں مسلکی اور قبائلی سرگرمیوں کے برابر ہے تو کیا آل ‎خلیفہ کی جانب سے اسکولوں میں شیعہ طلباء کو مالکی فقہ پڑھانا مسلکی اور قبائلی سرگرمیوں کا مصداق نہیں ہیں ؟
آيت الله غريفي


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحرین کے شیعہ عالم دین آیت الله سید عبدالله غریفی نے اس ھفتہ بحرین کے علاقہ شهر دراز کی مسجد امام جعفر صادق(ع) میں منعقد ہونے والی نماز جمعہ کے خطبہ میں بحرین علماء کونسل کے خلاف ہونے حکومت کے حملے کی جانب اشارہ کیا اور کہا: گذشتہ ھفتہ ہمارا خطبہ جمعہ مختلف عکس العمل سے روبرو ہوا ، کچھ لوگوں نے ہماری گرفتاری کا مطالبہ کیا تو کچھ افراد نے میری باتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔  


انہوں ںے مزید کہا: ہم نے کہا تھا کہ بحرین علماء کونسل قبائل پرستی سے دور ہے اور اس سلسلہ میں جس کے پاس بھی شواہد موجود ہیں اسے پیش کریں ، میری باتوں پر دو طرح کے حملے ہوئے کچھ نے تو فقط لفظی تنقید کا نشانہ بنایا مگر کچھ نے اخباروں میں بحرین علماء کونسل کے خلاف مطالب شائع کرکے اس بات کو ثابت کرنا چاہا کہ پوری ملت بحرین اس بات کی معتقد ہے کہ بحرین علماء کونسل مکمل طور سے قبائل اور مسلک پرست کمیٹی ہے  ۔


آیت الله غریفی نے اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ اگر ال خلیفہ حکومت معتقد ہے کہ بحرین علماء کونسل قبائل پرست کمیٹی ہے تو اس سلسلہ میں رفرنڈم کرلے کہا: بعض افراد عاشوراء اجلاس جیسے پروگرام منعقد کرنے کی وجہ سے بحرین علماء کونسل پر قبائل پرستی کا اتھام لگاتے ہیں تو میں ان سے سوال کروں گا کہ کیا امام حسین(ع) کا تعلق فقط شیعوں ہی سے ہے اور یزید کا تعلق اہل سنت سے ہے ؟ یقینا سنی اس سے کہیں بالاترہیں کہ یزید کی حمایت کریں گے ۔


شھر دراز کے امام جمعہ نے مزید کہا: بعض افراد ہمیں متھم کرتے ہیں کہ ہم شیعہ مذھب کی تبلیغ کرتے ہیں ، تو ہمارا ان سے یہ سوال ہے کہ کیا مذھب کی تبلیغ قبیلہ پرستی کے برابر ہے ؟ اور اگر ایسا ہے تو کیا آل ‎خلیفہ کی جانب سے اسکولوں میں شیعہ طلباء کو مالکی فقہ پڑھانا مسلکی اور قبائلی سرگرمیوں کا مصداق نہیں ہے ؟


انہوں ںے ال خلیفہ میڈیا کی جانب سے بحرین علماء کونسل کو دھشت گرد گروپ بتائے جانے کی جانب اشارہ کیا اور کہا: مَیں اور اس کونسل کے رکن دیگر علماء کرام نے ہمیشہ دھشت گردی کی مذمت کی ہے ، کیوں کہ اسلام دھشت گردی کا مخالف ہے اور اسے حرام جانتا ہے اور انسانی قوانین بھی اسی کی پیروی کرتے ہیں ، ہم دھشت گردی کے مخالف اور خود دھشت گردی کے قربانی ہیں اور ہرگز اس کی حمایت نہیں کرتے ۔


آیت الله غریفی نے ایک بحرینی پارلمینٹ ممبر کے بیان پر کہ فقط سیاسی پارٹیوں میں موجود افراد ہی سیاسی نظریات بیان کرنے کا حق رکھتے ہیں کہا: ملک کے ائین میں کہاں لکھا ہے کہ سیاسی نظریات بیان کرنے لئے ضروری ہے کہ بحرین کے شھری سیاسی پارٹی کے ممبر ہوں ؟ شھریوں کو حق حاصل ہے کہ جس جگہ بھی چاہیں اپنے سیاسی نظریات بیان کرسکتے ہیں ۔


اس بحرینی شیعہ عالم دین نے بحرین علماء کونسل کو تنقید پذیر جانا اور کہا: ہم ہرگز تنقیدوں کے مخالف نہیں ہیں کیوں کہ فقط معصوم کی ذات خطاوں سے منزہ ہے درعین حال ہم اس تنقید کی حمایت کرتے ہیں جس میں ادب و احترام ملحوظ نظر ہو ۔


انہوں نے ملک میں پھیلتے ہوئے مسلکی فتنہ کی جانب اشارہ کیا اور کہا: ثقافت محبت و مسامحہ کی ترویج ، فتنہ پرور افراد کے مقابل استقامت ، سیاسی اصلاحات و نیز قبائلی گفتگو کے مقابل قیام ملک کو فتنہ کی اگ سے دور رکھ سکتا ہے ۔
 
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬