‫‫کیٹیگری‬ :
20 May 2014 - 18:12
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 6806
فونت
حجت الاسلام آقا تهرانی :
رسا نیوز ایجنسی ـ ایران کے پارلیا مینٹ میں تہران کے نمائندہ نے بیان کیا : جس طرح خراب و فاسد غذا انسان کے جسم کو نقصان پہوچاتا ہے اگر اسی طرح ہماری فکری خوراک بھی زہریلی ہو تو یہ تفکرات ہمارے اندر غلط رویہ کی ترغیب کا سبب بنے گی ۔
حجت الاسلام آقا تهراني


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق ایران کے پارلیا مینٹ میں تہران کے نمائندہ حجت الاسلام مرتضی آقا تهرانی نے بیان کیا : جس طرح خراب و فاسد غذا انسان کے جسم کو نقصان پہوچاتا ہے اگر اسی طرح ہماری فکری خوراک بھی زہریلی ہو تو یہ تفکرات ہمارے اندر غلط رویہ کی ترغیب کا سبب بنے گی اور یہ جان لینا چاہیئے کہ ہمارے عقیدے و یقین اعمال و رفتار کو تشکیل دیتے ہیں ۔

مذہبی مسائل کے ماہر نے اس بیان کے ساتھ کہ سالم بدن میں ہی سالم عقل پایا جاتا ہے وضاحت کی : جسمی سلامتی پر توجہ کرنا بدن کو سالم رکھتا ہے اور اس کی تربیت کرتا ہے اور اسی طرح عقل کو بھی اور اگر عقل سالم ہو تو تہذیب نفس انجام دیتا ہے اور جب ہم ایک سالم جسم و روح کے مالک رہے نگے تو اس کو خدا کی راہ میں خدمت کرنے میں استفادہ کرے نگے ۔

حجت الاسلام آقا تهرانی نے بیان کیا : لوگوں کو معنوی سلامت کی طرف توجہ کرنے کے لئے دین کی بہت ساری امر و نہی کے فلسفہ کو ان کے لئے وضاحت دینا چاہیئے ؛ کیوں کہ بہت سارے جوان ایسی دلیلوں کو جاننا چاہتے ہیں ۔

انہوں نے یاد دہانی کرائی : معنوی سلامت کا جنبہ دوسرے تمام سلامتی جنبہ کو تحت تاثیر قرار دیتی ہے اور جو لوگ معنوی سلامت کے مالک ہیں وہ اچھی طرح جسمی و ذہنی و سماجی بیماری کو دور کرنے میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں ۔

ایران کے پارلیا مینٹ میں تہران کے نمائندہ  نے اپنی گفت و گو کو جاری رکھتے ہوئے اس بیان کے ساتھ کہ ہر ثقافت کی بنیادی و اصلی لوازمات علم ہے بیان کیا : ہر ثقافت کی پہچان علم سے رابطہ پر مشخص ہوتی ہے ؛ دین مبین اسلام توحیدی علم پر بہت زیادہ توجہ رکھتی ہے اور مغربی علوم کا نحصار صرف تجربہ و حس پر ہے ۔

انہوں نے علم کو دو حصہ سیکولر اور دینی میں قابل تقسیم جانا ہے اور بیان کیا : روش شناسی میں علوم کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا لیکن دینی علم و غیر دینی علم میں ایک دوسرے کے درمیان اس کے مقاصد میں بہت زیادہ فرق ہے ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬