‫‫کیٹیگری‬ :
21 August 2014 - 08:11
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 7164
فونت
آیت ‌الله سبحانی :
رسا نیوز ایجنسی ـ حضرت آیت الله سبحانی نے کہا : داعش ایک ایسا گروہ ہے جو نہ سنی ہے اور نہ ہی شیعہ بلکہ بیرونی عوامل اور سامراجی دنیا کی پیداروا ہیں انہوں نے اسلام کے نام کو اپنے ساتھ جوڑ لیا ہے ۔
تکفیری، اسلام کے بنیادی ڈھانچہ کو تباہ کرنے میں دشمن کے ہتھیار ہیں


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق حضرت آیت ‌الله جعفر سبحانی نے ایران کے مقدس شہر مشہد الرضا کے مدرسہ علمیہ سلیمانیہ میں منعقدہ اپنے درس کلام و اسلامی تفکر کے پانچویں جلسے میں تکفیر کے بحث کے سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے اسلام میں تکفیر کے مراحل کا جائزہ لیا اور تاریخ اسلام میں تکفیر کی تاریخچہ بیان کیا ۔

حضرت آیت ‌الله سبحانی نے تاریخ اسلام کی پوری مدت میں تکفیر کو تین دور میں تقسیم کیا ہے اور کہا : تکفیر کا جائزہ تین زمانہ میں کیا جا سکتا ہے ، زمانہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، خلیفہ سوم حضرت عثمان کا زمانہ اور امیر المومنین علیہ السلام کا زمانہ ، سب سے پہلے تکفیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں ذکر ہوا ہے ۔

اسلام کی تاریخ میں سب سے پہلے تکفیر

انہوں نے سب سے پہلے انجام پائے گئے تکفیر کو بیان کرتے ہوئے وضاحت کی : سب سے پہلے تکفیر جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ناراحت ہونے کا سبب بنا وہ عصامہ بن زید کا مسئلہ ہے ؛ وہ ایک قوم کو توحید کی ہداہت کے لئے معین کئے گئے تھے کہ راستہ میں پیغمبر کے ایک صحابی سے رو برو ہوئے اور عصامہ نے ان صحابی کو کافر کہا لیکن وہ انکار کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ میں نے «لا اله الی الله» کہا ہے اور مسلمان ہوں لیکن عصامہ نے ان کی بات کو قبول نہیں کی اور ان کو قتل کر دیا ۔

حوزہ علمیہ کے مشہور و معروف استاد نے سورہ مبارکہ نساء کی ۹۴ آیہ کے نزول کو عصامہ کے شامل حال جانا ہے اور بیان کیا : آیت میں «یا أَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا إِذا ضَرَبْتُمْ فی‏ سَبیلِ اللَّهِ فَتَبَیَّنُوا وَ لا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقى‏ إِلَیْکُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِناً تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیاةِ الدُّنْیا فَعِنْدَ اللَّهِ مَغانِمُ کَثیرَةٌ کَذلِکَ کُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَیْکُمْ فَتَبَیَّنُوا إِنَّ اللَّهَ کانَ بِما تَعْمَلُونَ خَبیراً» بیان ہوتا ہے « اے وہ لوگ جو خدا کے راہ میں جہاد کرتے ہو ، «فَتَبَیَّنُوا» آنکھ بند کر کام نہ کرو « وَ لا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقى‏ إِلَیْکُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِناً» وہ لوگ جو تم سے کہتے ہیں کہ میں مومن ہوں تو تم اس کو مت کہو کہ تم مومن نہیں ہو ، «تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیاةِ الدُّنْیا» کیونکہ اس کے قتل سے تمہارا مقصد اس کے اسلحہ و اموال کو حاصل کرنا ہے ، «فَعِنْدَ اللَّهِ مَغانِمُ کَثیرَةٌ» اگر نعمت چاہتے ہو تو مال ، خدا کے پاس ہے ۔

انہوں نے اپنی گفت و گو کو جاری رکھتے ہوئے کہا : یہ پہلا تکفیر اسلام میں تھا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سختی سے اس کی مخالفت کی ؛ عصامہ نے بھی بالآخر عثمان کے ساتھ رہے اور حقیقت سے دوری اختیار کی ، جو شخص بھی کسی کا پاک خون بہاتا ہے اس کا حشر یہی ہوتا ہے ۔

مرجع تقلید نے «ولید بن عُقبه» کو دوسرا شخص جانا جس نے تکفیر کا اقدام کیا تھا اور اظہار کیا : وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے معین کئے گئے تھے کہ قبلیہ «بنی مستلع» سے زکات جمع کریں ؛ جب وہ اس قبیلہ میں پہوچے تو وہاں کے لوگوں نے ان کے آنے پر استقبال کیا لیکن وہ ایک غیر نجیب شخص تھے اس خیال کے ساتھ کہ وہ لوگ اس کو قتل کرنے کے لئے آئے ہیں وہاں سے لوٹ آئے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا کہ وہ لوگ مرتد ہو گئے ہیں اور زکات نہیں دے رہے ہیں ۔

انہوں نے وضاحت کی : اس سلسلہ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعض صحابی کہتے تھے کہ ان لوگوں کو قتل کر دیا جائے لیکن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خاموشی اختیار کی اور آیت نازل ہوئی جس میں بیان ہوا ہے کہ اگر کسی کے فاسق ہونے کی خبر تم تک پہوچی ہے تو اس کی تفتیش و تحقیق کرو ، اس کی بات پر کوئی قدم نہ اٹھا لینا اور بعد میں پشیمانی ہو ؛ اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی تابعین ہیں ، ان میں سے عادل بھی ہیں اور غیر عادل بھی ہیں عادل کو قبول کریں گے اور ان سے حکم حاصل کریں گے اور غیر عادل کے سلسلہ میں تحقیق کریں گے ۔

حضرت آیت‌ الله سبحانی نے اسلام میں دوسرے مرحلہ میں تکفیر کی فکر آنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : عثمان کے زمانہ میں عثمان کے تکفیر ہونے کا مسئلہ سامنے آیا اور حقیقت میں جو اس تکفیر میں پیش قدم تھیں وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیوی عائشہ تھیں ۔

انہوں نے اپنی گفت و گو کو جاری رکھتے ہوئے بیان کیا : وہ ان میں سے تھی جو عثمان کو پوری طرح سے تکفیر کرتی تھیں ، مسجد میں جاتی تھیں ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لباس کو ہاتھوں میں اٹھا کر کہتی تھیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا لباس ابھی پرانا بھی نہیں ہوا ہے لیکن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دین پرانا ہو گیا ؛ وہ کیوں عثمان کی تکفیر کرتی تھیں ؟ کیوںکہ وہ مال کو عادلانہ تقسیم نہیں کرتے تھے ، صوبہ دار اموی ہوا کرتے تھے قاضی بھی اموی سے وابستہ تھے اور فرماندار بھی اسی طرح ہوتے تھے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے تمام اصحاب کو کنارہ کر دیا گیا تھا ۔
 

انہوں نے آخر میں کہا: داعش ایک ایسا گروہ ہے جو نہ سنی ہے اور نہ ہی شیعہ بلکہ بیرونی عوامل اور سامراجی دنیا کی پیداروا ہیں انہوں نے اسلام کے نام کو اپنے ساتھ جوڑ لیا ہے اور یہ کچھ سال پہلے تشکیل ہوا ہے تا کہ ان کی مدد سے ایسا کام انجام دیا جائے جس سے اسرائیل سکون و سلامتی کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرے جیسا کہ ہم لوگ دیکھ رہے ہیں وہ عراق اور شام کی طرف گئے کیونکہ یہ دو ممالک ایران کے ساتھ ہیں لیکن ان لوگوں کی اسرائیل اور ان کے دوستوں کے ساتھ کوئی مشکل نہیں ہے ۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬