03 January 2015 - 15:14
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 7642
فونت
رسا نیوز ایجنسی - تکفیریوں نے اپنا نام اہل سنت کہیں اس لئے تو نہیں رکھا کیونکہ انہیں امریکہ اور خطے میں موجود امریکی ایجنٹوں کی سازش کو تکمیل کرنا ہے؟ اور شیعہ و سنی جنگ کا ماحول بنانا ہے؟ یہ کافر کافر کے نعرے کہیں جنگ کے شعلے بھڑکانے کیلئے تو نہیں لگ رہے؟ اس سازش کو سمجھنے اور ناکام کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا یہ ناقابل واپسی مخلصانہ مدد اس مکروہ سازش اور نام نہاد جنگ کے ایندھن ان دہشتگردوں کی ٹریننگ، نقل و انتقال اور دیگر لاجسٹک خدمات کیلئے تو نہیں۔؟
حجت الاسلام سيد شفقت شيرازي


تحریر: حجت الاسلام ڈاکٹر شفقت حسین شیرازی


 امریکی نائب صدر جوبائیڈن نے خطے میں امریکی سازش اور ترکی، سعودی عرب اور قطر کی جانب سے کی جانے والی خیانت کو برملا کردیا ۔


خاص سوریة الان


((جو بایدن یختصر ویقول: ان مایسمى"الثورة السوریة" مؤامرة لاطلاق حرب "سنیة شیعیة".. وسکبت فیها مئات الملایین من الدولارات الاسلامیة والتمویل سعودی قطری ...الخ.. وان ما ذهب للثورة ذهب لاسلامیین متطرفین من "القاعدة والنصرة وداعش ".. بل ان اردوغان أقر بأنه جعل من أرضه مقرا للارهابیین الذین یمرون الى سوریة عن سبق اصرار وترصد.. والأهم أن بایدن یقول بأنه یجب امتطاء الجمهور (بالتحالف السنی) فی المنطقة لأن الغرب لا یرید أن یظهر کعدو للمسلمین وهو یحتاج بلاد المسلمین ..)) الأحد 2014/12/28 ۔
سوریة الان سائٹ پر امریکی نائب صدر جو بائیڈن کی گفتگو کے عربی ترجمہ کا اقتباس مندرجہ ذیل ہے۔


"جوبائیڈن مختصر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ جسے سیرین انقلاب کا نام دیا جا رہا ہے، یہ شیعوں اور سنیوں کے درمیان جنگ کرانے کی سازش ہے، جس پر سینکڑوں ملین اسلامی ڈالرز خرچ کئے گئے ہیں، اس انقلاب پر سعودی اور قطری مالی ایڈ خرچ ہوئی ہے، اس انقلاب کیلئے انتہا پسند القاعدہ، النصرۃ اور داعش کے نام پر پوری دنیا سے اکٹھے ہوئے ہیں، ترکی کے وزیرآعظم رجب طیب اردغان نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے اپنی سرزمین مکمل ارادہ اور اصرار کے ساتھ پوری دنیا سے آنے والے دہشتگردوں کی آمد و رفت اور قیام کے لئے پیش کردی ہے۔


جوبائیڈن ایک اہم بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: خطے کی عوام پر لازم ہے کہ وہ اس "سنی تحالف" (القاعدہ، النصرۃ، داعش اور دوسری جانب ترکی، سعودی عرب اور قطر) کے زیر سایہ آجائے، کیونکہ غرب اپنے آپکو مسلمانوں کا دشمن ظاہر نہیں کرنا چاہتا کیونکہ اسے اسلامی ممالک کی ضرورت ہے۔"


یہاں پر چند ایک سوالات پر توجہ دینا اور سمجھنا بہت ضروری ہے۔


1۔ کیا نواز شریف کی آمد پر ملنے والی سعودی اور امریکی امداد ترکی، سعودی عرب اور قطر کے زیر سایہ بننے والے نام نہاد "سنی تحالف" کے زیر سایہ جانے کی رشوت تو نہیں؟ جو کہ داعش، القاعدہ اور النصرۃ جیسے انتہا پسند مختلف ناموں کے مسلح تکفیری گروہوں کی مالی مدد اور سرپرستی کر رہا ہے۔


2۔ تکفیریوں نے اپنا نام اہل سنت کہیں اس لئے تو نہیں رکھا کیونکہ انہیں امریکہ اور خطے میں موجود امریکی ایجنٹوں کی سازش کو تکمیل کرنا ہے؟ اور شیعہ و سنی جنگ کا ماحول بنانا ہے؟ یہ کافر کافر کے نعرے کہیں جنگ کے شعلے بھڑکانے کیلئے تو نہیں  لگ رہے؟ اس سازش کو سمجھنے اور ناکام کرنے کی ضرورت ہے۔


3۔ کیا یہ ناقابل واپسی مخلصانہ مدد اس مکروہ سازش اور نام نہاد جنگ کے ایندھن ان دہشتگردوں کی ٹریننگ، نقل و انتقال اور دیگر لاجسٹک خدمات کیلئے تو نہیں ۔؟


4۔ کیا جب ان قوتوں نے پاکستانی قوم کے مصمم ارادوں کو دیکھا کہ پاکستان اب دہشتگردوں کو مزید برداشت نہیں کرسکتا کیونکہ اب یہ ناسور مکمل پک چکا ہے اور پاکستانی آرمی سرزمین وطن کو اس ناپاک وجود کو کامیاب ضرب عضب آپریشن کے ذریعے جڑوں سے نکالنا چاہتی ہے اور اب اس کی زد میں جاہل اور احمق مسلح گروہ ہی نہیں بلکہ کئی شریف حلیوں میں معزز سیاست دان، مذہبی اور سیاسی پارٹیوں کے لیڈران بھی آئیں گے، کہیں ان مہروں کو بچانے کیلئے تو یہ جود و سخا کی بارش اور بلین ڈالرز کی رشوت تو نہیں دی جا رہی۔؟


نواز میاں صاحب آپ نے صحیح کہا کہ اب قوم کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اگر ہر دہشتگرد اور انکے با اثر سرپرستوں کو قانون کے مطابق سزا نہ ملی تو پاکستانی قوم کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اگر ہر ایک پر قانون لاگو نہ ہوا اور فقط مخصوص افراد کو پھانسیاں دی گئیں اور بیرونی دباو میں آکر اسلام و قرآن اور پاکستان کے قصاص کے قانون کو معطل کرنے کی کوشش کی گئی تو قوم ہرگز معاف نہیں کرے گی۔ اگر دہشتگردوں کو پناہ دینے والوں، انکے سیاسی حلیفوں اور انکے جرائم پر پردہ ڈالنے والوں کو آئین کے مطابق سزا نہ ملی تو قوم کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اگر ملک سے مسلح گروہوں کا مکمل خاتمہ نہ کیا گیا اور پورے ملک پر آئین کی رٹ قائم نہ کی گئی اور اس بار جھوٹے دعووں سے قوم کو دھوکہ دیا گیا اور ڈرامائی انداز اپنایا گیا تو غیرت مند پاکستانی قوم کبھی معاف نہیں کرے گی ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬