‫‫کیٹیگری‬ :
07 April 2016 - 12:37
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 9236
فونت
فرانس کے دانشوروں کے ساتھ ملاقات میں بیان ہوا ؛
رسا نیوز ایجنسی ـ حضرت آیت الله ناصر مکارم شیرازی نے کہا : امریکا اور یورپ میں تکفیری گروہ نے جو عدم تحفظ کا بازار گرم کر رکھا ہے وہ روز بروز بڑھتا چلا جائے گا ۔
آيت الله مکارم شيرازي


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق حضرت آیت الله ناصر مکارم شیرازی نے فرانس کے دانشوروں کے ساتھ ملاقات میں اس بیان کے ساتھ کہ اسلام محبت و دوستی کا دین ہے اظہار کیا : خداوند عالم نے قرآن میں مسلمان و غیر مسلمان کے درمیان رابطہ کی خصوصیت کو بیان کیا ہے ۔

انہوں نے اپنی گفت  و گو کو جاری رکھتے ہوئے کہا : محمد ابن عبدالوهاب 200 سال قبل ایک جدید مکتب ایجاد کیا کہ جس کی بنیاد تشدد پر تھا اور بعض غیر اسلامی حکومت اس خیال میں تھے کہ اس مکتب کے ذریعہ مسلمانوں میں اختلاف ایجاد کیا جا سکتا ہے اور اسی مقصد کے حصول کے لئے اس مکتب کا خیر مقدم کیا ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے استاد نے اس بیان کے ساتھ کہ وہابی اسلامی تعلیمات سے بیگانہ ہیں اور دین مبین اسلام اس طرح کے دین کو قبول نہیں کرتی ہے وضاحت کی : آج ہم لوگ مشاہدہ کر رہے ہیں کہ اس گروہ نے دنیا کو نا امنی کا شکار بنا رکھا ہے اور بعض غیر اسلامی ممالک اس خیال میں تھے کہ اس گروہ کو اپنے مفاد میں استعمال کرتے ہوئے فقط اسلامی ممالک میں نا امنی محدود رکھے نگے وہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ نا امنی یورپ و امریکا میں بھی جاری ہو گیا ہے اور مستقبل قریب میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا ۔

انہوں نے امریکا اور یورپ ممالک کے باشندوں کا داعش میں شامل ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : کیا یورپ ممالک کے حکام جانتے ہیں کہ جب یہ لوگ اپنے ملک واپس جائے نگے تو کیا ہوگا ۔

انہوں نے تکفیری تحریک کے خطرے کے عنوان سے ایران کے مقدس شہر قم میں منعقدہ کانفرنس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اظہار کیا : ہم لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ پورپ ممالک کے اساتید و دانشمند یورپ کے جوانوں کی روشن خیالی میں مفید کردار ادا کرے نگے اور اگر دنیا میں اس سلسلہ میں سنجدگی سے کام نہ کیا جائے گا تو اس گروہ کے مشکلات ختم نہیں ہونگے ۔

حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے اس بیان کے ساتھ کہ ہم لوگ کسی بھی صورت میں تکفیری تحریک کو مسلمان نہیں جانتے ہیں وضاحت کی : افسوس کی بات ہے کہ جو لوگ مسلمان نہیں ہیں ان کے رویہ سے پورپ میں اسلام فوبیا میں اضافہ ہو گیا ہے ، افسوس کہ بعض مغربی سیاستمدار اس گروہ کو اپنے مفاد میں جانتے ہیں اور اس گروہ کی حمایت کر کے اپنے ملک کے مفاد کو بھول گئے ہیں ۔

انہوں نے اپنی تقیری کے دوسرے حصہ میں اس بیان کے ساتھ کہ ایران اور انقلاب اسلامی کے سلسلہ میں مغربی میڈیہ میں جو شایع کی جاتی ہے اس کا حقیقت سے کوئی رابطہ نہیں ہے وضاحت کی : ہم لوگ جس ایران میں ہیں اس میں کیا ہو رہا ہے وہ آپ لوگ واضح طور پر دیکھ رہے ہیں اور ایک وہ ایران جس کو مغربی میڈیہ پیش کر رہی ہے وہ بھی جانتے ہونگے ، آپ لوگ ایران فوبیا کی لہر جو اس وقت پھیلائی جا رہی ہے اس کو ختم کرنے میں مفید کردار ادا کر سکتے ہیں ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬