27 November 2018 - 21:57
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 437765
فونت
بتیسویں وحدت اسلامی بین الاقوامی کانفرنس پیر کی رات ایک بیان جاری کئے جانے کے ساتھ ختم ہو گئی۔
اتحاد اسلامی کانفرنس

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران میں 32 ویں وحدت اسلامی بین الاقوامی کانفرنس کے شرکاء نے اختتامی بیان میں تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کا اہم ترین مسئلہ ہے اور اسرائیل عالم اسلام کا سب سے بڑا دشمن ہے لہذا اس غاصب صیہونی حکومت کا مقابلہ کرنے کیلئے مشترکہ کوششیں کی جانی چاہئیے۔

کانفرنس کے شرکاء نے اختتامی بیان میں مسلمانوں کے مابین اتحاد و وحدت کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے اپنے اصلی دشمن کی شناخت اور تمام علاقائی اور اندرونی اختلافات کو ختم کرنے پر تاکید کی۔

کانفرنس میں شریک علماء نے سینچری ڈیل کے امریکی فارمولے کی مخالفت کرتے ہوئے یہودی بستیوں کی تعمیر، مسجد الاقصی اور قدس شریف کو یہودیوں سے آباد کرنے اور اسی طرح اس شہر کو صیہونی دارالحکومت بنائے جانے کی سخت مخالفت کی۔

کانفرنس کے شرکاء نے اسی طرح امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے بیت المقدس منتقلی کی مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کا مقابلہ کرنے اور قدس شریف کو امن کا گہوارہ اور مختلف ادیان و تمدن کے ماننے والوں کے شہر کے طور پر باقی رکھے جانے کی ضرورت پر بھی تاکید کی۔

کانفرنس کے مندوبین نے اسی طرح مقبوضہ فلسطین کی غاصب اور جابر صیہونی حکومت کے ساتھ سیاسی، ثقافتی، تجارتی اور کھیل کود کے شعبے میں روابط کی برقراری کی سخت مخالفت کی۔

واضح رہے کہ نبی کریم حضرت محمد مصطفی (ص) اور چھٹے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام کے یوم ولادت کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کی میزبانی میں 32 ویں بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس ہفتے کے روز او آئی سی کے کانفرنس ہال میں شروع ہوئی اور پیر کی رات تک جاری رہی۔ اس کانفرنس میں 81 ممالک سے 350 مفکرین اور علما شریک ہوئے. /۹۸۸/ ن۹۴۰

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬