22 December 2019 - 23:10
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 441797
فونت
ہندوستان میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہرے جاری ہیں، مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ اور تشدد کے نتیجے میں اب تک 25 افراد شہید ہوگئے ہیں جن میں آٹھ سالہ بچہ بھی شامل ہے ، جبکہ سیکڑوں کی تعداد میں زخمی ہوگئے ہیں۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں مسلم مخالف متنازع ’شہریت قانون پر مودی سرکار کےخلاف شہر شہر اور گاؤں گاؤں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ اور تشدد کے نتیجے میں اب تک 25 افراد شہید ہوگئے ہیں جبکہ سیکڑوں کی تعداد میں زخمی ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاستوں اترپردیش، آسام، کرناٹک، کیرالہ اور دارالحکومت نئی دہلی سمیت کئی علاقوں میں شدید عوامی احتجاج جاری ہے، عوامی دباؤ پر جھنجھلاہٹ کے شکار مودی سرکار نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔

پولیس کے لاٹھی چارج، ہوائی فائرنگ اور آنسو گیس شیلنگ کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 25 ہوگئی ہے۔اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاستوں اترپردیش، آسام، کرناٹک، کیرالہ اور دارالحکومت نئی دہلی سمیت کئی علاقوں میں شدید عوامی احتجاج جاری ہے، عوامی دباؤ پر جھنجھلاہٹ کے شکار مودی سرکار نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔

پولیس کے لاٹھی چارج، ہوائی فائرنگ اور آنسو گیس شیلنگ کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 25 ہوگئی ہے۔

زیادہ تر ہلاکتیں ریاست اترپردیش میں ہوئیں جہاں میرٹھ میں 3، بجنور میں 2 جب کہ وارانسی، فیروز آباد، سنبھل اور کان پور میں ایک ایک ہلاکتیں ہوئیں۔

لاٹھی چارج کے دوران ہلاک ہونے والوں میں 8 سالہ بچہ بھی شامل ہے جب کہ آسام میں فوج طلب کرلی گئی ہے، لکھنؤ سمیت کئی بڑے شہروں میں انٹرنیٹ معطل ہے اور حساس مقامات پر دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔ مظاہروں میں طلبا کی بڑی تعداد شرکت کے باعث حکومت نے تعلیمی اداروں کو بند کردیا ہے۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬