02 November 2013 - 16:48
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 6094
فونت
حجت الاسلام سید شہنشاہ نقوی:
رسا نیوز ایجنسی – سرزمین پاکستان کے نامور شیعہ عالم دین حجت الاسلام سید شہنشاہ حسین نقوی نے یہ کہتے ہوئے کہ اگر حکومت دہشت گردی کے خاتمے میں سنجیدہ ہے اور مذاکرات ہی اس مسئلے کا حل ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں کہا: پاکستان میں شیعہ سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار رہے ہیں ۔
حجت الاسلام سيد شہنشاہ نقوي


رسا نیوزایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ علماء کونسل کے مرکزی راہنما اور سرزمین پاکستان کے نامور شیعہ عالم دین حجت الاسلام سید شہنشاہ نقوی نے گذشتہ دنوں مسلم لیگ(ن) کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس پر تبصره کرتے ہوئے کہا : اگر واقعاً حکومت دہشت گردی کے خاتمے میں سنجیدہ ہے اور مذاکرات ہی اس مسئلے کا حل ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ۔


انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مذاکرات آخر کس سے اور کن بنیادوں پر کئے جا رہے ہیں؟ کیونکہ ریاستی اداروں کو بخوبی معلوم ہے کہ طالبان کا کوئی ایک گروپ نہیں جو اس وقت پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے اور شدت پسندوں کا ہر گروپ یہی ٹائٹل استعمال کر رہا ہے کہا: ہمیں یہ سمجھایا جائے کہ آخر مذاکرات ہو کس سے رہے ہیں اور کیا ضمانت ہے کہ کسی ایک گروپ کی رضا مندی اور جنگ بندی سے باقی تمام شدت پسند گروپ بھی جنگ بندی پر عمل درآمد کرینگے؟


حجت الاسلام نقوی نے بیان کرتے ہوئے کہ ہمیں تو اس کے پیچھے کوئی اور ہی کہانی نظر ارہی ہے کہا: تاہم ابھی اس حوالے سے کوئی حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہے اور آنے والے حالات بتائیں گے کہ اس کہانی کے پیچھے کیا کھچڑی پک رہی ہے۔


شیعہ علماء کونسل کے مرکزی راہنما نے اس بات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہ ہمیں افسوس اور دکھ ہے کہ سب سے زیادہ دہشت گردی کا نشانہ ہماری ملت رہی، پھر بھی اس کانفرنس میں ہماری قیادت اور جماعت کو مدعو نہیں کیا گیا کہا: ایک لحاظ سے مَیں اسے بهی ملت تشیع کی خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ اس اے پی سی میں کئے گئے متنازعہ فیصلوں میں کم از کم ہمارا کوئی رول نہیں ہوگا، چونکہ ہماری تو اس میں نمائندگی اور رائے شامل ہی نہیں ہے ۔


انہوں نے ملک بھر میں جاری شیعہ ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کے دیگر واقعات کے پس پردہ کیا محرکات کی طرف اشاره کرتے ہوئے کہا: اسکا فرقہ واریت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہم تو فرقہ واریت کو پاوں تلے روند چکے، اس کے پس پردہ کچھ اور محرکات اور عالمی سازشیں کار فرما ہیں، تاہم میں اس بات سے بھی انکار نہیں کر رہا ہے کہ پاکستان میں مکتب تشیع سے وابستہ افراد اس وقت سب سے زیادہ اس دہشت گردی کا شکار ہیں،


معروف فلاحی ادارے جعفریہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل (جے ڈی سی) کے بانی و چیئرمین نے کہا : ہمیں دیکھنا یہ ہوگا کہ آخر پاکستان میں جاری اس دہشت گردی کی لہر کہ جس میں ملک عزیز کے ہر کوچہ و بازار میں بیگناہ و مظلوم انسانوں کا خون بہایا جا رہا ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ مرنے والوں کو یہ بھی پتہ نہیں کہ وہ کیوں مارے جا رہے ہیں اور مارنے والے یعنی بظاہر دہشت گردی کی وارداتوں میں استعمال ہونے والے دہشت گردوں کو بھی نہیں معلوم کہ وہ یہ سب کچھ کیوں کر رہے ہیں، کیونکہ پاکستان کا اصل مسئلہ یہاں آئین و قانون کی عمل داری نہ ہونا ہے اور یہاں جنگل کا قانون نافذ ہے۔ جس کا جو جی چاہے کر رہا ہے اور پوچھنے والا کوئی نہیں اور ستم بالائے ستم یہ کہ عوام کو اصل حقائق سے بھی ایک سازش کے تحت دور رکھا گیا ہے اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے من پسند اہداف بھی عوام کو گمراہ کرکے اور اسے فرقہ واریت و دیگر عنوانات دیکر حاصل کئے جا رہے ہیں۔


حجت الاسلام نقوی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب تک اس ملک میں آئین و قانون کی عمل داری کو یقینی نہیں بنایا جاتا اور ریاستی ادارے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرتے ہوئے عوام کی جان و مال کی حفاظت کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرینگے حالات اس سے بھی بدتر ہونگے کہا: اگر خدا نخواستہ یہی صورتحال جاری رہی تو  ملکی سالمیت کو اس سے شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔


انہوں نے سوشل میڈیا پر بعض افراد کی جانب سے اختلافی مسائل اور غیر اخلاقی مواد پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ان حساس حالات کا تقاضا ہے کہ ہم تمام تر لسانی، گروہی اور تنظیمی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر قومی سوچ کو فروغ دیں اور تشیع کے حقوق کے حصول و تحفظ کیلئے ہم آواز ہو کر جدوجہد کریں ، بزرگ علماء اور اپنی قومی قیادت کا ساتھ دیں اور اختلافی و متنازعہ امور خاص طور پر سوشل میڈیا پر مختلف شخصیات اور تنظیموں کیخلاف غیر اخلاقی مواد کی ترسیل جیسے غیر شرعی و غیر اخلاقی اقدامات سے سختی کیساتھ اجتناب کریں ، اپنی صلاحیتوں کو ملی اتحاد اور ان جدید ذرائع کو عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے کیلئے استعال میں لائیں۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬