19 November 2014 - 15:14
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 7495
فونت
قائد ملت جعفریہ پاکستان کے ترجمان:
رسا نیوز ایجنسی - قائد ملت جعفریہ پاکستان کے ترجمان نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ 13 سال تک بلا جواز پابندی، فاسد نظام کے باعث رہی ، سپریم کورٹ کے فیصلے کو اپنی بات کا مظہر بتایا ۔
تحريک جعفريہ پاکستان


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان کے ترجمان زاہد علی اخونزادہ نے تحریک جعفریہ پاکستان پر پابندی کے خلاف سپریم کورٹ کی جانب سے صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دینے کو سراہا ۔


انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ آج ملک کی بد ترین حالت کی وجہ یہ ہے کہ یہاں ایک عرصہ سے اختیارات سے تجاوز اور اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جارہاہے کہا: ریاست پاکستان کو یرغمال بنا کر رکھ دیا گیا ہے جس کا مظہر یہی پابندی کیس ہے ، ملکی ترقی و سالمیت کیلئے ہمیں نظام میں اصلاحات کرنا ہوں گی اورجھوٹ، بدنیتی ، منافقت اور زور و زر پر مبنی نظام کو یکسرے مسترد کرنا ہوگا ۔


اخونزادہ نے صدارتی آرڈیننس کے تحت بلاجواز 3 سال تک جاری رہنے والی پابندی کو سپریم کورٹ کی جانب سے کالعدم قرار دینے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا : افسوس ارض وطن میں اختیارات سے تجاوز اور ناجائز استعمال نے اس ملک کو یرغمال بنادیا ہے ، چنانچہ 3 سال تک ہمیں اس کا سامنا کرنا پڑا اور ملکی سلامتی کے لئے ہم نے اس کرب اور تکلیف کو برداشت کیا۔


قائد ملت جعفریہ پاکستان کے ترجمان نے ایک عرصہ تک ملک میں موجود نظام حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا: اس نظام کی وجہ سے عدالتی نظام بھی شہریوں کو انصاف فراہم کرنے سے قاصر ہیں ۔


انہوں اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ پاکستان مشکلات اور بحرانوں میں گھرا ہوا ہے اس کے ترقی میں پیچھے رہ جانے کی بڑی وجہ یہی ہے کہ یہاں اختیارات سے تجاوز اور ناجائز استعمال ہوتا رہا ہے کہا: 13 سال تک ہم اسی کا شکار اور سخت کرب میں مبتلا رہے لیکن اب طے کرنا ہوگا کیا اس ملک میں یہی استیصالی ،جھوٹ، بدنیتی، منافقت اورزور و زر پر مبنی نظام چلے گا یا پھر سچ اور دیانتداری کو رائج کیا جائے گا تاکہ ملک صحیح معنوں میں ایسی فلاحی مملکت بن سکے جس کا خواب شاعر مشرق علامہ اقبال نے دیکھا اور جس کو عملی جامہ بانی پاکستان محمد علی جناح نے پہنایا تھا ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬