‫‫کیٹیگری‬ :
07 April 2016 - 15:59
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 9237
فونت
قائد انقلاب اسلامی :
رسا نیوز ایجنسی ـ قائد انقلاب اسلامی نے کہا : مزاحمتی معیشت کی پالیسیوں کے اجراء کے لئے داخلی توانائیوں اور صلاحیتوں پر تکیہ کیا جانا چاہئے۔
قائد انقلاب اسلامي


رسا نیوز ایجنسی کا قائد انقلاب اسلامی کی خبر رساں سائیٹ سے منقول رپورٹ کے مطابق قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے عید نوروز کی مناسبت سے ملاقات کے لئے آنے والے کابینہ کے ارکان، پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی کی صدارتی کمیٹی کے ارکان، عدلیہ کے عہدیداران اور بعض دیگر محکموں کے حکام سے خطاب کرتے ہوئے عہدیداروں کا شکریہ ادا کیا اور مزاحمتی معیشت کے نفاذ کے لئے حکومت کی مربوط مساعی اور مشقتوں کی قدردانی کرتے ہوئے زور دیا کہ ان پالیسیوں کے نفاذ کے لئے ملک کے حکام کے درمیان یکجہتی اور ہمدلی و ہم زبانی بہت اہم ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ استقامتی معیشت کی مرکزی کمان کو چاہئے کہ مجریہ اور خود محترم نائب صدر کی قیادت میں تمام محکمہ جات کا تعاون اور مدد حاصل کرے، مختلف شعبوں کی کارکردگی اور پیش قدمی پر گہری نظر رکھے اور داخلی پیداوار کی سنجیدگی کے ساتھ پشت پناہی کرتے ہوئے مزاحمتی معیشت کے تحت 'اقدام و عمل' کو عملی جامہ پہنانے کے مقصد سے ہمہ جہتی اور ہمہ گیر اقدام کی زمین ہموار کرے۔

قائد انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ مزاحمتی معیشت میں اقدام اور عمل اس انداز سے ہونا چاہئے کہ سال ختم ہونے پر مختلف شعبوں کی متعلقہ کارکردگی کی صحیح اور واضح رپورٹ پیش کرنا ممکن ہو۔ آپ نے فرمایا کہ اجرائی اداروں کا پورا نظام مزاحمتی معیشت کی پالیسیوں کے اجراء کی توانائی رکھتا ہے اور پارلیمنٹ کو بھی چاہئے کہ اس سلسلے میں حکومت کی مدد کرے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ہم حکومت سے بہت زیادہ توقعات نہیں وابستہ کر رہے ہیں اور ہمیں وسائل اور بجٹ کی کمی اور مشکلات کا بھی اندازہ ہے، لیکن بعض شعبوں میں کفایت شعاری کرکے بعض دیگر شعبوں کی کمیوں اور خلا کو دور کیا جا سکتا ہے۔

آیت اللہ العظمی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ملک کے اعلی عہدیداران بڑے تجربہ کار، چنندہ اور فکر و عمل اور جوش و جذبے سے سرشار افراد ہیں، آپ نے فرمایا کہ مرکزی کمان جو فکر کا بھی مرکز ہے اور عمل کا بھی محور ہے ملک کے اندر موجود بہترین انتظامی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرے اور فیصلہ سازی اور اجرائی مراحل کے لئے مختلف محکموں کی توانائیوں اور صلاحیتوں کو بروئے کار لائے۔

قائد انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ ملک کو چلانا جس کی ذمہ داری حکومت اور خود صدر محترم کی ہے بیحد دشوار کام ہے، آپ نے فرمایا کہ صدر محترم کی حد درجہ مصروفیات کے پیش نظر نائب صدر جو ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں مزاحمتی معیشت کی اعلی کمان کے تعلق سے خاص کردار ادا کر سکتے ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے زور دیکر کہا کہ حکومت، پارلیمنٹ اور عدلیہ میں جو بھی اقدام عوام کے مفادات کے لئے اور انکی مشکلات کے ازالے کی خاطر ہو اس کی بھرپور حمایت کروں گا، لیکن یہ نظر آنا چاہئے کہ جو کام انجام دیا جا رہا ہے وہ قومی مفادات کے حق میں اور ضروری ہے۔

قائد انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ مزاحمتی معیشت کی پالیسیوں کے اجراء کے لئے داخلی توانائیوں اور صلاحیتوں پر تکیہ کیا جانا چاہئے۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے امریکا کو بداخلاقی اور بد عملی کا مظہر قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ امریکیوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا اور امریکیوں کے علاوہ کچھ دوسرے مغربی ممالک بھی ایسے ہی ہیں، لہذا ہمیں خود اپنی توانائیوں پر تکیہ کرنا چاہئے اور امریکی حکام کے موقف اور اقدامات سے بھی اس نظرئے کی تصدیق ہوتی ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ اگر ہم صدق دلی سے میدان عمل میں اتریں گے تو یقینا اللہ تعالی بھی ہماری مدد و اعانت کرے گا۔ آپ نے فرمایا کہ ذاتی اور سماجی زندگی میں ہمیشہ نشیب و فراز اور سختی و گشائش کا سلسلہ رہتا ہے، تاہم سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر طرح کے حالات میں اصلی راستہ اور سمت فراموش نہ ہونے پائے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے پیداوار کی حمایت و پشت پناہی کے مسئلے پر پوری سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینے پر زور دیا اور فرمایا کہ صنعت اور زراعت دونوں ہی شعبوں پیداوار پر خاص توجہ دی جانی چاہئے۔

قائد انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ حکام کی ہمدلی و ہم زبانی مزاحمتی معیشت کا مقدمہ ہے، آپ نے زور دیکر کہا کہ حکام کے تعاون کے بغیر کام آگے نہیں بڑھے گا۔

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس ہمیشہ قومی اتحاد کی نعمت رہی ہے، تاہم قومی یکجہتی کے ساتھ ہی حکام کی آپسی ہمدلی و یکجہتی بھی ضروری ہے اور یہ یکجہتی، نظریات اور پسند کے اختلاف سے متصادم بھی نہیں ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج کی اس ملاقات کو بھی حکام کے باہمی انس و محبت اور ہمدلی و ہم زبانی کا آئینہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ گوناگوں نظریوں اور پسند کے حکام کو چاہئے کہ کلیدی و انقلابی اہداف کی ہی سمت میں آگے بڑھیں۔

قائد انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ آج ملک میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ تینوں شعبوں کے عہدیداران اور اسلامی نظام کے حکام طریقوں اور روشوں کے اختلاف کے باوجود انقلاب کے اصلی اہداف کے بارے میں یکساں نظرئے اور رائے کے حامل ہیں۔

آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنی گفتگو کے دوران عہدیداران کے اہل خانہ اور خاص طور پر ان کی بیویوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ حکام کی بہت سی کاوشیں اور پر مشقت کام جو نگاہ میں آتے ہیں ان کی بیویوں کی وجہ سے ہوتے ہیں جن پر عام طر پر توجہ نہیں دی جاتی۔

اس ملاقات میں نائب صدر جناب اسحاق جہانگیری نے رہبر انقلاب اسلامی کی رہنما ہدایات اور حکومت کے لئے ان کی حمایت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ حکومت نے مزاحمتی معیشت کی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک جامع دستور العمل تیار کیا ہے اور وہ ان پالیسیوں کو ملکی معیشت کے لئے شفا بخش نسخہ مانتی ہے۔

نائب صدر جہانگیری نے کہا کہ حکومت کو مزاحمتی معیشت کی پالیسیوں پر پورا یقین ہے اور یہ پالیسیاں شرعی، قانونی اور ماہرین کی رائے، ہر اعتبار سے حکومت کے لئے قابل قبول ہیں۔

انھوں نے مزاحمتی معیشت کی اعلی کمان کے حالیہ دو اجلاسوں میں رواں ہجری شمی سال کی اقتصادی ترجیحات کے تعین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ شب ملک کے بڑے اقتصادی مراکز کے ساتھ طولانی ملاقات ہوئی اور حکومت پروڈکشن کو فروغ دینے، برآمدات میں اضافے، روزگار کا راستہ آسان کرنے اور نجی سیکٹر کی خدمات لینے کا پختہ عزم رکھتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مزاحمتی معیشت کی پالیسیوں کے نفاذ میں حکومت کی کامیابی کا انحصار دوسرے تمام محکموں اور خاص طور پر قومی نشریاتی ادارے کے تعاون پر ہے۔

اسحاق جہانگیری نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ دانش، تجربے، انتظامی توانائی و صلاحیت کے اعتبار سے جو کچھ بھی حکومت کے پاس ہے اسے مزاحمتی معیشت کے پالیسیوں کے نفاذ میں استعمال کرنے سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

اس اہم گفتگو سے قبل عہدیداران نے قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی امامت میں نماز ظہرین ادا کی۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬