‫آکارئیو‬
از تاریخ:
تا تاریخ:
تعداد ‫نتائج‬:
1 صفحه

عید

ویسے تو ہمارے یہاں خوشی کی تاریخیں بہت سی ہیں اور لوگ اپنے اپنے اعتبار سے خوشی مناتے بھی ہیں اور ہر خوشی کے منانے کا انداز الگ اور جد ا ہوتاہے، کچھ خوشیاں  ایسی ہیں جنھیں  کچھ لوگ  مناتے ہیں اور کچھ لوگ نہیں مناتے ہیں، کچھ خوشیاں مخصوص ہیں ۔

فطرت کا فطری قلم

بات ۱۹۷۲ ء یا ۱۹۷۳ ء کی ہوگی جب میں نے ’’ بلٹز ‘‘ ہفتہ وار اخبار بمبئی کو اپنے شہر اُترولہ میں پڑھنا شروع کیا تھا۔ بلٹز کی تمام خبروں ،تبصروں و نگارشات اور کالموں سے زیادہ مجھے حسن عباس فطرت ؔ کا ’’سفرنامہ ‘‘ بہت ہی اچھا لگتا۔

بیت المقدس اسلام کا قبلہ اول

بیت المقدس مغربی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے شمال میں واقع ہے ۔یہ شہر’’یہود‘‘کے پہاڑوں پر واقع ہے جو پانی کو مشرق میں اردن کی کھاڑی اور مغرب میں دریائے مدیترانہ کے درمیان تقسیم کرنے والا ہے ۔ یہ شہر دو پتھریلی پہاڑیوں پر واقع ہے ۔

فلسطین اور انقلاب کی آہٹ

فلسطین تمام مشہورادیان آ سمانی جیسے اسلام ؛یہودیت ؛ اور عیسائیت کے لیے یکساں طور پرمحترم ومقدس ہےاور آبادی کے تناسب کے لحاظ سے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہیں عیسائی اور یہودی بھی رہتے ہیں ہرچند ان کی تعداد مسلمانوں کے مقابلہ میں کم ہے

وداع ماہ مبارک رمضان

سال میں جتنے بھی مہینے ہیں سب میں کوئی نہ کوئی خاص اور اہم تاریخ ہوتی ہے ، ہر مہینہ اپنے اعتبارسے ایک خاص اہمیت اور فضیلت کا حامل ہوتاہے ، کوئی مہینہ خوشی لے کے آتا ہے تو غم ،اور کوئی خوشی اور غم دونوں لے کے آتا ہے۔

یوم قدس! ظالموں سے نفرت اور مظلوموں کی حمایت کا دن

نفس نبی امیرالمومنین علیہ السلام نے سبطین رسول حسنین کریمین علیھماالسلام کو وصیت فرمائی : و قولا بالحق و اعملا للاجر و کونا للظالم خصما وللمظلوم عونا۔ حق بولو، اجر الہی کی خاطر عمل کرو، ظالم کے دشمن اور مظلوم کے ہمدرد اور مددگار رہو۔

امام علی کی شھادت اور وصیت

قتل ایک عربی لفظ ہے جس کا اردو اور فارسی دونوں ہی میں استعمال ہے ، اس کے معنی موت ، حیات کا خاتمہ یا نابودی ہے ، راغب اصفھانی مفردات قران میں تحریر فرماتے ہیں، القتل: ازالۃ الروح عن الجسد کالموت ؛ روح کا جسم سے نکلنا جیسے کہ موت ۔

حضرت علی علیہ السلام اور اخلاص

ہم میں سے بہت سے لوگ ہیں جو اپنی زندگی میں بہت سے نیک اور اچھے اعمال انجام دیتے ہیں، اور بعض تو واقعا بہت ہی زیادہ راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں اور دوسروں کی مدد کرتے ہیں ابھی موجودہ حالات میں بہت سے اللہ والے ایسے ہیں جو دوسروں کی مدد کررہے ہیں۔

دعائے ابو حمزہ ثمالی

گر دیکھا جائے تو انسان اپنی زندگی میں کسی نہ کسی مشکل یا پریشانی میں گرفتار رہتا ہے بلکہ یوں کہا جائے کہ انسان کی پوری زندگی مشکلات اور پریشانیوں سے گھری ہوئی ہوتی ہے، کبھی مشکلیں کم ہوتی ہیں اور کبھی زیادہ ہوتی ہیں لیکن ہوتی ضرور ہیں۔

کیا عزاداری اور یوم القدس رسم ہیں؟

 آج اسرائیل، امریکہ اور انکے حواری چاہتے ہوئے بھی مسئلہ فلسطین کو خاموش کرنے سے قاصر ہیں۔ اس میں یوم القدس کے ذریعے ہونیوالی عوامی بیداری کا ایک بڑا حصہ ہے۔ اس عالمی دن جسے امام خمینی نے یوم اللہ اور یوم مستضعفین جہان قرار دیا ۔

۲۱ ویں شب قدر کے اعمال

رمضان المبارک جو با برکت و عظیم مہینہ ہے جس میں خداوند عالم اپنے روزہ دار بندے کا میزبان ہے اور اس مہینہ میں گناہیں بخشی جاتی ہیں اور اس مہینہ میں مخصوص اعمال ہیں خاص کر شب ھای قدر کی بہت اہمیت بیان کی گئی ہے اور تاکید کی گئی ہے ۔

۱۹ویں شب قدر کے اعمال

رمضان المبارک کی انیسویں رات پہلی شب قدر ہے اور شب قدر وه رات ہے که پورے سال کوئی رات اس کی فضیلت کو نہیں پہنچ سکتی ہے اوریہ رات ہزار مہینوں سے افضل اس رات کے اعمال ہزار مہینه کے اعمال سے بہترہیں اور اس رات میں سال کے امور مقدر ہوتے ہیں ۔

شب قدر

 یوں تو پورے سال میں بہت سی راتیں ہیں لیکن سب ایک جیسی نہیں ہیں ان میں سے بہت سی ایسی راتیں ہیں جن کی اہمیت اور فضیلت دوسری راتوں سے زیادہ ہے ،جتنی بھی  فضیلت والی راتیں ہیں سب کے اپنے مخصوص اعمال ہیں جنھیں کتا بوں میں ذکر کیا گیا ہے۔

صلح امام حسن علیہ السلام کے چودہ سو سال

سر دست شہزادہ صلح وشجاعت امام حسن مجتبی علیہ السلام جو بہت سے ذاتی اور صفالات و کمالات میں ممتاز ہونے کے ساتھ اپنے لازوال کارناموں میں بھی منفردہیں جن میں عبادت' علم شجاعت 'جواں مردی جودوسخاوت 'اخلاق وادب.... سب شامل ہیں ۔

أم المؤمنین حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا

آج اگر ہم اسلام پہ نظر ڈالیں تو پوری دنیا میں پھیلا ہوا نظر آتا ہے اور مسلمان بھی پوری دنیا میں کافی تعداد میں نظر آتے ہیں، لیکن اگر ہم اسلام کی ابتدائی تاریخ کو پڑھیں اور اس پہ نظر ڈالیں تو ہم کو پتہ چلے گا کہ اسلام کی شروعات کتنی مشکل اور سخت تھی۔

ام المومنین حضرت خدیجہ(س)

بعثت کے دسویں برس یک بعد دیگرے دو ایسے عظیم حادثے رونما ہوے جس سے حضور سرور انبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ شدید رنجیدہ و غم زدہ ہوے۔ اور یہ ایسے غم تھے جس کا اظہار تا حیات فرمایا جیسا کہ تاریخ میں ذکر ہے۔