05 September 2013 - 13:55
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 5886
فونت
جان کیری:
رسا نیوز ایجنسی – امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے واشنگٹن میں شام پر حملہ سلسلہ سے منعقد خارجہ امور کمیٹی کا اجلاس میں ارکان سے خطاب میں کہا: حملہ نہ کیا تو ایران اور حزب اللہ جری ہوجائیں گے ۔
جان کيري

 

رسا نیوز ایجنسی کی اردو ٹائمز اور جیو اردو سے رپورٹ کے مطابق، واشنگٹن میں شام پر حملہ سلسلہ سے منعقد خارجہ امور کمیٹی کا اجلاس میں ارکان سے خطاب میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور وزیر دفاع چک ہیگل نے تاکید کی: شام پر حملہ نہ ہونے کا علاقہ پر غلط اثر پڑے گا، ایران اور حزب اللہ مزید جری ہوجائیں گے ۔


جان کیری نے اس بات کو واضح کرتے ہوئے کہ امریکا کی بری فوج کو شام میں براہ راست لڑنے اور وہاں کی خانہ جنگی میں الجھنے کے سلسلہ میں صدر جمھوریہ باراک اوباما کا کوئی ارادہ نہیں کہا: صدر جمھوریہ باراک اوباما نے بشار الاسد کی کیمیاوی ہتھیاروں کی مبینہ صلاحیت کو کم کرنے اور اس کے استعمال سے باز رکھنے کے لئے کانگریس سے اختیار مانگا ہے۔


انہوں ںے مزید کہا: اگر امریکہ شام کیخلاف فوجی کارروائی کرنے میں ناکام رہا تو ایران، حزب اللہ اور امریکہ کے دیگر دشمنوں کو خطرناک پیغام ملے گا، یا کم ازکم وہ امریکی عزائم کا غلط مطلب نکال سکتے ہیں ۔


یئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارٹن ڈیمسی نے بھی جان کیری کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا : شام پر حملہ کا مقصد حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ بشار الاسد کی کیمیاوی حملوں کی مبینہ صلاحیت کو گھٹانا ہے ۔


وزیر دفاع چک ہیگل نے اس اجلاس میں تقریر کے دوران دعویٰ کیا : فرانس، ترکی، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی اتحادی ممالک شام کے خلاف فوجی کارروائی میں ہر قسم کی حمایت کے لئے تیار ہیں ۔


دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ کی تقریر کے دوران جنگ مخالف مظاہرین نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے کہا: امریکہ کو نئی جنگ کے اغاز سے گریز کرنا چاہئے کیوں کہ علاقہ کی دو جنگوں میں امریکا نے منفی اثرات چھوڑے ہیں ۔ 


 واضح رہے کہ امریکی کانگریس میں مشرق وسطٰی میں ایک نئی جنگ چھڑنے کے بارے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، اس کے باوجود امریکی صدر باراک اوباما شام پر حملے کے لئے کانگریس کے بعض گروہوں کے رہنماوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔


امریکی سینیٹ میں Robert Menendez اور Bob Corker جیسے اہم ڈیموکریٹک اور ریپبلکن اراکین نے شام پر محدود حملے کی قرارداد کی حمایت کردی ہے جس کے بارے جلد ہو ووٹنگ ہوگی ۔


قرارداد کے مسودے کے مطابق شام پر محدود حملے کیلئے ساٹھ دن کی مہلت رکھی گئی ہے، جس میں ضرورت پڑنے پر مزید تیس دن کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ اس قرارداد کے مطابق شام کے خلاف فوجی کارروائی محدود ہوگی نیز قرارداد کے مسودے کے مطابق شام کی سرزمین میں امریکی فوجیوں کے داخلے کو ممنوع  قرار دیا گیا ہے ۔


امریکی صدر جمھوریہ باراک اوباما شام پر حملے کیلئے امریکی مجلس نمائندگان کے اہم ریپبلکن اراکین کی حمایت حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوگیے ہیں۔


امریکی مجلس نمائندگان کے اسپیکر جان بینر نے منگل کے روز وائٹ ہاوس میں صدر اوباما سے ہونے والی ملاقات کے بعد اعلان کیا کہ وہ شام پر حملے کیلئے باراک اوباما کی درخواست کی حمایت کرینگے۔


امریکہ میں ہونیوالے چند سرویز کے مطابق امریکی عوام کی اکثریت شام کے خلاف فوجی کارروائی کی مخالف ہے، ایک جدید سروے کے مطابق جو واشنگٹن پوسٹ اور بی بی سی نے مشترکہ طور پر کیا ہے، ہر دس امریکیوں میں سے چھ امریکیوں نے شام پر ہوائی حملے کی مخالفت کی ہے۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬