رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق جامعۃ المصطفی العالمیہ میں علمی فیکیلٹی کے ممبر نے ایران کے مقدس شہر قم کے حسینیہ امام خمینی (ره) میں امام حسین علیہ السلام کے عزاداروں کے درمیان منعقدہ مجلس میں خطاب کرتے ہوئے واقعہ عاشورہ کے بعد شام کے لوگوں کے حالات بیان کرتے ہوئے کہا : شام کے لوگوں کو اہل بیت (ع) کے سلسلہ میں ضروری معلومات نہیں تھے اور یہی وجہ تھی کہ ان لوگوں نے حمایت نہیں کی ۔
انہوں نے شام میں معاویہ کی اپنی چالیس سالہ حکومت میں فعالیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : معاویہ نے اپنے دوران حکومت میں حکم دیا تھا کہ مساجد میں حضرت علی (ع) کو برا کہا جائے اور ان کی شان میں گستاخی کی جائے دوسری طرف امام زین العابدین سید سجاد (ع) و حضرت زینب (س) نے کوشش کی کہ شام کے لوگوں کو اہل بیت (ع) کی شناخت کرائی جائے اور اس سلسلہ میں حضرت علی علیہ السلام کی حدیثیں نقل کرتے تھے ۔
حوزہ علمیہ و یونیورسیٹی کے استاد نے اس بیان کے ساتہ کہ امام زین العابدین علیہ السلام شام میں اپنے خطبہ میں اہل بیت (ع) کی چھ خصوصیت بیان کی اور ان کی شخصیت کے سات اہم گوشہ بیان کئے وضاحت کی : آئمہ اطہار (ع) کی پہلی خصوصیت ان کا علم ہے ۔
حوزہ علمیہ کے مشہور خطیب نے آئمہ اطہار (ع) کے علم کو دوسرے علماء کے علم سے فرق جانا ہے اور اظہار کیا : اہل بیت (ع) علم الکتاب کے مالک تھے یعنی قرآن کی تفسیر اور اس کی تائویل کا علم ان کے پاس تھا ۔