‫‫کیٹیگری‬ :
09 January 2014 - 16:28
News ID: 6308
فونت
آیت الله مصباح یزدی کے درس اخلاق میں بیان ہوا ؛
رسا نیوز ایجنسی ـ آیت الله مصباح یزدی نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ ہم لوگوں کو کیا کرنا چاہیئے تا کہ ہم لوگوں کے دل میں خدا کی محبت زیادہ ہو بیان کیا : انسان فطری طور پر جانتا ہے کہ محبوب کی محبت حاصل کرنے کے لئے کچھ کام کرے جو اس کی خوشی کا سبب ہو اور ایسے امور جو اس کے مورد پسند نہ ہو اس کو انجام نہ دے اس سے دوری اختیار کرے ، خدا کی محبت تک پہوچنے کا بھی یہی راستہ ہے ۔
آيت الله مصباح يزدي


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق امام خمینی (ره) تعلیمی و تحقیقی ادارہ کے صدر آیت الله محمد تقی مصباح یزدی نے گذشتہ شب قائد انقلاب اسلامی کے قم آفس میں اس سوال کے جواب میں کہ کیا کریں تا کہ خدا کی محبت میں اضافہ ہو اظہار کیا : اگر انسان چاہتا ہے کسی سے دوستی کرے اور اس سے رابطہ دوستی برقرار رکھے تو کیا کرتا ہے ؟

انہوں نے وضاحت کی : انسان فطری طور سے اس راستہ کو حاصل کر سکتا ہے ؛ سب جانتے ہیں دوستی کے تعلقات کے لئے کچھ کرنا چاہیئے کہ جو اس کے محبوب کی خوشی کا سبب بنے ، اسی طرح محبت کرنے والا اپنے عیوب کو چھپاتا ہے تا کہ محبوب کو اس کے اس عیب کی خبر نہ ہو سکے ، اگر کوئی ایسا کام کیا جو محبوب کے پسند کی نہ ہو تو اپنے اس عمل کی معافی مانگتا ہے اور اس کی بھرپائی کرنے لگتا ہے تا کہ اس کی دوستی کو نقصان نہ پہوچے ؛ خدا سے رابطہ کے لئے بھی ایسا ہی کرنا چاہیئے ۔

حوزہ علمہ قم میں اخلاق کے مشہور و معروف استاد نے اس تاکید کے ساتھ کہ محبت کرنے والا چاہتا ہے کہ اس کا محبوب بھی اس کو دوست رکھے بیان کیا : محبت کرنے والا مسلسل کوشش کرتا ہے کہ اس کی محبت دو طرفہ ہو اور جیسا کہ اس کے پہلے جلسہ میں بیان کیا ہے کہ اس طرح کا رابطہ اس وقت ہو سکتا ہے کہ دو طرف ایک دوسرے کو پسند کرتے ہوں یعنی محبوب میں وہ کمال پایا جاتا ہے کہ محبت کرنے والوں کے جذب کا سبب ہوتا ہے ۔

دنیوی محبت کے نقصانات

امام خمینی (ره) تعلیمی و تحقیقی ادارہ کے صدر نے دنیوی محبت کے نقصانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : دنیا کی محبتین کبھی باقی رہنے والی نہیں ہیں ؛ ماں باپ اورسب دوست اور ہم سب یہاں سے کوچ کرنے والے ہیں ؛ انسان کا کمال یا اس کی خوبصورتی ہمارے محبت کرنے کا سبب بنتی ہے لیکن یہ کمال و جمال ہمیشہ باقی رہنے والا نہیں ہے زمانہ کے گذرنے کے ساتھ ساتھ ختم ہو جاتی ہے ۔

حوزہ علمیہ قم میں اخلاق کے استاد نے اس بیان کے ساتھ کہ ہمیشہ انسان کمال کے ساتھ ساتھ عیب کے بھی مالک ہوتے ہیں بیان کیا : تعلق قائم کرنے کے ابتدائی دور میں محبت کرنے والا اپنے محبوب کے عیب کی طرف توجہ نہیں کرتا لیکن آہستہ آہستہ اس کی عیب سامنے آنے لگتی ہے اور کبھی یہاں تک ہوتا ہے کہ اب اس شخص میں کسی بھی قسم کا کمال نہیں دیکھتا بلکہ صرف عیب ہی نظر آنے لگتا ہے اور یہاں تک کہ دیکھا گیا ہے محبت کرنے والا اپنے محبوب کو قتل کر دیتا ہے ، کل تک جس کے لئے اپنی جان دینے کے لئے تیار تھا آج اس کی جان لے لیتا ہے ۔

آیت الله مصباح یزدی نے آیہ شریفہ «الْأَخِلاَّءُ یَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلاَّ الْمُتَّقِینَ‌« کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : قیامت کے روز وہ لوگ جو دنیا میں ایک دوسرے کے دوست تھے دشمن ہو جائے نگے کیونکہ ان کو یہ احساس ہوگا کہ یہ دوستی ان کے گناہ و مظالم کا سبب ہوا ہے ۔

انہوں نے دنیوی محبت کے دوسرے نقصانات کی وضاحت کرتے ہوئے بیان کیا : محب چاہتا ہے کہ محبوب اس کو سب سے زیادہ چاہے اور دھیرے دھیرے بات یہاں تک پہوچ جاتی ہے کہ اب وہ چاہتا ہے کہ اس کا محبوب اس کے علاوہ کسی کو نہیں چاہے ؛ یہ وہ مصیبتیں تھیں جو یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کو مجبور کیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو کوئیں میں ڈال دے ۔
 

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬