‫‫کیٹیگری‬ :
14 March 2015 - 17:31
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 7913
فونت
الازهر کو آیت الله بشیر نجفی کا پیغام؛
رسا نیوز ایجنسی - حضرت آیت الله بشیر نجفی نے اپنے پیغام میں الازھر کی جانب سے عوامی فورس پر اتھام لگائے جانے پر سخت رد عمل کا اظھار کیا ۔
شيخ بشير نجفي


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی عراق سے رپورٹ کے مطابق، مراجع تقلید نجف اشرف میں سے حضرت آیت الله شیخ بشیر نجفی نے اپنے بیان میں الازھر کی جانب سے عوامی فورس پر قتل و جنایت کی تھمت لگائے جانے پر سخت رد عمل کا اظھار کیا ۔ 


اس پیغام میں آیا ہے : ہمارے فتوے ملت اسلامیہ کو دشمنان اسلام سے نجات کے لئے ہوتے ہیں، ایسا گروہ جو یقینا شیعوں سے کہیں زیادہ سنیوں کی تکلیف و اذیت کا سبب ہے ، دشمن اسرائیل پرست افراد کے وسیلہ سے عراق کی نابودی و بربادی کے درپہ تھا ، اسی بناء پر ہم نے عراق کی دلیر عوام سے درخواست کی ملک کے خون خرابے کے مقابل قیام کریں اور اسے لگام دیں ۔


حضرت آیت الله بشیر نجفی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ عراق کے بعد دھشت گردوں کا دوسرا مقصد مصر ہے کہا: صوبہ صلاح الدین اور دیگر صوبوں کی آزادی خود اس صوبے میں مقیم سنی عوام کی درخواستوں کی بنیاد پر ہوئی ، کیوں کہ وہ دھشت گردوں کی اذیت و آزار کا شکار تھے اور انہوں نے ان کے ہاتھوں سے بہت تکلیفیں اٹھائیں تھی ، اس صوبہ کی آزادی کا حکم عراقی حکومت نے دیا ہے ، عوامی فورس کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے ۔

 

عوامی فورس شیعہ و سنی و عیسائی برادری پر مشتمل ہے  


اس مرجع تقلید نے بیان کیا: چونکہ موثر سیاسی طاقتیں، اسلامی ممالک کی ویرانی و نابودی کے حمایت کرتے ہیں حکومت نے قومی پیروزی کے لئے عوامی فورس سے درخواست کی، لھذا عوامی فورس پر کسی قسم کا اعتراض نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہ حکومت کا فیصلہ ہے، جیسا کہ مصر کی حکومت نے جولان کے شھر و دیہاتوں میں دین کے جھوٹے دعویداروں سے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے  ۔


انہوں نے اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ عوامی فورس شیعہ افراد کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ اس میں سیکڑوں سنی،عیسائی اور ایزدی بھی موجود ہیں کہا: عالمی طاقتیں عراق کی مدد کو تیار نہیں ہیں ، داعش سے لڑنے کے لئے مناسب وقت پر خریدے گئے اسلحے بھی عراق کو نہیں دئے گئے ۔


شیعہ ھرگز انتقام کے درپہ نہیں


اس مرجع تقلید نے مزید کہا: شیعہ اگر انتقال لینا چاہتے تو ڈیکٹیٹر صدام حسین کی حکومت کے گرنے کے بعد پھانسی کے تختہ پر لٹکائے گئے 40 لاکھ شیعوں کا بدلہ لے لیتے مگر ایسا نہیں ہوا، بعض پارٹیوں نے عراق کی صورت حال سے سوء استفادہ کیا اور عوام کے خلاف مذھبی جنگ چھیڑدی ، سڑکوں اور بازاروں میں عوام کا قتل کیا گیا، بات یہاں تک پہونچ گئی کہ 20 نیوز پیپر کی گاڑی میں بم فٹ کرکے شیعہ مارکیٹ میں بلاسٹ کرایا گیا مگر آپ اور دیگر مراکز کی جانب سے شیعوں کے خلاف انجام پارہی جنایت کا کوئی جواب نہیں آیا اور اس کی مذمت نہیں کی گئی ۔


انہوں نے تاکید کی : آڈی پروف اور اہل بیت اطھار(ع) کی توھین کی بنیادوں نیز جزبات کو ابھار کر شیعوں کا قتل عام گیا، مگر شیعوں نے کسی رد عمل کا اظھار نہیں کیا، وہ اسلامی سیرت و آئڈیل پر پابند رہے اور نظم وانظباط کا مظاھرہ کیا ، لھذا شیعوں کے خلاف تمام باتیں عالم اسلام کو مٹانے والوں کی جانب سے کذب محض اور ایک جھوٹا دعوا ہے ۔


حضرت آیت الله بشیر نجفی نے عوامی فورس کی جانب سے لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کئے جانے کی جانب اشارہ کیا اور کہا: یہ داعش ہے جو اہل سنت عوامی فورس سے بدلنے میں مصروف ہے ، وہ فورس جس نے آپ کے فتوے کے بعد کہ داعش کو سولی پر چڑھانا اور ان کا ہاتھ  پیر کاٹنا جائز ہے اسے جامعہ عمل پہنانا شروع کیا کیوں کہ آپ نے داعش کو محارب و مفسد فی الارض شمار کیا تھا دھشت گرد گروہ داعش اپنی دولت سے مذھبی اختلافات و جھوٹ نشر کرنے میں مصروف ہے ۔


اہل سنت کیساتھ ہونے والے برتاو  پر نگرانی اپنی شرعی ذمہ داری جانتے ہیں 


اس بیانیہ میں مزید آیا ہے : اپنی شرعی ذمہ داری کے تحت ہم نے عراقی شھریوں کے سلسلہ میں حکومت کے اقدامات کے حوالہ مکمل اطمینان حاصل کیا اور حکومت نے بھی محاصرہ شدہ شھروں سے ان شھریوں کو باہر لانے کے سلسلہ میں تمام امکانات فراہم کئے ، اس طرح کی جھوٹی باتوں کے انتشار مقصد، معتدل اسلامی مراکز کو دھوکہ دینا ہے، وہ اپنی جنایتوں کو چھپانا چاہتے ہیں ۔


اس مرجع تقلید نے تاکید کی: داعش، سنی شھریوں کے قتل عام کے ذریعہ مسلکی فتنہ کی آگ شعلہ ور کرنا چاہتے ہیں ، لھذا ہماری آپ سے درخواست ہے کہ عراقی حکومت کو اپنے ماہرین کا نام پیش کریں تاکہ وہ عراق آکر حقائق سے آشنا ہوسکیں ، ہم بھی آپ کے ساتھ رہنے کو تیار ہیں ۔


الازهر تحقیقاتی کمیٹی عراق روانہ کرے


حضرت آیت الله بشیر نجفی نے علمائے الازھر کو خطاب میں کہا: مذھبی و دینی فیصلوں میں بعض اثر انداز افراد داعش کی حمایت میں کوشاں ہیں اور اسلامی ممالک کی حکومت کو گرانے کے لئے مسلمانوں کے خلاف جنایت کے پروجیکٹ کی توسیع مصروف میں ہیں ، انہوں نے شام سے اپنے پروجیکٹ کا آغاز کیا اس کے بعد لبنان پہونچے مگر دلیروں کی استقامت سے روبرو ہوئے اور انہیں منھ کی کھانی پڑی ، اس کے بعد عراق آگئے انشاء الله عراقی بھی انہیں اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دے گا ، اور اب مصر کی باری اور پھر اس کے بعد سعودیہ عربیہ کی، مگر ہم تمام مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور اسلام کے دشمنوں کے مد مقابل کھڑے ہیں ۔


انہوں نے کہا: امید ہے کہ الازھر ہماری دعوت کو قبول کرتے ہوئے تحقیقاتی کمیٹی عراق بھیجے گا ، عراق میں اگر چہ شیعوں کی اکثریت ہے مگر قبائل اور مسلکی تھمت سے دور رہنے کے لئے ہم نے سنی و شیعہ و کرد پر مشتمل حکومت تشکیل دی ، اس کے باوجود ہم دیکھ رہے ہیں کہ عرب دنیا شیعوں کے اس کرم اور اپنے حقوق سے دستبرداری پر قانع نہیں ہیں ۔

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬