06 May 2015 - 11:37
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 8110
فونت
ایرانی عدلیہ کے سربراہ کی درخواست پر؛
رسا نیوز ایجنسی - رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایرانی عدلیہ کے سربراہ کی درخواست پر بعض قیدیوں کی بخشش اور قید کی مدت میں کمی سے موافقت کی ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامي


رسا نیوز ایجنسی کی رھبر معظم انقلاب اسلامی ایران کی خبر رساں سائٹ سے رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے عدلیہ کے سربراہ آیت اللہ آملی لاریجانی  کی طرف سے  مولود کعبہ حضرت علی علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے بعض قیدیوں کی سزا معاف اور قید کی مدت میں کمی کرنے کی  درخواست  کے ساتھ موافقت کی  جن کی سزا کی مدت بتاریخ  12/2/1394 ہجری شمسی تک  فائنل ہوگئی اور جنھیں معافیت اور سزا کی کمی کا مستحق قراردیا گیا ہے۔

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی کے نام عدلیہ کے سربراہ کے خط کا متن حسب ذیل ہے:

 

محضر مبارک حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای " ادام اللہ ظلہ الوارف "

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی

 

با ہدیہ سلام اور تحیات

 

احترام و ادب اور تیرہ رجب حضرت مولی الموحدین امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے بنیادی آئین کی دفعہ 110 کی شق نمبر 11 کے نفاذ کے سلسلے میں عفو و بخشش کے شرائط اور ضوابط آپ کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں ، تاکہ حضرت عالی کی موافقت و منظوری کے بعد عوامی عدالتوں ،انقلابی عدالتوں اور مسلح افواج کی عدالتوں سے 12/2/1394 تک سزا پانے والے جن قیدیوں کی سزاؤں میں مقررہ شرائط و ضوابط کے مطابق کمی اور بخشش کی تشخیص دی گئی ہے وہ سزاؤں میں بخشش اور کمی کے سلسلے میں اسلامی رافت و رعایت سے بہرہ مند ہوسکیں۔

 

الف :جیل میں قید کی سزا کاٹنے والے قیدی:

 

1: قیدیوں کی باقی ماندہ سزا کی مدت ایک سال تک ۔

 

2: ایک سے پانچ سال تک سزا پانے والے قیدیوں کی سزا میں ایک سوم۔

 

3: پانچ سے پندرہ سال تک سزا پانے والے قیدیوں کی سزا میں ایک دوم ۔

 

4: پندرہ سال سے بیس سال تک کی سزا کاٹنے والے قیدیوں کی  ایک دوم سزا ، اگر ایک سال سزا کاٹ چکے ہوں۔

 

5: بیس سال سے زیادہ کی سزا کاٹنے والے قیدیوں کی  ایک دوم سزا ، اگر کم سے کم پانچ  سال سزا کاٹ چکے ہوں۔

 

6: عمر قید کی سزا کاٹنے والے قیدیوں کی باقی سزا ، اگر وہ کم سے کم 15 سال سزا کاٹ چکے ہوں۔

 

7: تعزیرات و انسداد کے مجوزہ اسلامی قانون مؤرخہ 2/3/1375 کی شق 718 اور 719 کے علاوہ ، غیر عمدی جرائم کا ارتکاب کرنے والے تمام قیدیوں کی باقی ماندہ سزا۔

 

8 : اولاد کی سرپرستی کرنے والی خواتین کی باقی ماندہ دس سال تک کی سزا۔

 

9: صعب العلاج قیدیوں اور مسری بیماریوں میں مبتلا قیدیوں کی باقی ماندہ سزا، جنکی بیماری 31/4/1394 تک قانونی ڈاکٹر تائید کرچکے ہوں اور مذکورہ افراد کمیشن کے مطابق سزا برداشت کرنے پر قادر نہ ہوں۔

 

ظاہر ہے کہ کورٹ کے اقدامات عوامی اور انقلابی عدالتوں کے ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 291 کے نفاذ میں رکاوٹ نہیں ہیں۔

 

10 : 18 سال سے کم عمر قیدیوں کے نقدی جرمانہ اوراصلاحی اور تربیتی مراکز میں ایک سال سے زیادہ نگہداری یا قید کی چہار پنجم سزا ۔ صوبائی مراکز کے قانونی ڈاکٹروں کی تائید کے بعد تحریری اسناد کے مطابق اور غیر ملکی افراد کی معتبر اسناد نہ ہونے کی صورت میں۔

 

11: 65 سال سے اوپر کے مرد قیدیوں اور 55 سال سے اوپر خواتین قیدیوں کے نقدی جرمانہ اور سزا کی باقی ماندہ مدت ، تحریری اسناد کے مطابق اور غیر ملکی قیدیوں کی معتبر سند کے فقدان کی صورت میں اور صوبائی مراکز کے قانونی ڈاکٹروں کی تائید کے بعد بشرطیکہ ایک سال سے زیادہ قید کی سزا ایک پنجم اور عمر قید کی سزا کم سے کم پانچ سال تک کاٹ چکے ہوں۔

 

نوٹ: اس دستور العمل میں درج مستثنیات کا اطلاق شمارہ 8 ، 9 ،10 اور 11 شقوں کے قیدیوں کی قید کی سزا کے علاوہ اگر نقدی جرمانہ بھی ہو تو ان کا نقدی جرمانہ بھی معاف ہوجائے گا۔ر نہیں ہوگا۔

 

ب : وہ قیدی جو نقدی جرمانہ ادا کرنے سے قاصر ہونے کی بنا پر قید ہیں:

 

1: پانچ سو ملین ریال نقدی جرمانہ کی باقی ماندہ سزا۔

 

2: پانچ سوملین اور ایک ریال سے لیکر ایک ارب ریال تک نقدی جرمانہ کی چہار پنجم سزا۔

 

ج: بخشش اور عفو سے استفادہ کے شرائط:

 

1: فوجداری سزا کے دو سے زیادہ موارد کا نہ ہونا۔

 

2: سزا کے دوران یا چھٹی کے ایام میں اسلامی سزاؤں کے قانون کی آرٹیکل 19 میں مندرج ایک سے چھ درجہ کی سزاؤں مجوزہ 1/2/1392 کا عمدی طور پرعدم ارتکاب۔

 

3: خاص مدعی و شاکی کا نہ ہونا، یا اس کی رضایت حاصل کرنا یا خصوصی شاکی اور مدعی کےنقصان کی تلافی کرنا ( چاہے اشخاص حقیقی یا حقوقی ہوں) 31/4/1394  تک

 

4) گذشتہ اور موجودہ سزاؤں میں عفو اور بخشش سے عدم استفادہ

 

نوٹ: عمدی قتل کے علاوہ جرائم میں خصوصی شاکی کی رضایت ضروری نہیں اور عفو کے نفاذ میں رکاوٹ نہیں ہے۔

 

د: مندرجہ ذیل مجرمین اس عفو اور بخشش سے مستثنی ہیں:

 

1: مسلح ڈکیتی اور چوری کرنے والے افراد یا اذیت و آزار پہنچانے والے افراد جن کی سزا پانچ سال سے زیادہ ہو۔

 

2: منشیات کے مسلح اسمگل یا منشیات میں عمدا ملوث افراد ، جو انسداد منشیات کے اصلاحی قانون کی آرٹیکل 4 کی شق 4، 6 اور آرٹیکل 8 کی شق 5، 6 اور اس کے ملحقہ موارد کے مطابق ہوں۔

 

3: ہتھیاروں کی اسمگلنک میں ملوث مجرمین

 

4: داخلی اور خارجی امن و سلامتی کے خلاف اقدام کرنے والے مجرمین

 

5: اغوا

 

6 : تیزاب پھینکنے والے مجرمین

 

7: ناموس پر تجاوز

 

8: فساد و فحشاء کے مراکز قائم کرنے والے مجرمین

 

9: غبن، رشوت ستانی اور دھوکہ دہی میں ملوث مجرمین

 

10: جعلی کرنسی اور جعلی سکہ ضرب کرنے والے مجرمین

 

11: منی لانڈرنگ میں ملوث مجرمین

 

12:  اقتصادی نظام میں خلل ایجاد کرنے والے مجرمین

 

13: شراب سے متعلقہ جرائم میں ملوث مجرمین

 

نوث : اس حصہ کی شق 1، 2 ، 3، 6  اور 12 کے جرائم کے معاونین بھی عفر شامل ہونے سے مستثنی ہیں۔

 

والامر الیکم والسلام علیکم و رحمه الله و برکاته


صادق لاریجانی


27 اپریل 2015 عیسوی

 

بسمہ تعالی

 

با سلام و تحیت اور تبریک

 

جناب عالی کی تجویز اور پیشنہاد سے موافقت کی جاتی ہے۔

 

والسلام علیکم و رحمه الله


سید علی خامنه ای


3 مئی 2015 عیسوی

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬