04 November 2015 - 16:22
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 8648
فونت
رسا نیوز ایجنسی – منفی تعصب کے خاتمے کے لئے جو ابتدائی ترین کام اہل مذہب کو کرنا ہے، وہ ہے ’’دوسروں کے مقدسات کا احترام۔‘‘ تعصب کے خاتمے کا کم از کم تقاضا یہی ہے۔ اس کی تلقین خود مذہبی راہنماؤں کو کرنا ہے اور اس کی پاسداری کا اہتمام بھی سب سے پہلے انہیں کو کرنا ہے۔ یہ کام صرف ایسی کانفرنسوں، محفلوں اور مذاکروں میں نہیں ہونا چاہیئے کہ جہاں دیگر مذاہب اور مسالک کے لوگ بیٹھے ہوں، بلکہ ان محفلوں میں ایسا کرنا زیادہ ضروری ہے جہاں کسی مذہبی راہنما کے ہم مسلک لوگ موجود ہوں
ثاقب اکبر


تحریر: ثاقب اکبر


جیسا کہ ہم نے ’’تعصب: خلق خدا کی نظر میں‘‘ کے زیر عنوان ذکر کیا کہ گذشتہ دنوں (اکتوبر 2015ء کے آخر میں) اسلام آباد میں ایک ڈسکشن فورم نے تعصب کے موضوع پر مذاکرے کا اہتمام کیا۔ اس سلسلے میں ہم مختلف احباب کی آرا کا خلاصہ ان کے اسماء کے تذکرے کے بغیر پیش کرچکے ہیں۔ فورم کے میزبان محترم نے تلخیص افکار ان الفاظ میں پیش کی ہے:  ’’شرکاء کی رائے تھی کہ تعصب منفی بھی ہوسکتا ہے اور مثبت بھی۔ تعصب جب تفاخر کا باعث بنے تو پھر یہ منفی سوچ، نفرت، تفریق اور تشدد کا باعث بنتا ہے۔ پاکستان میں مذہبی، نسلی، لسانی اور قومیت پر مبنی تعصبات کہیں غیرت و حمیت، کہیں قوت و اختیار اور کہیں احساس محرومی اور مظلومیت کے تصور کے تحت مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔ شرکاء نے تعصبات کے اثرات میں سے باہمی منافرت، سماجی تفریق، فرقہ واریت، تشدد اور انتہاپسندی سے متعلق اپنے تجربات اور مشاہدات کا تبادلہ کیا۔ تعصبات کے اسباب پر مختلف آراء سامنے آئیں، جن میں آئین کے ذریعے شہریوں میں تفریق، ریاستی پالیسیاں، تعلیمی نظام و نصاب، ثقافتی اسباب، نسل، زبان، مذہب اور قومیت کی بنیاد پر شدت پسندی وغیرہ پر شرکاء نے تبادلہ خیال کیا۔


تعصبات سے نمٹنے کے لئے جو تجاویز سامنے آئیں، ان میں اس موضوع پر پہلے سے ہونے والے کام اور لٹریچر سے آگاہی اور ان تک رسائی، تعلیمی نصاب سے نفرت انگیز مواد کا اخراج، اساتذہ کی جدید خطوط پر تربیت، سماجی علوم میں فلسفہ کے مضمون کی شمولیت، تاریخ کی تعبیر نو، ملک میں مختلف ریاستوں کی مذہبی و سیاسی مداخلت کا سدباب، احترام، رواداری اور تنوع جیسی سماجی اقدار کا فروغ اور مختلف طبقات کے درمیان سماجی تعامل اور مکالمے کے ذریعے مسائل حل کرنا شامل ہیں۔‘‘  تعصب کے بارے میں کچھ ہم بھی کہنا چاہتے تھے، لیکن اختصار کا بھی اختصار درکار تھا۔ چند عنوانات ہی ذکر کئے جاسکتے تھے سو کہہ ڈالے۔ ان میں سے کچھ کی بازگشت تو مندرجہ بالا پیرا میں دکھائی دیتی ہے، البتہ اب جب کہ قلم ہاتھ میں ہے اور وقت میں کچھ گنجائش بھی، ایسے میں اختصار کی تو ضرورت ہے، اختصار کے اختصار کی نہیں۔ لہٰذا آیئے ہماری چند معروضات ملاحظہ فرمایئے۔


تعصب کیا ہے؟


تعصب کی تعریف بہت مشکل امر ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ بہت سے دانشوروں کے نزدیک تعصب مثبت بھی ہوتا ہے اور منفی بھی، جیسا کہ اوپر اشارہ کیا جا چکا ہے۔ ہم نے تو یہ بھی دیکھا ہے کہ تعصب کے خلاف کام کرنے والے اور تعصب کے خاتمے کے لئے جدوجہد کرنے والے خود بھی کبھی بہت متعصب ہوجاتے ہیں، خاص طور پر اپنے ’’عدم تعصب‘‘ کے نظریئے اور موقف کے بارے میں وہ بہت متعصب ہوتے ہیں۔


منفی تعصب


تعصب کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے شاید ہم منفی سے مثبت کی طرف سفر کریں تو مسئلہ زیادہ واضح ہوسکے۔ ہمارے خیال میں منفی تعصب یہ ہے کہ اپنی رائے پر ایسا اصرار کیا جائے کہ مقابلے پر دوسروں کی رائے کو برداشت نہ کیا جائے۔  بعض لوگ اپنی رائے اور فکر کی بنیاد پر جتھہ سازی کرتے ہیں اور مقابلے پر موجود لوگوں کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی شروع کر دیتے ہیں۔۔۔ معاملہ گاہے جتھہ بندی اور منصوبہ بندی سے بھی آگے بڑھ جاتا ہے اور دوسروں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے کام شروع کر دیا جاتا ہے۔۔۔ ماضی میں خارجیت کا وجود تعصب کی اس انتہائی شکل کا ہی عکاس ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ منفی تعصب کے بھی بہت سے مراحل ہیں۔ ہوسکتا ہے کوئی بات عقیدے، فکر اور رائے کی حد تک جزوی یا کلی صداقت کی حامل ہو۔ خود کسی شخص کا اس رائے یا عقیدے کے ساتھ ’’تعصب‘‘ پیدا ہی اس کی صداقت پر یقین کی وجہ سے ہوتا ہے۔ لہٰذا تعصب کی بحث میں اصل مسئلہ نظریے یا عقیدے کی صحت و عدم صحت کانہیں بلکہ اس نظریے یا عقیدے کے روبہ عمل آنے، اس کے اظہار کے طریقے اور مقابلے میں کوئی دوسرا نظریہ یا عقیدہ رکھنے والوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے طرز عمل کا ہے۔


مثبت تعصب


یہاں سے ہم مثبت تعصب کا سراغ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر کسی شخص کو کسی مسئلے کی صداقت پر ایمان پیدا ہوجاتا ہے تو اس امکان کے ساتھ کہ اس کا نظریہ یا عقیدہ واقعاً برحق ہے تو پھر اسے اس پر قائم بھی رہنا چاہیے چونکہ ’’صداقت‘‘ اس کا حق رکھتی ہے کہ دل و جان سے اسے اختیار کیا جائے۔ بس کسی نظریئے، عقیدے یا فکر کو دل و جان سے اختیار کر لینا ’’مثبت تعصب‘‘ کہلا سکتا ہے۔ البتہ ایسی صورت میں صاحب عقیدہ کو یہ حق تو پہنچتا ہے کہ وہ اپنے عقیدے پر محکم رہے، دوسروں کے سامنے اسے دلائل کے ساتھ پیش بھی کرے اور جہاں ممکن ہوسکے مثبت انداز سے اس کی طرف دعوت بھی دے، لیکن دوسروں کو یہ عقیدہ اختیار کرنے پر مجبور کرنے کی کوئی کوشش نہ کرے، چونکہ اسی نازک مرحلے پر تعصب منفی ہو جاتا ہے۔  دنیا میں جو عظیم الشان انسانی کارنامے انجام دیئے گئے ہیں، ان میں سے زیادہ تر منفی تعصب کے سامنے سر نہ جھکانے ہی سے عبارت ہیں۔  یہاں تک کی گفتگو سے تعصب کے کچھ نازک پہلو واضح ہوسکتے ہیں۔


حسد اور رشک


تعصب گاہے ’’حسد‘‘ کی صورت میں بھی جلوہ گر ہوتا ہے۔ انسان یا انسانوں کا کوئی گروہ کبھی اپنے مخالف گروہ کی ہر ترقی پر کڑھنے لگتا ہے۔ اس کا علاج سوائے اس کے کچھ نہیں کہ مخالف کی ترقی، خوشحالی یا خیر کے پہلو کو خود اختیار کر لیا جائے، اس طرح سے ایک مسابقت وجود میں آجائے گی اور اسے ہم مثبت مسابقت کہہ سکتے ہیں۔ اردو ادبیات میں حسد کے مقابلے میں رشک کا کلمہ مثبت پہلو ہی سے استعمال کیا جاتا ہے۔


عقل انسان کا حقیقی شرف ہے


عام طور پر سطح بین لوگوں کی اپنے عقائد و افکار کے ساتھ جذباتی وابستگی ہوتی ہے۔ کسی بھی معاملے کے ساتھ جذباتی وابستگی ہی منفی تعصب کا پیش خیمہ بنتی ہے۔ ویسے بھی اگر عقلی رویوں کو فروغ دیا جاسکے اور لوگوں کو یہ باور کروایا جائے کہ اصل انسانی شرف اس کی عقل و خرد کی وجہ سے ہے تو منفی تعصب کی شدت و شرارت سے بہت حد تک محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ انسان کا یہ سمجھنا اور جاننا ضروری ہے کہ یہ عقل ہے جو اُسے دیگر تمام مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے، یہاں تک کہ اس کا ملائکہ کے مقابلے میں بھی حقیقی شرف اور امتیاز عقل ہی ہے۔ لہٰذا جب وہ عقل کو ایک طرف رکھ دیتا ہے اور اپنے فکر و عمل کی بنیاد عقل کو نہیں بناتا تو وہ شرف انسانی ہی سے محروم ہو جاتا ہے۔


تاریخ اور تعصب


عقائد عام طور پر فکر و نظر سے کم اور تاریخ میں گزرنے والی شخصیات اور واقعات سے زیادہ پھوٹتے ہیں۔ اس لئے عقیدے اور تاریخ کو جیسے جدا نہیں کیا جاسکتا، اسی طرح تاریخی شخصیات اور واقعات سے جنم لینے والے تعصب کو بھی کلی طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے باوجود ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ تاریخ اور عقیدے میں فرق رکھنے کی ضرورت ہے۔ عقیدہ تاریخ کی شخصیات اور واقعات سے جڑا ہوا ضرور ہوتا ہے، لیکن پھر بھی تاریخ تاریخ ہے اور عقیدہ عقیدہ ہے۔ مجردات تک فکر انسانی کی رسائی مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں۔ عقیدہ ایک مجرد چیز ہے، اسے واقعات اور شخصیات کی اوٹ میں یا ان سے بلند ہو کر سمجھنے اور پہچاننے کی ضرورت ہوتی ہے۔ افسوس بیشتر مذہبی راہنما اپنے پیروکاروں کو اس بلند پروازی کی اجازت نہیں دیتے۔ ان کا یہی طرز عمل منفی تعصب کا باعث بن جاتا ہے۔ تاریخ کے حوالے سے ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم کبھی تاریخ کو بدلنے کی آرزو سینے میں پروان چڑھانے لگتے ہیں اور اپنی عقیدتی یا جذباتی کیفیات میں یہ فراموش کر دیتے ہیں کہ تاریخ کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا اور تاریخ کو تبدیل کرنے کی آرزو تاریخ کی دیواروں سے سر پٹختے رہنے کے سوا کچھ نہیں۔ ہم اپنے آئندہ کو تبدیل کرسکتے ہیں ماضی کو نہیں۔ ماضی آئینۂ عبرت ہے، ہماری آرزوؤں کا خزانہ نہیں۔ تاریخ کو بیان کرنے اور تاریخی شخصیات کو اپنی منشاء کے مطابق پیش کرنے سے بھی بہت سی قباحتوں نے جنم لیا ہے۔ تاریخ لکھنے والوں نے اول تو ساری کی ساری صداقتوں کو قلم بند نہیں کیا اور ثانیاً اپنے نظریات اور عقائد کی بھی تاریخی واقعات اور شخصیات پر ملمع کاری کی ہے۔ ایسے میں تاریخ کو بطور تاریخ سمجھنا اور حقیقتوں تک پہنچنا بذات خود ایک مشکل امر ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ روایت کو سمجھنے کے لئے درایت بھی درکار ہے۔ ہمارے بہت سے تعصبات تاریخ میں کی جانے والی جعل سازیوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔


رسم و رواج اور عقائد


بعض رسم و رواج مذہبی مظاہر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لوگ اپنی عقیدتوں کے اظہار کے لئے مختلف طرح کے اعمال انجام دیتے ہیں۔ بعض اعمال تو ایسے ہیں جو بانیان مذاہب کی طرف سے پہنچے ہیں، لیکن بعض ایسے بھی ہیں جو لوگوں نے خود اپنی عقیدتوں اور عقیدوں کے اظہار کے لئے اختیار کر لئے ہیں۔ اس کی مثال مسلمانوں کے مابین نماز کی ہے۔ نماز رسول اسلامؐ سے ہم تک پہنچی ہے لیکن عرس، عید میلاد اور محافل و مجالس کی تقاریب مسلمانوں نے خود سے اپنی عقیدتوں کے اظہار کے لئے وضع کی ہیں۔ ان عقیدتوں کے اظہار کی مختلف صورتیں ہیں۔ گاہے ہم ان صورتوں کے ساتھ ایسی وابستگی اختیار کر لیتے ہیں جو بالآخر تعصب کے مظاہر بن جاتی ہیں۔ جب یہ اظہارات لوگوں کے لئے اذیت کا باعث بنیں تو ہمیں ان کے بارے میں غور و فکر کر لینا چاہیئے۔ البتہ دوسروں کے لئے اذیت کا باعث بننا ایک بات ہے اور کسی خاص گروہ کا دوسرے گروہ سے تعصب کی وجہ سے ان کی مخالفت کرنا دوسری بات ہے۔ آزادئ عقیدہ و رائے کے اظہار نیز دوسروں کے لئے اس اظہار کا باعث اذیت ہونا، ان دونوں کے مابین ایک توازن برقرار کرنا ایک مشکل عمل ہے، لیکن بہت ضروری ہے ورنہ بالآخر تصادم پیدا ہوگا جو کسی صورت مطلوب نہیں۔


شناخت، مانوسیت اور تعصب


ایک انسان متنوع شناختوں کا حامل ہوتا ہے۔ ہر شناخت کے اعتبار سے یہی شناخت رکھنے والوں کے ساتھ وہ ایک مانوسیت کا احساس بھی رکھتا ہے۔ یہ مانوسیت ایک مرحلے تک تو مثبت ہے لیکن دوسرے مرحلے میں داخل ہو کر ہوسکتا ہے منفی ہو جائے۔ ہم بات ذرا مثال کے ساتھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک شخص کی مادری زبان پنجابی ہے، وہ دوسرے پنجابی بولنے والے کے ساتھ ایک طرح کی مانوسیت رکھتا ہے۔ اس حد تک اس شناخت میں اور احساس قربت میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن اگر کسی دوسری زبان کے بولنے والوں سے نفرت پیدا ہونے لگے تو پھر یہ شناخت منفی ہو جائے گی۔ یہی صورت حال قوموں، قبیلوں، علاقوں، رنگوں اور ملکوں سے وابستگی سے جنم لیتی ہے۔ قومی تفاخر کی بنیاد پر بڑی بڑی جنگیں ظہور پذیر ہوچکی ہیں۔ لاکھوں اور کروڑوں انسان ان جنگوں میں لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔ یہ اختلافات بہرحال دنیا میں موجود ہیں اور رہیں گے، انھیں شناخت اور معرفت کی حد تک رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس شناخت اور معرفت کو دوسروں سے نفرت کی بنیاد نہیں بننا چاہیئے۔ اسی نفرت کو منفی تعصب کہتے ہیں۔


شاید اسی لئے علامہ اقبالؒ کہتے ہیں:


غبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پَر تیرے

تو اے مرغِ حرم اُڑنے سے پہلے پَر فشاں ہو جا

منفی تعصب حکمت سے محروم کر دیتا ہے
رسول اسلامؐ نے فرمایا ہے:
الحکمۃ ضالۃ المومن فحیث وجدھا فھو أحق بھا (منیۃ المرید،ص173)
حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے۔ وہ اسے جہاں بھی پائے، اس کا زیادہ حق رکھتا ہے۔
مختلف پیرائے میں امیرالمومنین حضرت علیؑ سے بھی یہی بات منقول ہے۔
 

 

اس فرمان سے یہاں دیگر کئی پہلو سامنے آتے ہیں، وہاں یہ حقیقت بھی آشکار ہوتی ہے کہ حکمت کسی ایک گروہ کے پاس مقید نہیں ہے۔ اگر انسان اپنے گروہ کے ساتھ ایسی وابستگی اختیار کرلے کہ دوسروں کو ہر حکمت سے محروم سمجھنے لگے تو پھر وہ دوسروں کے پاس موجود حکمت سے محروم ہو جائے گا اور اس کی اپنی دانش و بینش محدود ہو کر رہ جائے گی، جبکہ محدود دانش و بینش جسے انسان کامل اور مطلق سمجھتا ہو، انسان کو حقیقی کامیابی سے ہمکنار نہیں کرسکتی۔


ناموں اور اصطلاحوں کا فرق


اہل دانش سے یہ بات چھپی ہوئی نہیں کہ بعض اوقات ایک ہی حقیقت کو مختلف ناموں یا مختلف اصطلاحوں سے بیان کیا جاتا ہے۔ مختلف زبانوں کے بولنے والے ایک ہی حقیقت کو مختلف الفاظ اور مختلف حروف ابجد کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ مثلاً اردو میں جسے بھائی کہتے ہیں فارسی میں اسے برادر، انگریزی میںBrother اور عربی میں اخٌ کہتے ہیں۔ آج کل ہم اپنے ملک میں دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ جہاں بھی کلمہ ’’خدا‘‘ لکھا ہوا پاتے ہیں یا بولا جاتا ہے تو اس سے اظہار نفرت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’اللہ‘‘ کا کلمہ استعمال کیا جائے۔ اس کے لئے لسانیات کی دور دراز کی کڑیاں بھی ملائی جاتی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وہی مفہوم جو ’’اللہ‘‘ بولنے یا لکھنے سے ایک عربی مسلمان کے ذہن میں آتا ہے، عین وہی مفہوم دیگر زبانوں کے بولنے والے اپنے ہاں مستعمل کلمات سے ادا کرتے ہیں۔ اصطلاحوں اور لفظوں کی اس لڑائی نے قوموں اور ادیان کے ماننے والوں کے مابین بہت دوری پیدا کر رکھی ہے، ورنہ اگر کوئی شخص ’’ایشور‘‘ بول کر وہی معنی اور مفہوم مراد لے جو دوسرا’’ اللہ‘‘ بول کر لے رہا ہے تو اسے قربت کا ذریعہ بنانا چاہیئے نہ کہ دوری کا۔ یہ ہمارے ہاں موجود منفی تعصب کی ایک افسوسناک مثال ہے۔


دوسروں کے مقدسات کا احترام


منفی تعصب کے خاتمے کے لئے جو ابتدائی ترین کام اہل مذہب کو کرنا ہے، وہ ہے ’’دوسروں کے مقدسات کا احترام۔‘‘ تعصب کے خاتمے کا کم از کم تقاضا یہی ہے۔ اس کی تلقین خود مذہبی راہنماؤں کو کرنا ہے اور اس کی پاسداری کا اہتمام بھی سب سے پہلے انہیں کو کرنا ہے۔ یہ کام صرف ایسی کانفرنسوں، محفلوں اور مذاکروں میں نہیں ہونا چاہیئے کہ جہاں دیگر مذاہب اور مسالک کے لوگ بیٹھے ہوں، بلکہ ان محفلوں میں ایسا کرنا زیادہ ضروری ہے جہاں کسی مذہبی راہنما کے ہم مسلک لوگ موجود ہوں۔


سازشی نظریہ


جس مجلس میں تعصب کے موضوع پر گفتگو ہو رہی تھی، اس میں تعصب کو ابھارنے اور اپنے مفادات کے لئے بروئے کار لانے میں بڑی طاقتوں کے کردار کا ذکر بھی آیا ہے اور بعض احباب نے ایسی مثالیں بھی پیش کیں، جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ منفی تعصب لوگ اپنے شخصی اور ذاتی مفادات کے لئے ابھارتے ہیں۔ نفرتیں عام کرنے کا کاروبار عالمی سطح پر ہو، مقامی سطح پر یا انفرادی سطح پر، بہت خطرناک ہے۔ بعض لوگ اسے سازشی نظریہ کہہ کر نظر انداز بھی کر دیتے ہیں اور بعض اس سازشی نظریئے کے علاوہ کسی اور چیز کو درخوراعتنا ہی نہیں سمجھتے۔ ہماری رائے میں یہ دونوں طرزعمل درست نہیں ہیں۔ اپنے مفادات کے لئے دوسروں کے جذبات سے کھیلنے کا عمل دنیا میں بہرحال جاری ہے۔ اس کا علاج انسانوں کی آگاہی کی سطح کو بلند کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔


ذمہ داری کس کی ہے؟


تعصب کا موضوع وسیع بھی ہے اور اہم بھی۔ اسے مزید کھولنے کی بھی ضرورت ہے اور اس کے مہلک اثرات سے نکلنے کے لئے تدابیر بھی اختیار کرنا ضروری ہیں۔ بعض کی رائے ہے کہ اصل کام سول سوسائٹی کو انجام دینا ہے اور بعض کا خیال ہے کہ یہ حکومت کے کرنے کا کام ہے۔ ہماری ناچیز رائے میں یہ کام ہر کسی کو کرنا ہے، اس قدر کہ جتنا اس کے بس میں ہے۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬