04 November 2015 - 16:52
News ID: 8649
فونت
اسلام آباد پاکستان میں:
رسا نیوز ایجنسی - اسلام آباد پاکستان میں ماتمی دستے کو وارننگ کے باوجود نہ رکنے پر اسلام آباد پولیس نے بدترین تشدد کیا ، شرکاء کو منتشر کرنے کے لئے درجن کے قریب آنسو گیس کے گولے داغے جس کے نتیجہ میں چار افراد شدید زخمی ہوگئے زخمیوں میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما حجت الاسلام اصغر عسکری بھی شامل ہیں ۔
ماتمي جلوس پر پوليس کا لاٹھي چارج ماتمي جلوس پر پوليس کا لاٹھي چارج ماتمي جلوس پر پوليس کا لاٹھي چارج


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین تھری میں بغیر این او سی جلوس عزا کی برآمدگی پر پولیس نے شرکاء پر بدترین تشدد کیا اور آنسو گیس کا استعمال کیا ، جس کے نتیجہ میں چار افراد شدید زخمی ہوگئے زخمیوں میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما حجت الاسلام اصغر عسکری بھی شامل ہیں ۔


تفصیلات کے مطابق، اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین تھری میں بیس محرم الحرام کے حوالے سے جلوس برآمد کیا گیا، اس موقع پر جلوس سے قبل ضلعی انتظامیہ اور جلوس منتظمین میں مذاکرات ہوئے، جس پر انتظامیہ نے موقف اختیار کیا کہ بغیر این او سی جلوس کو برآمد نہیں کیا جاسکتا جس پر جلوس کے منتظمین نے موقف اختیار کیا کہ روایتی جلوس سالہا سال سے نکل رہا ہے، اس لئے اس معاملے پر رکاوٹ نہ ڈالی جائے، بعد ازاں معاملہ حل نہ ہونے پر جلوس جیسے ہی امام بارگاہ سے برآمد ہوا اور گیٹ سے آگے بڑھا تو پولیس نے پہلے روکنے کی کوشش کی اور بعد ازاں وارننگ کے باوجود نہ رکنے پر اسلام آباد کی مثالی پولیس نے بدترین تشدد کیا اور شرکاء کو منتشر کرنے کےلئے درجن کے قریب آنسو گیس کے شیل بھی فائر کئے، جس سے چار افراد شدید زخمی ہو گئے۔


وفاقی پولیس کی جانب سے بیس سے زائد افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا، آنسو گیس سے بچنے کے لئے جلوس کے شرکا نے امام بارگاہ میں پناہ لی، بعد ازاں نماز مغرب کے وقت ایس پی رضوان گوندل، اسسٹنٹ کمشنر اسلام آباد اور امام بارگاہ کے منتظمین، سعید رضوی اور راحت کاظمی و دیگر میں مذاکرات ہوئے جس پر جلوس کے شرکاء کو پانچ افراد کی ٹولیوں میں پرامن جانے اور گرفتار افراد کو رہا کرنے پر مذاکرات کامیاب ہو گئے ۔


دوسری جانب ایم ڈبلیو ایم کے ترجمان نے اس واقعے میں پچاس افراد زخمی ہونے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا: مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما حجت الاسلام اصغر عسکری بھی زخمیوں میں سے ہیں ۔


اس موقع پر مختلف شیعہ تنظیموں نے پولیس کے ناروا سلوک پر شدید برہمی اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔


یاد رہے کہ گذشتہ برس جلوس کے موقع پر تکفیریوں نے پتھراو کیا تھا اور جلوس کے خلاف کیس دائر کیا گیا تھا مگر چند روز قبل ہائیکورٹ کے ایک فیصلے میں جلوس کو روایتی جلوس قرار دے کر برآمدگی کی نہ صرف اجازت دی گئی تھی بلکہ جن افراد پر کیس بنائے گئے تھے وہ بھی عدالت کی جانب سے ختم کر دیئے گئے، تاہم آج صبح سے بانی مجلس کے محلے کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی اور بانی مجلس کو گزشتہ رات ساتھیوں سمیت گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا، تمام تر پاپندیوں اور گرفتاریوں کے باوجود عزادروں کی بڑی تعداد مسجد امام حسن پر جمع ہوگئی اور عزاداری شروع کردی ، جلوس کو آگے بڑھانے پر اس بار تکفیریوں کے بجائے پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور شیلینگ شروع کردی گئی جس سے متعدد عزادار زخمی ہوئے۔


دوسری جانب خانپور پولیس نے مجالس و جلوس عزاء کے خلاف شدید کریک ڈاون کیا ہے ۔


اس رپورٹ کے مطابق، خانپور کے تھانہ ایس ایچ او بشیر احمد نے خانپور ضلع ہری پور کے متعدد دیہاتوں سلطانپور، چٹی، وجھیاں، گھڑی سیداں، پنج کٹھہ، توفکیاں، اعلیٰ سیداں اور چند دیگر علاقوں میں کئی مجالس و جلوس کو رکوا کر عزاداروں اور بانیان کو گرفتار کرکے جیل بھیجوا دیا ۔


مقامی افراد نے میڈیا کو باخبر کرتے ہوئے مذکورہ ایس ایچ او کو علاقہ میں دہشت گرد عناصر کی پشت پناہی میں ملوث بتایا اور کہا: مذکورہ ایس ایچ او خانپور جیسے پرامن علاقہ میں نقص امن کا باعث بن رہا ہے۔ ارباب اختیار فوری طور پر حالات کی سنگینی کا اندازہ کرتے ہوئے اقدامات اٹھائیں ۔


خانپور کے ایس ایچ او بشیر احمد نے اپنے موقف سے آگاہ کرتے ہوئے کہا : انتظامیہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کو ہر حالت میں یقینی بنائے گی، حکومت کی جانب سے بنائے گئے تحفظ پاکستان آرڈیننس کی روشنی میں تمام اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔
 

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬