01 March 2010 - 17:10
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 1022
فونت
رسا نیوز ایجنسی ۔ آل انڈیا مائناریٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے زیر اہتمام ایم بی کلب چھاؤنی لکھنؤ میں اقلیتی تعلیمی کے مسائل پر قومی سیمینار منعقد ہوا۔
ہندوستان میں اقلیتی تعلیمی اداروں کے مسا ئل پر ایک روزہ سیمینار

 

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹ کے رپورٹر کے مطابق آل انڈیا مائناریٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے زیر اہتمام ایم بی کلب چھاؤنی لکھنؤ میں اقلیتی تعلیمی کے مسائل پر قومی سیمینار منعقد ہوا۔ پروگرام کا آغاز ارم کالج کی طالبات کے ترانہ ہند سے ہوا۔


ڈاکٹر عمار رضوی نے اپنا استقبالیہ خطبہ پڑھا اور آل انڈیام مائناریٹیز فورم فار ڈیموکریسی کا تعارف کرایا ۔ سیمنار کے انعقاد پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا : اس پروگرام کا مقصد اقلیتوں سے ہے چاہے وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں بیداری لانا ، ان کے حقوق کی بازیابی کیلئے ان کی نمائندیگی کرنا اور اقلتیوں سے متعلق مختلف اسکیموں کومتعارف کرانا ہے۔


مہمان خصوصی کے طور پر تشریف فرما نیشنل کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی اداروں کے چیئر مین جسٹس ایم ایس اے صدیقی نے اپنے خطاب میں خاص طور سے آئین ہند کی دفعہ ٣٠ کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے   کہا : دفعہ ٣٠ کے تحت اقلیتوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہبی لسانی اور ذاتی ادارے قائم کریں اور اس کے انتظام و انصرام کی پوری ذمہ داری خود ہی سنبھالیں۔


انہوں نے کہا : تقسیم ہند کے بعد یہ اصطلاح عام ہوئی اور دفعہ ٣٠ اقلیتوں کو اکثریتوں کے شانہ بشانہ کھڑا کرنے کے لئے وضع کیا گیا۔


جسٹس صدیقی نے کہا : حقیقت یہ ہے کہ موجودہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں ظاہراً اقلیتوں کی فلاح کی بات کرتی ہیں مگر باطنی اعتبار سے اقلتیوں کو پریشان کرنا، ان کو حقوق سے محروم رکھنا اور صر ف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرنا ان کا مقصد ہے۔


انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا : مدارس کے ذمہ داران کہتے ہیں کہ ہمارے نصاب تعلیم قومی سرمایہ ہے اس لئے مذہبی تعلیم کو عصری تعلیم سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔


نیشنل کمیشن اقلیتی تعلیمی اداروں کے چیئر مین نے تاکید کی : اقلیتی ادارے ریزرویشن سے مبرا ہیں اور یہ حق انہیں آئین نے دیا ہے اس سلسلے میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے بھی آچکے ہیں۔


جسٹس صدیقی نے کہا : اگر اقلیتی اداروں کے معیار کو بحال نہ کیا جارہا ہو، این او سی کے حصول میں پریشانیوں کا سامنا ہو یا رجسٹریشن کو لیکر کوئی دقت ہوتو ہمارے کمیشن سے رابطہ کریں ہم مکمل طور پر اس کا حل پیش کریں گے۔


اس کے سابق وزیراعلی اور ممبر پارلیمنٹ جگدمبیکا پال نے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم حاصل کرو اور اس کو فروغ دو ہم ہر محاذ پر آپ کے ساتھ ہیں۔


انہوں نے کہا : ہم اقلتیوں سے متعلق کوئی بھی جائز سوال ہوگا اور اس کو دور کرانے کی کوشش کریں گے۔


اس موقع پر مہمان خصوصی کے طور پر پروفیسر صابرہ حبیب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا : ڈاکٹر عمار رضوی مبارکباد کے لائق ہیں جنہوں نے اقلتیوں کے مسائل سے متعلق  پروگرام منعقد کرائے۔


صابرہ حبیب نے کہا : اقلتیوں کے مسائل کو حل کرنے کیلئے ہمارے کمیشن نے اقلتیوں کے مسائل پر غور کرنے کیلئے کافی میٹنگیں بھی کی ہیں اورتعلیم کے لئے ایسی کمزوریوں کو معیاری بنانا ہوگا جب تک ٹیچر کا معیار بلند نہیں ہوگا مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھتے ہی جائیں گے۔


اس موقع پر حاضرین کو خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر معید احمد صاحب نے کہا کہ اقلیتوں کے مسائل کیلئے جو کمیشن بنائے گئے ہیں ان کو کام کرنا ہوگا اور اب تو برعکس ہوگیا ہے جو لوگ اہلیت رکھتے ہیں ان کو منظوری نہیں مل پارہی ہے۔


اس مو قع پر جسٹس حیدر عباس رضا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا : ان مسائل پر غور کرنے سے پہلے ہمیں اپنے آپ کا بھی محاسبہ کرنا چاہئے کیوں کہ صرف حکومتوں کو ذمہ دار ٹھہرانا مناسب نہیں ہے۔


انہوں نے وضاحت کی : ہمیں خود مستحکم ہونا ہوگا تب جاکر ملک اور اقلیتوں کے مسائل حل ہوں گے ۔اقلیتوں کے کچھ ہی معاملات ہیں جن کے اندر مرکزی حکومت مداخلت کرسکتی ہے ورنہ اختیارات صوبائی حکومت کو بہت زیادہ ہے اس کے لئے صوبائی حکومت کو زیادہ کام انجام دینے ہوں گے اور اس میں عوامی بیداری بہت ضروری ہے۔


جسٹس حیدر نے اقلیتی اداروں میں ٹیچرس کے استحصال پر سوالات قائم کئے اور ان کے تنخواہوں پر بھی سوال کئے اورمثال پیش کی کہ آج کرامت گرلس کالج ، اسلامیہ کالج ،شیعہ کالج، سنی کالج ،ارم ڈگری کالج وغیرہ میں کس قدر استحصال کئے جارہے ہیں ہمیں اس استحصال کو روکنا ہوگا ۔


اقلیتی ادروں سے وابستہ سینئروکیل ظفر یاب جیلانی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا : مدارس کو حکومتی سبسڈی دینے کے نام پر ان میں مداخلت کی جا رہی ہے اسے ختم کرنے کے لئے بہتر ہوگا کہ انہیں پرائیوٹ ہی رہنے دیا جائے ۔


سیمینار کے کنوینرسابق و زیر ڈاکٹر عمار رضوی اور سکریٹری عرفان احمد نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔


قابل ذکر ہے : اس سیمینار میں مختلف اداروں کے نمائندوں اور انتظامیہ سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬