01 March 2010 - 19:13
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 1023
فونت
امین شھیدی ؛
رسا نیوز ایجنسی ـ امین شھیدی چیر مین آف وحدت المسلمین اسلام آباد نے ھفتہ وحدت کی مبارک باد پیس کرنے کے ساتھ برادری اور اتحاد کو خدا کا پسندیدہ امر بتایا ہے ۔

 

اھل قلم اپنے قلم کے شاہکار سے یا میڈیا والے اپنے وسیع نیٹ ورک کے ذریعہ اتحاد کی راہ میں کام کریں

رسا نیوز ایجنسی ـ امین شھیدی چیر مین آف وحدت المسلمین اسلام آباد نے ھفتہ وحدت کی مبارک باد پیس کرنے کے ساتھ برادری اور اتحاد کو خدا کا پسندیدہ امر بتایا ہے ۔

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹ کے مطابق امین شھیدی چیر مین آف وحدت المسلمین اسلام آباد نے ھفتہ وحدت کی مبارک باد پیس کرنے کے ساتھ برادری اور اتحاد کو خدا کا پسندیدہ امر بتایا ہے ۔

امین شہیدی نے حالات حاضرہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا : اس زمانہ میں ھم دین کے مخالفین کے چیلینجز سے روبرو ہیں، اگر دین کو کوئی نقصان پہونچاتا ہے تو عام طور پر تمام مذاہب اس سے متاثر ہونگے اور اس کی پیروی کرنے والے بھی اس کے زد میں آجائینگے ۔

چیر مین آف وحدت المسلمین نے وضاحت کی : ایسے حالات میں ھم تمام مسلمانوں کی ذمہ داریاں بنتی ہے کہ وہ مختلف ذاویہ سے اس کا دفاع کریں چاہے اھل قلم اپنے قلم کے شاہکار سے یا میڈیا والے اپنے وسیع نیٹ ورک کے ذریعہ یہ کام انجام دیں ، خاص کر میڈیا ایک ایسا ذریعہ ہے چاہے وہ جس طرح کا بھی میڈیا ہو پرنٹ ہو یا الکٹرونیک یا ٹی وی ان تمام وسیلہ کا اھم کام عوام کا ذھن بننا ہے جس کے ذریعہ ھم عوام کے اندر پائے جانے والی فطری حبی و اتحادی عنصر کو ابھار سکتے ہیں ۔

 انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا : ھم اسلامی میڈیا کے سربراہ اور میڈیا کے سرگرم افراد کو چاہئے کہ ادیان و اسلامی مذاھب کے اشتراکات کو پیش کریں اور ان کو اپنا حقیقی مھور بنا کر متحد ہوں اور تمام فرقوں کے جو امتیازی خصوصیات ہیں  ان کو انہیں فرقوں سے محدود رہنے دیں، جس کا حکم ہمیں قران کریم کے اس قول سے ملتا ہے قل یا اھل الکتاب تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا و بینکم حالانکہ یہ حکم عیسائیوں کے ساتھ اللہ کے وحدانیت کے زیر سایہ اتحاد کے لئے ہے جب ایک غیر اسلامی دین کے لئے قران ایسا حکم فرما رہا ہے تو ھم تو ایک اللہ،  اس کی کتاب قران اور اس کے بھیجے ہوئے انبیاء اور رسول خاتم کے ماننے والے ہیں ، جو بھی اس امر نیک میں مداخلت کرے تو ان کو ان کی کم فکری و کم عقلی کو دور کرنے کا راستہ بیان کیا جائے ۔  

امین شھیدی نے میڈیہ کو اس امور میں خدمت کرنے کو بہت ضروری اور مفید جانا ہے اور کہا : اس زمانہ میں میڈیا ایک ایسا وسیلہ ہے جس کو اگر مثبت طریقہ سے استعمال کیا جائے تو کبھی بشریت اپنے حقیقی مقصد سے منحرف نہی ہو سکتی، مگر افسوس کی بات ہے کہ ابھی تک یہی دیکھا گیا ہے کہ دشمن اسلام اس کے ذریعہ اختلاف و فساد پھیلانے میں زیادہ استعمال کرتے رہے ہیں ۔

انہوں نے تاکید کیا : تمام مسلمانوں کو چاہیئے کہ اس زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف پھیلانے والے اور مسلمانوں کو متحد نہ ہونے والی طاقتوں سے مقابلہ کرنا اور ان کو ان کے ناپاک ھدف میں کامیاب نہ ہونے دینے کا آسان راستہ میڈیہ ہے ہمیں چاہیئے کہ وہ موضوعات جس کی ضرورت اسلام کی بلندی اور مسلمانوں کے مسائل کے حل ہونے سے منسلک ہوں اس موضوع پر تحقیق ہو اور مذاکرات ہوں اور مختلف میڈیہ کے ذریعہ تمام مسلمانوں تک پہونچایا جائے چاہے وہ اخبار ہو یا ٹیلی ویزن و ریڈیو یا انٹرنیٹ ہو یا موبائل وغیرہ، یہ تمام میڈیہ ھمارے دشمن کی طرف سے ھمارے اختلاف کے لئے بنائے گئے موضوعات شبہ کے طور پر بیان کرتی ہیں لہذا خاص کر ان پر دلیل کے ذریعہ متحدانہ ذہن سے گفتگو کی جائے اور دشمن کو کسی بھی ھربہ میں کامیاب نہ ہونے دیا جائے ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬