04 March 2010 - 21:29
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 1038
فونت
قائد انقلاب اسلامی :
رسانیوز ایجنسی - قائد انقلاب اسلامی نےاسلامی مکاتب کوفکری اتحاد، عالم اسلام کی ترقی و پیشرفت کے ضامن بتایا

 

 رسا نیوزایجنسی کی رھبر معظم کی خبر رساں سائٹ سے منقولہ رپورٹ کے مطابق ،  قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے پیغمبر نور و عدل و رحمت، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے فرزند حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت با سعادت کے مبارک و مسعود موقع پر اسلامی نظام کے عہدہ داروں اور عوامی طبقات کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حقائق اسلام کی حیات نو اور آخری رسول کی تعلیمات پر عمل آوری کو امت مسلمہ کی بنیادی اور اہم ترین ضرورت قرار دیا اور مختلف اسلامی مکاتب فکر کے پیروکاروں کے اتحاد کو عالم اسلام کی مشکلات کا حل اور ترقی و پیشرفت کا ضامن قرار دیا۔

قائد انقلاب اسلامی نے اس اجتماع سے خطاب میں جس میں مجریہ، عدلیہ اور مقننہ کے سربراہان، تشخیص مصلت نظام کونسل کے سربراہ، وحدت اسلامی کانفرنس میں شرکت کرنے والے غیر ملکی مہمانوں اور علما اور تہران میں اسلامی ممالک کے سفرا بھی شامل تھے فضائل الہی کے نچوڑ، عالم وجود کی پاکیزہ ہستیوں میں الہی انتخاب حضرت محمد مصطفی (ص) اور پیغمبر کے وصی برحق اور حقیقی دین محمدی کے مروج حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی با برکت اور تاریخ ساز ولادت کی سالگرہ کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے فرمایا :بشریت کے اخلاقی فضائل اور انسانی کمالات، جہل و غفلت اور تباہی و انحطاط کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں پیغمبر اکرم کے مقدس اور نورانی وجود کے ظہور کے ثمرات ہیں۔

آپ نے امت مسلمہ کے لئے حضرت ختمی مرتبت کی ضوفشاں ہدایت پر غور و فکر کرنے اور اس سے سبق حاصل کرنے کو انتہائی ضروری قرار دیا اور عالم اسلام کی بڑی آبادی، نہایت اہم جغرافیائی محل وقوع اور بے پناہ افرادی قوت اور قیمتی ذخائر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے یہ بنیادی سوال اٹھایا کہ اتنا عظیم مجموعہ اپنی ان خصوصیات کے باوجود کیوں سرگرداں اور پس و پیش کی کیفیت کا شکار ہے، غربت، تفریق، پسماندگی اور دوسری بہت سی ثقافتی کمزوریوں سے دوچار ہے اور دنیا کی تسلط پسند طاقتوں کے سامنے اپنے حقوق کا دفاع کرنے پر قادر نہیں

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے مسلمانوں کے حقوق کے دفاع میں عالم اسلام کی عاجزی اور ناتوانی کی ایک مثال پیش کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کی جانب اشارہ کیا اور فرمایا کہ فلسطین کی تاریخی اور مقدس سرزمین پر غاصبانہ قبضہ اور مظلوم فلسطینی قوم پر جرائم پیشہ صیہونیوں کے لا محدود اور بلا وقفہ جاری مظالم وہ گہرا زخم ہے جو امت مسلمہ کے عظیم پیکر کو مضطرب کئے ہوئے ہے لیکن عالم اسلامی مجموعی طور پر کچھ ایسا طرز عمل اختیار کئے ہوئے کہ گویا مسئلہ فلسطین کا اس سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اسرائیل کی غیر قانونی صیہونی حکومت کو خطرناک کینسر قرار دیا اور فرمایا کہ اس مہلک سرطان اور اس کے حامیوں سے خود کو محفوظ رکھنے کا واحد راستہ اسلام کی سمت واپسی اور نبی اکرمۖ کی تعلیمات کو محور زیست قرار دینا ہے۔
آپ نے مسلمانوں کے حقوق کے دفاع کے سلسلے میں عالم اسلام کی ناتوانی اور کمزوری کے علل و اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے امت مسلمہ کے اندر اختلاف و تفرقہ ڈالنے کی امریکا، برطانیہ اور دیگر اسلام دشمن طاقتوں کی مربوط کوششوں اور سازشوں کی جانب اشارہ کیا اور فرمایا کہ یہ تسلط پسند سامراجی طاقتیں بخوبی جانتی ہیں کہ اختلاف اور تفرقے کے ذریعے امت مسلمہ کو حیاتی اہمیت کے حامل مسئلہ فلسطین سے لا تعلق رکھا جا سکتا ہے، اسی لئے وہ ہر ممکنہ حربہ استعمال کرکے فرقہ وارانہ، مذہبی اور جغرافیائی اختلافات کو شیعہ اور سنی فرقوں نیز دیگر اسلامی مکاتب فکر کے دلوں میں شعلہ ور کر رہی ہیں۔
 
قائد انقلاب اسلامی نے اتحاد و ہمدلی کو عظیم امت مسلمہ کی سب سے اہم ضرورت قرار دیا اور اسلامی ممالک کی حکومتوں، روشن فکر دانشوروں، علما اور سیاسی و سماجی کارکنوں کو اتحاد قائم کرنے کے فریضے پر عمل کی دعوت دی اور فرمایا کہ اگر اسلامی بیداری میں اور بھی گہرائی اور گیرائی پیدا ہو جائے اور مسلمانوں کے قلوب ایک دوسرے کے اور بھی نزدیک آ جائیں تو اجتماعی تعاون و ترقی کی راہ کھل جائے گی اور مسئلہ فلسطین سمیت عالم اسلام کے بیشتر مسائل کا حل نکل آئے گا۔ قائد انقلاب اسلامی نے جارحیت کا نشانہ بننے والی اسلامی سرزمینوں کے دفاع کو تمام اسلامی مکاتب فکر کا متفق علیہ مسئلہ قرار دیا اور فرمایا کہ اس اتفاق نظر کے باوجود بد قسمتی سے عالم اسلام شیعہ سنی اور دوسرے فرقوں کے اختلافات کو ہوا دینے والی امریکا اور برطانیہ کی سازشوں سے متاثر نظر آتا ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے اتحاد بین المسلمین اور مسئلہ فلسطین کے دفاع کو اسلامی جمہوریہ ایران کے بنیادی اہداف اور ترجیحات میں قرار دیا اور ان دونوں نکات کے سلسلے میں بانی انقلاب اسلامی امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے بیانوں اور تاکید کی یاددہانی کراتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی نظام اور ملک کے تمام حکام اور ایرانی عوام ان اصولی مسائل کو شرعی واجب کی حیثیت سے دیکھتے ہیں اور اس سلسلے میں سب کا نظریہ ایک رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔

قائد انقلاب اسلامی نے مسلم امہ کی روز افزوں بیداری اور فلسطین کی حمایت میں اٹھنے والی قوموں کی آواز کو عالم اسلام کی رائے عامہ کی سطح پر اسلامی جمہوریہ ایران کے بر حق نظرئے کا دلنشیں انعکاس قرار دیا اور فرمایا کہ اسلامی حکومتوں کو بھی چاہئے کہ رسول اسلام کی تاسی کرتے ہوئے مسلمانوں کے اتحاد اور ان کے حقوق کے دفاع بالخصوص غاصب اسرائیل کی صورت میں موجود کینسر کے مقابلے کی کوشش کریں تاکہ اللہ تعالی کی نصرت و اعانت سے مسلم امہ کی دنیوی و اخروی سعادت و پیشرفت کی راہ ہموار ہو سکے۔

قائد انقلاب اسلامی کے خطاب سے قبل صدر مملکت ڈاکٹر احمدی نژاد نے پیغمبر عشق و محبت اور رسول علم و حکمت کی ولادت با سعادت کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ انسانی معاشرے کو کسی بھی دوسرے دور سے بڑھ کر موجودہ دور میں مکتب خاتم النبیین کی تعلیمات کی ضرورت ہے تاکہ جہالت و تسلط پسندی، بے رحمی و تحقیر اور اختلاف و تفریق کا خاتمہ کیا جا سکے اور عدل و انصاف اور یکتا پرستی کے سائے میں دنیا کے انسانوں کی صلاحیتوں پر نکھار لایا جائے۔

ڈاکٹر احمدی نژاد نے خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سعادت بخش پیغاموں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عظیم اسلامی انقلاب کی کامیابی کے ساتھ ہی ایران کے با ایمان و سربلند عوام حق و انصاف اور پاکیزگی و طہارت کے علمبردار بن گئے اور پورے اتحاد و یگانگت کے ساتھ اس راہ پر گامزن ہیں۔

اس ملاقات کے اختتام پر وحدت اسلامی کانفرنس میں شرکت کرنے والے بعض علماء نے قائد انقلاب اسلامی سے بڑے والہانہ انداز میں ملاقات اور گفتگو کی۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬