09 March 2010 - 19:26
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 1063
فونت
آیت الله مکارم شیرازی افغانستان کے اھل سنت علماء سے ملاقات میں :
رسا نیوز ایجنسی ـ حضرت آیت الله مکارم شیرازی کچھ اھل سنت علماء سے ملاقات میں افراطی وھابیوں سے خطرہ ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تاکید کی : یہ اقلیت افراطی اسلام کے بارے میں صحیح معلومات نہی رکھتے ہیں اور علماء اسلام کو چاہے شیعہ ہوں یا سنی اس گروہ کو میدان میں نہ آنے دیں کیونکہ اگر ان لوگوں نے میدان حاصل کر لیا تو اسلام کو خطرہ کا سامنا کرنا پریگا ۔
آيت الله مکارم شيرازي
 
رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کے رپورٹ کے مطابق حضرت آیت الله مکارم شیرزای مرجع تقلید نے افغانستان کے اھل سنت علماء کے وفد سے ملاقات میں وضاحت کی : مجھے یقین ہے کہ اس وقت افغانستان تین خطرہ کے زد میں ہے سب سے پہلے وہ اندرونی اختلاف اور مسئلہ طالبان ہے ۔
 

انہوں نے اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا : افغانستان کے علماء، اھل فکر حضرت اور ملک کے سربراہ ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر افغانستان کو اچھے طریقہ سے ادارہ کریں، یہ ملک بہت مصیبتیں برداشت کر چکی ہے، اندرونی جنگ اور کمنیوسٹوں کا حملہ اس کے رنج و مصیبت کا باعث ہوا اور ھم ایک پڑوسی ہونے کی بنا پر ان کے تمام غم میں شریک ہیں۔ 
 

مرجع تقلید نے کہا : دوسرا خطرہ غیروں کا قبضہ ہے جب تک کسی ملک میں غیر موجود رہینگے وہ سب اپنے منفعت کے چکر میں رہتے ہیں، اگر یہ سوچا جائے کہ وہ افغانستانی عوام کی فکر کرتے ہیں تو یہ صحیح نہی ہے، وہ تو صاف لفظوں میں کہتے ہیں کہ ھماری منفعت جس جگہ پر جو ہوتی ہے ھم اس کام کو انجام دیتے ہیں، اگر ایک روز افغانستان کے عوام کی منفعت اور ان کی منفعت ایک ہو تب تو وہ ساتھ دینگے ۔
 
انہوں نے وضاحت کی : تیسرا خطرہ ثقافتی جارحیت ہے خاص کر غاصبین کی موجودگی ہونا، وہ لوگ اس کوشش میں ہیں کہ افغانستان میں اسلام کو اور خاص کر جوان نسل کو ضعیف کر دیں۔
 

حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے وضاحت کی : اسلام کی تریج کے لئے ابھی بہتریں موقع ہے اور مجھے امید ہے کہ علماء اسلامی کی درایت اور ہوشمندی سے اتحاد بیشتر ہو ۔
 
انہوں نے اپنے اختمامیہ گفتگو میں تاکید کیا : میں ھر شب جو دعا کرتا ہوں اس میں افغانستان بھی ہے، خداوند سے کہتا ہوں سلامتی، صلح، امنیت، افغانستان،پاکستان، لبنان اور تمام اسلامی ممالک میں لوٹا دے، تمام ممالک کے لئے الگ الگ دعا کرتا ہوں۔
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬