11 March 2010 - 14:27
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 1069
فونت
ميري تمنا يہ ہے کہ ميري زندگي اتحاد بين المسلمين کي راہ ميں گزرے اور ميري موت بھي مسلمانوں کے اتحاد کي راہ ميں واقع ہو

  

اسلامي اتحاد و يکجہتي کا مفہوم

 

اسلامي اتحاد و يکجہتي کے محور

 

توحيد


اسلامي شناخت اور تشخص


دين اسلام


قرآن


پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم
اہل بيت پيغمبر عليہم السلام


 تاريخ بشريت کي عظيم ہستي

 

سنت و سيرت معصومين عليہم السلام 

 

 دلوں کي پاکيزگي اور اتحاد


  برادر ديني اور شريک انسانيت

 

اسلامي جمہوريہ ايران

 

اسلامي اتحاد و يکجہتي کے ثمرات

 

مسلمانوں کي فتح و کامراني اور عزت و وقار


مشکلات پر غلبہ


معاشي اور سياسي قدرت ميں اضافہ


قيادت و اقتدار

تفرقے کے علل و اسباب

شرک


شيطان


جہالت و کج فہمي


نسلي تعصب


صاحبان اقتدار


عالم اسلام ميں اختلافات اور تفرقہ پيدا کرنے والے حلقے


بعض اسلامي حکومتيں


مسلمانوں کے مفادات سے علمائے اسلام کي لا تعلقي!


اغيار سے وابستہ عناصر


جعلي مسلک


مقدسات کي توہين


قومي اختلافات کي آگ

 

امت اسلاميہ ميں تفرقے کے  انديشے

 

دشمنان اسلام کا طمع و لالچ


امت اسلاميہ پر مظالم


تزلزل اور اسلام و مسلمين سے خيانت


اصلي دشمن سے غفلت

 

اتحاد کے قيام اور تقويت کے طريقے

 

اتحاد کے قيام اور تقويت کے طريقے

ثقافتي طريقے

    نبي اعظم? کي شخصيت کے پہلوؤں کي ترسيم
    دشمن کے سلسلے ميں ہوشياري
    علمائے کرام کي ہمفکري و ہم خيالي
    علماء کا فريضہ، حقائق پر روشني ڈالنا
    اختلافي باتوں کو بنياد نہ بنائيں

سياسي طريقے

   مشترکہ دشمن کے مقابلے ميں باہمي اتحاد

اقتصادي طريقے

اتحاد کے علمبردار
آيت اللہ العظمي بروجردي اور شيخ محمود شلتوت
سيد جمال الدين اسد آبادي
امام خميني رضوان اللہ عليہ

اسلامي اتحاد و يکجہتي کے مظاہر

امت اسلاميہ کا شکوہ
ہفتہ اتحاد
يوم قدس
اسلامي عيديں
دار التقريب


اسلامي اتحاد اور عالم اسلام ميں تفرقے کے خطرات

"ميري تمنا يہ ہے کہ ميري زندگي اتحاد بين المسلمين کي راہ ميں گزرے اور ميري موت بھي مسلمانوں کے اتحاد کي راہ ميں واقع ہو"

امت مسلمہ کا مقام اور توانائياں

ہمدلي اور باہمي اخوت کے جذبے سے سرشار يہ قوميں جو سياہ فام، سفيد فام اور زرد فام نسلوں پر مشتمل ہيں اور جو درجنوں مختلف زبانوں سے تعلق رکھتي ہيں، سب کي سب خود کو عظيم امت مسلمہ کا جز جانتي اور اس پر فخر کرتي ہيں? سب ہر دن ايک ہي مرکز کي سمت رخ کرکے بيک آواز اللہ تعالي سے راز و نياز کرتي ہيں، سب کو ايک ہي آسماني کتاب سے درس و الہام ملتا ہے?

يہ عظيم مجموعہ جس کا نام مسلم امہ ہے بے حد قيمتي ثقافت اور با عظمت ميراث کے ساتھ اور بے مثال درخشندگي اور بارآوري کے ساتھ، تنوع اور رنگارنگي کے باوجود بڑي حيرت انگيز يکسانيت اور يگانگت سے بہرہ مند ہے جو اسلام کي گيرائي و نفوذ، اس کي خاص اور خالص وحدانيت کے باعث اس (عظيم پيکر) کے تمام اجزا، ستونوں اور پہلوؤں ميں نماياں و جلوہ فگن ہے?

امت مسلمہ کے پاس اپنے وجود اور اپنے حقوق کے دفاع کے تمام وسائل موجود ہيں? مسلمانوں کي آبادي بہت بڑي ہے? ان کے پاس عظيم قدرتي دولت ہے? ان ميں نماياں ہستياں اور روحاني سرمائے سے مالامال شخصيات ہيں جو لوگوں ميں توسيع پسندوں کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ و جذبہ پيدا کرتي ہيں? مسلمانوں کے پاس قديم تہذيب و تمدن ہے جو دنيا ميں کم نظير ہے، ان کے پاس لا محدود وسائل ہيں، بنابريں صلاحيت کے اعتبار سے مسلمان اپنے دفاع پر قادر ہيں? عالم اسلام کو آج اپنے عز و وقار کے لئے قدم بڑھانا چاہئے، اپني خود مختاري کے لئے مجاہدت کرنا چاہئے، اپنے علمي ارتقاء اور روحاني طاقت و توانائي يعني دين سے تمسک، اللہ کي ذات پر توکل اور نصرت پروردگار پر تيقن کے لئے کوشش کرنا چاہئے? " وعداتک لعبادک منجزہ" (اپنے بندوں سے کيا جانے والا تيرا وعدہ باليقيں پورا ہونے والا ہے، وسائل الشيعہ ج 14 ص 395) يہ وعدہ الہي ہے? يہ حتمي وعدہ الہي ہے کہ" ولينصرن اللہ من ينصرہ" (اللہ اس کي مدد کرےگا جو اللہ کي نصرت کرے گا، حج 40) اس وعدے پر يقين کامل کے ساتھ ميدان عمل ميں قدم رکھيں? ميدان عمل ميں قدم رکھنے سے مراد صرف يہ نہيں کہ بندوق اٹھا لي جائے? اس سے مراد فکري عمل ہے، عقلي عمل ہے، علمي عمل ہے، سماجي عمل ہے، سياسي عمل ہے? يہ سب کچھ اللہ تعالي کے لئے اور عالم اسلام کے اتحاد کي راہ ميں انجام پائے? اس سے قوموں کو بھي فائدہ پہنچے گا اور اسلامي حکومتوں کو بھي ثمرہ حاصل ہوگا?

 

اسلامي اتحاد و يکجہتي کا مفہوم

اتحاد کا معني و مفہوم بہت آسان اور واضح ہے? اس سے مراد ہے مسلمان فرقوں کا باہمي تعاون اور آپس ميں ٹکراؤ اور تنازعے سے گريز? اتحاد بين المسلمين سے مراد يہ ہے کہ ايک دوسرے کي نفي نہ کريں، ايک دوسرے کے خلاف دشمن کي مدد نہ کريں اور نہ آپس ميں ايک دوسرے پر ظالمانہ انداز ميں تسلط قائم کريں?

مسلمان قوموں کے درميان اتحاد کا مفہوم يہ ہے کہ عالم اسلام سے متعلق مسائل کے سلسلے ميں ايک ساتھ حرکت کريں، ايک دوسرے کي مدد کريں اور ان قوموں کے درميان پائے جانے والے ايک دوسرے کے سرمائے اور دولت کو ايک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے ديں?

اتحاد بين المسلمين کا مطلب مختلف فرقوں کا اپنے مخصوص فقہي اور اعتقادي امور سے اعراض اور روگرداني نہيں ہے بلکہ اتحاد بين المسلمين کے دو مفہوم ہيں اور ان دونوں کو عملي جامہ پہنانے کي ضرورت ہے? پہلا مفہوم يہ کہ گوناگوں اسلامي مکاتب فکر، جن کے اندر بھي کئي ذيلي فقہي اور اعتقادي فرقے ہوتے ہيں، دشمنان اسلام کے مقابلے ميں حقيقي معني ميں آپس ميں تعاون اور ايک دوسرے کي اعانت کريں اور ہم خيالي اور ہمدلي برقرار کريں?

دوسرے يہ کہ مسلمانوں کے مختلف فرقے خود کو ايک دوسرے کے قريب لانے کي کوشش کريں، ہم خيالي پيدا کريں، مختلف فقہي مکاتب کا جائزہ ليکر ان کے اشتراکات کي نشاندہي کريں? علما و فقہا کے بہت سے فتوے ايسے ہيں جو عالمانہ فقہي بحثوں کے ذريعے اور بہت معمولي سي تبديلي کے ساتھ دو فرقوں کے ايسے فتوے ميں تبديل ہو سکتے ہيں جو ايک دوسرے کے بہت قريب ہوں?


اسلامي اتحاد و يکجہتي کے محور

توحيد

جب يکتا پرست معاشرے ميں کے جس کي نظر ميں عالم ہستي کا موجد و مالک، عالم وجود کا سلطان اور وہ حي و قيوم و قاہر کہ دنيا کي تمام اشياء اور ہر جنبش جس کے ارادے اور جس کي قدرت کي مرہون منت ہے، واحد و يکتا ہے تو پھر (اس معاشرے کے انسان) خواہ سياہ فام ہوں، سفيد فام ہوں يا ديگر رنگ والے اور مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے ہوں اور ان کي سماجي صورت حال بھي مختلف ہو، ايک دوسرے کے متعلقين ميں ہيں? کيونکہ وہ سب اس خدا سے وابستہ ہيں? ايک ہي مرکز سے جڑے ہوئے ہيں اور ايک ہي جگہ سے نصرت و مدد حاصل کرتے ہيں? يہ عقيدہ توحيد کا لازمي و فطري نتيجہ ہے? اس نقطہ نظر کي رو سے انسان ہي ايک دوسرے سے منسلک اور وابستہ نہيں ہيں بلکہ توحيدي نقطہ نظر تو دنيا کے تمام اجزاء و اشياء، حيوانات و جمادات، آسمان و زمين، غرضيکہ ہر چيز ايک دوسرے سے وابستہ اور جڑي ہوئي ہے اور ان سب کا بھي انسانوں سے رشتہ و ناطہ ہے? بنابريں وہ تمام چيزيں جو انسان ديکھتا اور محسوس کرتا اور جس کا ادراک کرتا ہے وہ ايک مجموعہ، ايک ہي افق اور ايک دنيا ہے جو ايک پر امن اور محفوظ دائرے ميں سمائي ہوئي ہے?


اسلامي شناخت اور تشخص

دنيا کے ہر خطے ميں آج مسلمان، خواہ وہ مسلم ممالک ہوں يا ايسي رياستيں جہاں مسلمان اقليت ميں ہيں، اسلام کي سمت جھکاؤ اور ميلان اور اپني اسلامي شناخت کي بازيابي کا احساس کر رہے ہيں? آج علم اسلام کا روشن خيال طبقہ اشتراکيت اور مغربي مکاتب سے بد دل ہوکر اسلام کي سمت بڑھ رہا ہے اور عالم انسانيت کے درد و الم کي دوا کے لئے اسلام کا دامن تھام رہا ہے اور اس سے راہ حل چاہ رہا ہے? آج مسلم امہ ميں اسلام کي جانب ايسي رغبت پيدا ہوئي ہے جو گزشہ کئي صديوں ميں ديکھنے ميں نہيں آئي? اسلامي ممالک پر کئي عشروں تک مغربي اور مشرقي بلاکوں کے گہرے سياسي و ثقافتي تسلط کے بعد اب عالم اسلام کے نوجوانوں کي فکروں کا افق اور نگاہوں کا مرکز اسلام بن گيا ہے? يہ ايک سچائي ہے? خود مغرب والے اور دنيا کي سامراجي طاقتيں بھي اس کي معترف ہيں? اکابرين سامراج کے لئے جو چيز سوہان روح بني ہوئي ہے وہ مسلمانوں کا اسلامي تشخص اور يہ احساس ہے کہ وہ مسلمان ہيں? يہ چيز مسلمانوں کو متحد کرتي اور ايک دوسرے سے جوڑتي ہے?

 

دين اسلام

اسلام بھي اس کا باعث ہے کہ امت مسلمہ کے اندر ايک دوسرے سے رابطے اور تعلق کا احساس پيدا ہو اور يہ ايک ارب اور کئي کروڑ کي آبادي عالم اسلام کے مختلف مسائل ميں اپنا کردار ادا کرے?

مقدس دين اسلام ميں اتحاد ايک بنيادي اصول کا درجہ رکھتا ہے? ذات اقدس باري تعالي سے ليکر کہ جو وحدت و يکتائي کي بنياد اور حقيقي مظہر ہے، اس وحدت کے جملہ آثار تک آپ ديکھئے پورے عالم وجود کي توجہ اسي عظيم و ارفع مرکز کي جانب مرکوز ہے، "کل الينا راجعون" (سب ہماري جانب ہي لوٹنے والے ہيں، انبياء 93) سب کے سب اسي ذات الہي کي جانب حرکت کر رہے ہيں? " و الي اللہ المصير" (سب کي واپسي اسي کي جانب ہے، نور42) اتحاد، اسلام اور اعتصام بحبل اللہ کي اساس پر قائم ہونا چاہئے توہمات اور بے معني قوميتي تعصب کي بنياد پر نہيں? امت مسلمہ کا دار و مدار اسي پر ہے? اتحاد، اسلام کي حاکميت کے لئے ہونا چاہئے ورنہ بصورت ديگر وہ عبث اور بے معني ہوگا?


قرآن

قرآن کريم نے مسلمانوں کو اتحاد کي دعوت دي ہے? قرآن نے مسلمانوں کو انتباہ بھي ديا ہے کہ اگر انہوں نے اپنے اتحاد و يکجہتي کو گنوايا تو ان کي عزت و آبرو، شناخت و تشخص اور طاقت و توانائي سب کچھ مٹ جائے گا? آج بد قسمتي سے عالم اسلام ميں مشکلات سامنے کھڑي ہيں? آج اسلام کے خلاف جو سازش کي جا رہي ہے وہ بہت گہري سازش ہے? موجودہ حالات ميں اگر اسلام کے خلاف منظم سازشيں مزيد شدت و سرعت کے ساتھ جاري ہيں تو اس کي وجہ امت مسلمہ ميں آنے والي وہ بيداري ہے جسے ديکھ کر دشمنوں پر خوف طاري ہو گيا ہے? عالمي استکبار، اسلامي ممالک ميں موجود لالچي عناصر، اسلامي حکومتوں اور ملکوں ميں مداخلت کرنے والے، امت مسلمہ کے اتحاد سے مضطرب ہيں?

اسلام ميں خطاب " يا ايھا الذين آمنوا"( اے ايمان لانے والو!) کے ذريعے کيا گيا ہے? " يا ايھا الذين تشيعوا" (اے اہل تشيعہ) يا " يا ايھا الذين تسننوا" (اے اہل تسنن) کہہ کر مخاطب نہيں کيا گيا ہے? خطاب تمام اہل ايمان سے کيا گيا ہے? کس چيز پر ايمان رکھنے والے؟ قرآن پر ايمان رکھنے والے، اسلام پر ايمان رکھنے والے، پيغمبر پر ايمان رکھنے والے? ہر شخص کا اپنا الگ عقيدہ بھي ہے جو دوسرے افراد سے مختلف ہے? جب ارشاد ہوا کہ " و اعتصموا بحبل اللہ جميعا و لا تفرقوا" (اور سب کے سب ايک ساتھ اللہ کي رسي کو مضبوطي سے پکڑ لو، آل عمران 103) تو مخاطب تمام مومنين کو قرار ديا گيا ہے? مومنين کے کسي مخصوص گروہ کو مخاطب قرار نہيں ديا گيا? جب ارشاد ہوا کہ " و ان طائفتان من المومنين اقتتلوا فاصلحوا بينھما" (اگر مومنين کے دو گروہوں مي‍ں جنگ ہو جائے تو ان کے درميان مصالحت و مفاہمت کروائيے، حجرات9) تمام مومنين کو مخاطب بنايا گيا ہے، کسي مخصوص گروہ کو نہيں? اسلام ان بنيادي کاموں کے ذريعے مذہبي تعصب اور تنازعے کو پائيدار بنيادوں پر ختم کر سکتا ہے جس سے تمام انسانيت دوچار ہے?

قرآن کہتا ہے کہ " و اعتصموا بحبل اللہ جميعا و لا تفرقوا" اعتصام بحبل اللہ، اللہ کي رسي کو مضبوطي سے پکڑنا ہر مسلمان کا فرض ہے، ليکن قرآن نے اتنے پر ہي اکتفا نہيں کيا کہ ہر مسلمان اللہ کي رسي کو مضبوطي سے تھام لے بلکہ حکم ديتا ہے کہ تمام مسلمان اجتماعي شکل ميں اللہ کي رسي کو مضبوطي سے پکڑيں? "جميعا" يعني سب کے سب ايک ساتھ مضبوطي سے پکڑيں? چنانچہ يہ اجتماعيت اور يہ معيت دوسرا اہم فرض ہے? معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو اللہ کي رسي کو مضبوطي سے تھامنے کے ساتھ ہي ساتھ اس کا بھي خيال رکھنا ہے کہ يہ عمل دوسرے مسلمانوں کے ساتھ اور ايک دوسرے کے شانہ بشانہ اجتماعي طور پر انجام ديا جانا ہے? اس اعتصام کي صحيح شناخت حاصل کرکے اس عمل کو انجام دينا چاہئے? قرآن کي آيہ کريمہ ميں ارشاد ہوتا ہے کہ " فمن يکفر بالطاغوت و يومن باللہ فقد استمسک بالعرو? الوثقي" (جو طاغوت کي نفي کرتا اور اللہ پر ايمان لاتا ہے بے شک اس نے بہت مضبوط سہارے کو تھام ليا ہے، بقرہ 256) اس ميں اعتصام بحبل اللہ کا مطلب سمجھايا گيا ہے? اللہ کي رسي سے تمسک اللہ تعالي کي ذات پر ايمان اور طاغوتوں کے انکار کے صورت ميں ہونا چاہئے?


پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم

نبي مکرم و رسول اعظم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کا وجود مقدس اہم ترين نقطہ اتحاد ہے? ہم پہلے بھي يہ بات عرض کر چکے ہيں کہ عالم اسلام اس نقطے پر آکر ايک دوسرے سے منسلک ہو سکتا ہے? يہ وہ مقام ہے جو تمام مسلمانوں کے جذبات کا سنگم ہے? يہ عالم اسلام کے عشق و محبت کا قبلہ ہے? اب آپ ديکھئے کہ صيہونيوں کے ہاتھوں بکے ہوئے قلم اسي مرکز کو نشانہ بنا رہے ہيں اور اس کي توہين کر رہے ہيں تاکہ امت مسلمہ کي توہين اور عالم اسلام کي تحقير رفتہ رفتہ ايک عام بات بن جائے? يہ بنيادي نقطہ ہے? سياستداں حضرات، علمي شخصيات، مصنفين، شعرا، ہمارے فن کار اس (اتحاد کے) نقطہ پر توجہ ديں اور اسي نعرے کو وسيلہ بنا کر مسلمان خود کو ايک دوسرے کے نزديک لائيں? اختلافي باتوں ميں نہ الجھيں، ايک دوسرے کے خلاف الزام تراشياں نہ کريں، ايک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے صادر نہ کريں، ايک دوسرے کو دائرہ اسلام سے خارج نہ کريں? مسلم امہ کے قلوب ذکر پيغمبر اسلام اور عشق رسول اعظم سے تازگي پاتے ہيں، ہم سب کے سب اس عظيم ہستي کے پروانے اور عاشق ہيں?

 

اہل بيت پيغمبر عليہم السلام

جو عوامل اتحاد کا محور قرار پا سکتے ہيں اور جن پر تمام مسلمان اتفاق رائے قائم کر سکتے ہيں ان ميں ايک اہل بيت پيغمبر عليہم السلام کا اتباع ہے? اہل بيت پيغمبر سے تمام مسلمانوں کو عقيدت ہے?

عالم اسلام اہل بيت سے متعلق دو باتوں کو اپنے اتحاد و اتفاق کا محور قرار دے سکتا ہے? ايک ہے محبت جو قلبي اور اعتقادي معاملہ ہے اور تمام مسلمانوں کو اہل بيت اطہار عليہم السلام سے محبت و مودت رکھنے کا حکم ديا گيا ہے اور سب نے اسے قبول بھي کيا ہے? بنابريں يہ وہ نقطہ ہے جو تمام مسلمانوں کے احساسات و جذبات کا محور قرار پا سکتا ہے? دوسري بات ہے دين کي تعليم اور معارف و احکام الہي کے معاملے ميں قرآن کا شريک کار ہونا جس کي جانب حديث ثقلين ميں اشارہ کيا گيا ہے? اس حديث کو شيعہ سني اور دوسرے بہت سے اسلامي فرقے نقل کرتے ہيں?


تاريخ بشريت کي عظيم ہستي

امير المومنين علي ابن ابي طالب عليہ السلام سے محبت و عقيدت اور تاريخ انسانيت اور تاريخ اسلام کي عظيم ہستي سے عشق و الفت نہ سنيوں سے مختص ہے اور نہ ہي مسلمانوں تک محدود ہے? يہ تو وہ چيز ہے جس ميں دنيا کے تمام حريت پسند اور آزاد منش انسان مسلمانوں کے ساتھ شريک ہيں? ايسي شخصيات جو مسلمان بھي نہيں ہيں اس چہرہ تابناک اور اس خورشيد عالم تاب کي بارگاہ ميں عقيدت کے پھول نچھاور کرتي ہيں، طبع آزمائي کرتي ہيں? لہذا يہ بڑي غلط بات ہوگي کہ عالم اسلام ميں امير المومنين علي ابن ابي طالب عليہ السلام کي ذات کو اختلاف کا موضوع بنا ديا جائے? يہ وہ با عظمت ذات ہے جس سے تمام مسلمانوں اور تمام اسلامي فرقوں کو دل و جان سے پيار اور عقيدت ہے? اس عقيدت و محبت کي وجہ آپ کي وہ اعلي صفات و خصوصيات ہيں کہ ہر با شعور انسان جن کي عظمت کو سلام کرتا ہے? تو نقطہ اشتراک اور نقطہ اجتماع يہ ذات ہے?


سنت و سيرت معصومين عليہم السلام

دلوں کي پاکيزگي اور اتحاد

امير المومنين علي ابن ابي طالب عليہ السلام نے اپنے فرزندوں حضرت امام حسن اور حضرت امام حسين عليہما السلام کو جو وصيت فرمائي اس کے دوسرے حصے ميں تيسرا اہم نکتہ ہے "صلاح ذات بين" يعني ايک دوسرے کے ساتھ محبت آميز برتاؤ رکھيں، ايک دوسرے کي طرف سے دل صاف رکھيں، اتحاد قائم رکھيں اور آپ دونوں کے درميان اختلاف اور دوري پيدا نہ ہونے پائے? آپ نے اس جملے کو بيان کرنے کے ساتھ ہي اسي مناسبت سے ايک حديث نبوي بھي نقل کي?
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس مسئلے پر آپ خصوصي تاکيد کرنا چاہتے ہيں اور اس سلسلے ميں آپ فکر مند ہيں? " صلاح ذات بين" کي اہميت تمام امور کو منظم رکھنے سے ( جس پر حضرت اميرالمومنين عليہ السلام نے خاص تاکيد فرمائي ہے) کم نہيں ہے? اس کي وجہ يہ ہے کہ " صلاح ذات بين" کے لئے خطرات زيادہ ہيں? چنانچہ ايک حديث نقل کرتے ہوئے فرماتے ہيں کہ ميں نے تمہارے نانا کو يہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ " صلاح ذات البين افضل من عام? الصلا? و الصيام"( کافي ج4 ص51 باب صدقات النبي صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) آپس ميں بھائي چارہ اور ميل محبت اور لوگوں کے درميان انسيت و الفت ہر نماز و روزے سے بہتر ہے?
آپ نے يہ نہيں فرمايا کہ " تمام روزوں اور نمازوں سے بہتر ہے" بلکہ ارشاد فرمايا کہ " ہر نماز اور روزے سے بہتر ہے" يعني تم اپنے نماز اور روزے کي فکر ميں رہنا چاہتے ہو ليکن ايک کام ايسا ہے جو ان دونوں سے افضل ہے? وہ کيا ہے؟ وہ " صلاح ذات البين" ہے? اگر آپ نے ديکھا کہ امت مسلمہ ميں کہيں اختلاف اور شگاف پيدا ہو رہا ہے تو فور آگے بڑھ کر اس خليج کو ختم کيجئے? اس کي فضيلت نماز روزے سے زيادہ ہے?


برادر ديني اور شريک انسانيت

اسلام کا پيغام اتحاد، تحفظ اور اخوت کا پيغام ہے? امير المومنين عليہ الصلا? و السلام کا ايک يادگار جملہ ہے جو تمام انسانوں کے سلسلے ميں آپ نے ارشاد فرمايا ہے? آپ فرماتے ہيں کہ يہ انسان جو تمہارے سامنے ہے يا تمہارا ديني بھائي ہے يا پھر خلقت ميں تمہارا شريک ہے، بہرحال وہ بھي ايک انسان ہے? تمام انسانوں کو آپس ميں متحد اور مہربان رہنا چاہئے?
 يہ چيز کسي ايک گروہ اور ايک دستے سے مخصوص نہيں ہے? يہي وجہ ہے کہ اسلام نے مسلمانوں کو حکم ديا ہے کہ جو افراد دين و عقيدے کے لحاظ سے تم سے مختلف ہيں ان کے ساتھ بھي اچھا سلوک رکھا جائے? " ولا ينھاکم اللہ عن اللذين لم يقاتلوکم في الدين و لم يخرجوکم من ديارکم ان تبروھم و تقسطوا اليھم ان اللہ يحب المقسطين" (اللہ تمہيں ان لوگوں کے ساتھ جنہوں نے دين کے معاملے ميں تم سے قتال نہيں کيا اور تمہيں تمہارے گھروں سے باہر نہيں نکالا، نيکي اور بھلائي اور ان کے ساتھ انصاف کرنے سے نہيں روکتا، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے، ممتحنہ 8) يہ ہے اسلامي روش? يعني جو شخص فکري لحاظ سے تم سے الگ ہے اور ايک الگ عقيدہ رکھتا ہے وہ اپنے اس عقيدے کي وجہ سے يہاں ( اس دنيا ميں) سزا پانے کا مستحق نہيں ہے اور نہ اس کي ذمہ داري تم پر ہے?
"والحکم اللہ و المعود اليہ القيام?" (داور و قاضي خدا ہے اور قيامت اس کي وعدہ گاہ ہے، بحار الانوار ج29 ص485) يہ بھي امير المومنين عليہ السلام کا کلام ہے? آپ کا واسطہ ايسے انسان سے ہے جو تمہارا ہم عقيدہ اور تمہارا بھائي ہے اور اگر ہم عقيدہ نہيں تو خلقت ميں تمہارا شريک ہے?


اسلامي جمہوريہ ايران

دشمن نے اسلامي معاشرے ميں شگاف و اختلاف پيدا کرنے کے لئے متعدد حربے آزمائے ليکن آج اسے ايک ايسي بے مثال حقيقت کا سامنا ہے جو تمام مسلمانوں کے اتحاد کا مرکز بن گئي ہے? يہ حقيقت ہے "اسلامي جمہوريہ" يہ بلند پرچم اور يہ ہمہ گير آواز ايک نئي شئ ہے، اس کا آئين، اس کے نعرے اور اس کا عمل اسلام کے مطابق ہے اور فطري طور پر دنيا بھر ميں مسلمانوں کے دل اس کے لئے دھڑکتے ہيں? آج دنيا ميں کوئي بھي خطہ اس سنجيدگي اور دلجمعي کے ساتھ احکام اسلامي کے نفاذ کي خاطر کوشاں نہيں ہے? ميري مراد قوميں نہيں ہيں، مسلمان قوميں تو خير ہر جگہ ہي اسلام کے عشق ميں غلطاں اور اسلام کي ہر خدمت کے لئے آمادہ ہيں? ميري مراد وہ پاليسياں، وہ نظام اور وہ حکومتيں ہيں جنہوں نے اپنا کام اسلام کے نام سے شروع تو کيا تھا ليکن جب انہيں عالمي سطح پر حملوں کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے پسپائي اختيار کر لي?

ايران ميں اسلامي انقلاب کي کاميابي اور پورے عالم اسلام ميں اس نئي فکر کي ترويج کے بعد اس ہمہ گير اسلامي موج کا مقابلہ کرنے کے لئے سامراج نے ايک حربہ يہ اپنايا کہ اس نے ايک طرف تو ايران کے اسلامي انقلاب کو ايک شيعہ تحريک يعني ايک عام اسلامي تحريک نہيں ايک فرقہ وارانہ تحريک ظاہر کرنے کي کوشش کي اور دوسري طرف شيعہ سني اختلاف اور شقاق کو ہوا دينے پر توجہ مرکوز کي? ہم نے شروع سے ہي اس شيطاني سازش کو محسوس کرتے ہوئے ہميشہ اسلامي فرقوں کے درميان اتفاق و يکجہتي پر زور ديا اور يہ کوشش کي ہے کہ اس فنتہ انگيزي کو دبائيں، اللہ کے فضل و کرم سے ہميں بڑي کاميابياں بھي مليں جن ميں ايک " تقريب مذاہب اسلامي عالمي کونسل" کي تشکيل ہے? اسلامي جمہوريہ ايران نے اوائل انقلاب سے آج تک مسلمان ممالک کو اتحاد کي دعوت دي ہے? ايران نے اسلامي حکومتوں کے ساتھ دوستانہ اور برادرانہ تعلقات قائم کرنے کي اگر بلا وقفہ کوششيں کي ہيں تو اس کي وجہ يہ ہرگز نہيں کہ ايران کي حکومت يا عوام کو اس ہمراہي کي احتياج اور ضرورت ہے? نہيں، يہ کوششيں صرف اس لئے تھيں کہ اس رابطے سے پورے عالم اسلام کو فائدہ پہنچے?


اسلامي اتحاد و يکجہتي کے ثمرات

مسلمانوں کي فتح و کامراني اور عزت و وقار

مسلمان قوموں کو چاہئے کہ اپني طاقت و توانائي کو، جو در حقيقت ان کے ايمان اور اسلامي ممالک کے باہمي اتحاد کي طاقت ہے، پہچانيں اور اس پر تکيہ کريں? اسلامي ممالک اگر ايک دوسرے کے ہاتھ ميں ہاتھ ديں تو ايک ايسي طاقت معرض وجود ميں آ جائے گي کہ دشمن اس کے سامنے کھڑے ہونے کي جرائت نہيں کر پائے گا اور ان ملکوں سے تحکمانہ انداز ميں بات نہيں کر سکے گا? اگر مسلمان ايک دوسرے کا ہاتھ تھام ليں اور اپنے اندر اپنائيت کا جذبہ پيدا کر ليں، ان کے عقائد ميں اختلاف ہو تب بھي وہ دشمن کے آلہ کار نہ بنيں تو عالم اسلام کي سربلندي بالکل يقيني ہوگي?

قوميں جہاں کہيں بھي ميدان عمل ميں اتر چکي ہيں، وہ اپني اس موجودگي کو جاري رکھيں اور اس راہ ميں پيش آنے والي مشکلات کو برداشت کريں تو امريکا ہو يا امريکا جيسا کوئي دوسرا ملک ان کے خلاف اپني منماني نہيں کر سکيں گے، فتح قوموں کا مقدر ہوگي? يہ ايک حقيقت ہے? عالم اسلام اگر مسلم امہ کي حرکت کو فتح و کامراني کي سمت صحيح انداز سے جاري رکھنا چاہتا ہے تو کچھ ذمہ دارياں تو اسے قبول کرني ہي پڑيں گي? ان ذمہ داريوں ميں سب سے پہلا نمبر ہے اتحاد کا?

 

مشکلات پر غلبہ

اگر مسلمان متحد ہو جائيں، اگر ان ميں بيداري آ جائے، اگر وہ اپني طاقت سے آشنا ہو جائيں، اگر انہيں يقين ہو جائے کہ موجودہ صورت حال کو تبديل کيا جا سکتا ہے اور اپني سرنوشت اور اپنے مستقبل کے امور کو ہاتھ ميں ليا جا سکتا ہے اور اگر وہ ديکھ ليں کہ عظيم ملت ايران کي مانند بعض قوموں نے کس طرح اپنے مستقبل کو اپنے ہاتھ ميں ليا ہے، اگر وہ بڑي طاقتوں کے زير نگيں نہ رہيں تو کوئي وجہ نہيں کہ عالم اسلام کي مشکلات کا خاتمہ نہ ہو? اس وقت سب سے بنيادي چيز يہي ہے?

نہ التماس و خوشآمد، نہ سر جھکانا، نہ مذاکرات اور نہ وہ راستے جن کي تجويز بعض لوگوں نے بڑے سادہ لوحانہ انداز ميں مسلمانوں کے سامنے پيش کر دي ہے? ان ميں سے کوئي بھي مسلمانوں کي نجات کا راستہ اور ان کي مشکلات کا حل نہيں ہے? راہ حل بس ايک ہے اور وہ ہے اتحاد بين المسلمين، اسلام، اسلامي اصولوں اور اسلامي اقدار پر ثابت قدمي، دباؤ اور مخالفتوں کا مقابلہ اور دراز مدت ميں دشمن پر عرصہ حيات تنگ کر دينا?

آج عالم اسلام کے لئے واحد راہ حل اسلام، روحانيت اور اسلامي احکام کي سمت واپسي اور دوسرے اتحاد بين المسلمين ہے، يہ اتحاد بھي اسلام کے احکامات اور تعليمات کا ہي جز ہے? اسلام نے مسلمانوں کے اتحاد اور ان کے درميان کدورت و بغض و کينے کو راہ نہ دئے جانے پر خاص تاکيد کي ہے?


معاشي اور سياسي قدرت ميں اضافہ

اسلامي ممالک کے درميان مفادات کا ٹکراؤ نہيں ہے? ايک اسلامي اتحاد اور ايک اسلامي بلاک سب کے لئے مفيد اور اچھا ہے، کسي مخصوص گروہ کے لئے نہيں? عالم اسلام کے بڑے ممالک بھي اسلامي بلاک اور اتحاد سے فائدہ حاصل کر سکتے ہيں? يہ چيز سب کے فائدے ميں ہے? بلا شبہ اگر بوسنيا کے مسلمانوں کو عالم اسلام کي حمايت حاصل نہ ہوتي تو آج يورپ ميں بوسنيائي مسلمانوں کا کوئي نام و نشان نہ ہوتا، ان کا صفايا ہو چکا ہوتا?

موجودہ حالات ميں عالم اسلام کے مغربي ترين علاقوں يعني مغربي افريقہ سے ليکر عالم اسلام کے مشرقي ترين خطوں يعني مشرقي ايشيا تک کا علاقہ مسلمان نشين علاقہ ہے? دنيا کے اہم ترين علاقے مسلمانوں کے پاس ہيں? اس کا ايک حصہ تو يہي خليج فارس ہے، اس علاقے کے قدرتي ذخائر سے اپني جھولي بھرکر لے جانے کے لئے پوري دنيا صف باندھے کھڑي ہے? پوري دنيا کو اس خطے کے تيل کي احتياج ہے? اگر مسلمان آپس ميں متحد ہ جائيں تو عالم اسلام کو بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے?


قيادت و اقتدار

موجودہ دور ميں مسلمانوں کو متحد ہونے سے روکنے اور انہيں ايک دوسرے کے خلاف سرگرميوں ميں مصروف رکھنے کے لئے بہت بڑے پيمانے پر کوششيں ہو رہي ہيں? يہ کوششيں اب جبکہ مسلمانوں کو ہميشہ سے زيادہ اتحاد کي ضرورت ہے اور بھي تيز ہو گئي ہيں? تقريبا يقيني اندازہ يہ ہے کہ دشمنوں کي ان کوششوں کا مقصد اسلام کے اقتدار اور قائدانہ کردار کي ديرينہ خواہش کو جو عملي طور پر تکميل کے نزديک پہنچ گئي ہے پورا نہ ہونے دينا ہے?
يہ تو فطري بات ہے کہ اگر اسلام کو دنيا ميں برتري اور قائدانہ کردار دلانا ہے اور عالم اسلام ميں مسلمان اپنے دين سے متمسک ہونے کا ارادہ کر چکے ہيں تو يہ ہدف ان اختلافات کے ساتھ پورا ہونے والا نہيں ہے? اسلام کي برتري اور اس کے قائدانہ کردار کا سد باب کرنے کا طريقہ يہ ہے کہ اسلامي معاشروں ميں خواہ وہ کوئي ايک ملک ہو يا متعدد اسلامي ممالک کے معاشرے ہوں، مسلمانوں کو ايک دوسرے کے خون کا پياسا بنا ديا جائے?

 

تفرقے کے علل و اسباب

شرک

شرک آميز افکار انسانوں کو تقسيم کر ديتے ہيں? جس معاشرے کي بنياد مشرکانہ عقيدے پر ہو اس ميں انسان ايک دوسرے سے جدا اور ايک دوسرے کے لئے اجنبي اور مختلف طبقات ميں تقسيم ہوں گے? جب مشرک معاشرے ميں سر آغاز وجود اور پورے عالم پر مسلط و محيط ہستي سے انسانوں کے رابطے کا موضوع اٹھے گا تو فطري بات ہے کہ اس معاشرے کے انسان ايک دوسرے سے جدا ہوں گے کيونکہ کوئي ايک طبقہ کسي ايک خدا سے متعلق ہوگا تو دوسرا طبقہ کسي دوسرے خدا سے اور تيسرا طبقہ کسي تيسرے خدا سے? جس معاشرے ميں شرک کا بول بالا ہوگا وہاں انسانوں اور انساني طبقات کے درميان ايک ناقابل تسخير ديوار اور کبھي نہ پٹنے والي خليج ہوگي?

 

شيطان

جہاں بھي مومنين اور اللہ تعالي کے صالح بندوں کے درميان اختلاف نظر آ رہا ہے وہاں يقينا شيطان اور دشمن خدا کا عمل دخل ہے? جہاں بھي آپ کو اختلاف نظر آئے، آپ غور کريں تو آپ کو بڑي آساني سے شيطان بھي نظر آ جائے گا? يا پھر وہ شيطان، جو ہمارے نفس کے اندر موجود ہے جسے نفس امارہ کہتے ہيں اور جو سب سے خطرناک شيطان ہے، ہميں دکھائي دے گا? بنابريں ہر اختلاف کے پس پردہ يا تو ہماري انانيت، جاہ طلبي اور مفاد پرستي ہے اور يا پھر خارجي اور ظاہري شيطان يعني دشمن، سامراج اور ظالم طاقتوں کا ہاتھ کارفرما ہے?

 

جہالت و کج فہمي

اگر آپ امت اسلاميہ کو تفرقے کا شکار ديکھ رہے ہيں تو اس کي وجہ يہ ہے کہ مسلمانوں کو صحيح طور پر اس کا ادراک نہيں ہے کہ اتحاد بھي دين کا جز ہے? اب وہ دور ہے کہ جس ميں امت اسلاميہ کو خواہ وہ سياسي شخصيات ہوں، علمي ہستياں ہوں يا ديني عمائدين اور يا پھر عوامي طبقات سب کو ہميشہ سے زيادہ ہوشيار رہنا چاہئے، دشمن کے حربوں کو پہچاننا اور اس کا مقابلہ کرنا چاہئے? ان کا ايک موثر ترين حربہ اختلاف کي آگ بھڑکانا ہے? وہ پيسے خرچ کرکے اور مربوط سازشوں کے ذريعے اس کوشش ميں ہيں کہ مسلمانوں کو آپسي اختلافات ميں الجھائے رکھيں اور ہماري غفلتوں، کج فہميوں اور تعصب کو استعمال کرکے ہميں ايک دوسرے کي نابودي پر مامور کر ديں?

آج بعض مکاتب فکر ميں تنگ نظري دکھائي ديتي ہے? وہ اپنے علاوہ پورے عالم اسلام کو کافر سمجھتے ہيں? جسے بھي پيغمبر اسلام سے عشق و محبت ہے وہ کافر ہے؟! اس تنگ نظري کے عوامل کيا ہيں؟ ہميں تو بے حد خوشي ہوگي کہ ان اختلافات سے بالاتر ہوکر ايک دوسرے کا ہاتھ گرمجوشي سے تھاميں اور ايک دوسرے کي مدد کريں?


نسلي تعصب

کبھي ايسا ہوتا ہے کہ مسلمان قوموں کے درميان قوميتي، قومي، لساني اور اسي جيسے دوسرے پہلوؤں پر زور ديا جاتا ہے? بالکل واضح ہے کہ يہ حالت امت اسلاميہ کے ايک دوسرے سے الگ ہونے کے عمل کي شروعات کي علامت ہے? ہم نے ديکھا کہ اسي ملک ميں گزشتہ (شاہي) حکومت کے دور ميں کس طرح نسل، حسب و نسب اور خون سے متعلق غلط افسانوں اور خيالات کي جانب بازگشت اور فارسيت اور ايرانيت کا مسئلہ کس زور و شور سے اٹھايا گيا? اس کي وجہ کيا تھي؟ ملت ايران کو اس سے کيا فائدہ پہنچ سکتا تھا؟ ضرر و زياں کے علاوہ اس کا کوئي نتيجہ نہيں ہو سکتا تھا? سب سے بڑا نقصان يہ تھا کہ اس سے ديگر اسلامي قوموں کے مقابلے ميں ملت ايران کے اندر علاحدگي پسندي کا جذبہ پيدا ہوا اور دوسري قوموں کے ساتھ اس قوم کي کشيدگي شروع ہوئي? يہي کام عرب قوموں کے ساتھ کيا گيا اور يہي چال علاقے کي ديگر قوميتوں کے ساتھ بھي چلي گئي اور آج بھي چلي جا رہي ہے?

 

صاحبان اقتدار

مسلمان فرقوں اور مسلکوں کے درميان صديوں قبل سے آج تک اختلافات، ٹکراؤ، تنازعہ اور تضاد جاري رہا ہے اور ان اختلافات کا نقصان ہميشہ مسلمانوں کو پہنچا ہے? تاريخ اسلام ميں ان اختلافات اور تنازعات کے بہت بڑے حصے کي ساري ذمہ داري مادي طاقتوں کي ہے? ابتدائي اختلافات يعني قرآن کے مخلوق ہونے يا نہ ہونے اور اسي جيسے دوسرے مسائل سے ليکر ديگر اختلافي موضوعات تک جو طول تاريخ ميں اسلامي فرقوں کے ما بين خاص طور پر شيعہ اور سني فرقوں کے درميان نظر آتے ہيں تقريبا تمام اسلامي خطوں ميں ان اختلافات کے تار سياسي طاقتوں سے جڑے ہوئے نظر آتے ہيں? البتہ عمومي جہالت، عقل و منطق سے خالي تعصب اور ايک دوسرے کے اختلافات کو برانگيختہ کرنے کا بھي بہت اثر پڑتا ہے ليکن يہ سب کچھ مقدمہ ہے اور صرف انہي عوامل کي بنياد پر تاريخ کے وہ اندوہناک واقعات رونما نہيں ہو سکتے تھے? ان بڑے سانحوں کي ذمہ داري زمانے کي طاقتوں پر ہے جنہوں نے ان اختلافات سے فائدہ اٹھانے کي کوشش کي? جب استعمار اسلامي ممالک ميں براہ راست يا بالواسطہ طور پر گھس آيا تو واضح ہو گيا کہ اس کي نظريں بھي اسي ہدف پر ٹکي ہوئي ہيں?

 

عالم اسلام ميں اختلافات اور تفرقہ پيدا کرنے والے حلقے

آج دنيا ميں "مسجد ضرار" (وہ مسجد جہاں بيٹھ کر منافقين مسلمانوں کے خلاف سازشيں تيار کرتے تھے وحي الہي سے پيغمبر اسلام کو منافين کي سازش کا علم ہوا اور آپ کو پتہ چلا کہ "مسجد ضرار" کي تعمير مسلمانوں کے درميان تفرقہ ڈالنے کے لئے کي گئي ہے چنانچہ آپ نے اس مسجد کو مسمار کر دينے کا حکم ديا) کي تعمير کے لئے پيسے خرچ کئے جا رہے ہيں? آج مسلمانوں کے اتحاد پر ضرب لگانے اور اسلامي فرقوں کے درميان اختلاف اور تنازعے کو ہوا دينے کے مقصد سے مراکز اور ادارے قائم کرنے کے لئے پيسے خرچ کئے جا رہے ہيں? کچھ شيطان صفت افراد ہيں جو بالکل اسي طرح جيسے اس نے اللہ سے کہا تھا کہ " ولاغونھم اجمعين" ( اور يقينا ميں ان سب کو گمراہ کروں گا حجر39) اور اس نے اپنے وجود کو بندگان خدا کو بہکانے اور گمراہ کرنے کے لئے وقف کر ديا، ان افراد نے بھي خود کو اختلافات پيدا کرنے کے لئے وقف کر رکھا ہے?

اسلامي بيداري کا مظہر وہ افراد نہيں جو آج عالم اسلام ميں دہشت گردي کي تصوير بنے ہوئے ہيں? جو لوگ عراق ميں مجرمانہ کارروائياں کر رہے ہيں، جو لوگ عالم اسلام ميں اسلام کے نام پر مسلمانوں کے خلاف سرگرمياں انجام دے رہے ہيں، جو لوگ شيعہ سني کے نام پر يا نسل پرستي کے نام پر مسلمانوں کے بيچ فتنہ و فساد پھيلانے کو اپنا فرض اوليں سمجھتے ہيں وہ ہرگز اسلامي بيداري کا نمونہ اور آئينہ نہيں قرار پا سکتے، يہ بات تو خود سامراجي طاقتيں بھي جانتي ہيں? جو لوگ رجعت پسند اور دہشت گرد گروہوں کے ذريعے مغربي دنيا ميں اسلام کو متعارف کرانے کي کوشش کر رہے ہيں انہيں بھي معلوم ہے کہ حقيقت اس سے الگ ہے?

آج عالم اسلام کے اندر بعض تفرقہ انگيز عناصر اہل بيت عليہم السلام کے مکتب فکر اور تعليمات کي شبيہ خراب کرنے کي کوشش کر رہے ہيں، ان کي ايسي تصوير کشي کرنے کي کوشش کر رہے ہيں جو حقيقت سے بالکل پرے ہے? آج مختلف ممالک ميں بڑي طاقتوں کے ہاتھوں بکے ہوئے درباري علماء شيعوں کے خلاف کفر کے فتوے دے رہے ہيں? شيعہ سني اختلاف آج امريکا کا سب سےمرغوب ہدف ہے، عالمي تسلط پسندانہ نظام کا اہم ہدف ہے اور ان کي آلہ کار حکومتوں کا بنيادي مقصد ہے?

بعض اسلامي حکومتيں

يہ بے پناہ زمين دوز ذخائر، يہ قدرتي دولت اور يہ بے شمار ہتھيار اسلامي ممالک اور مسلمان معاشروں کے پاس ہيں? ہم اپنا دفاع کرنے پر قادر کيوں نہيں ہيں؟ اس لئے کہ ہم متحد نہيں ہيں? ہم متحد کيوں نہيں ہيں؟ اس لئے کہ جن حکومتوں کو اتحاد کي ضمانت فراہم کرنا چاہئے ان کے اہداف کچھ اور ہي ہيں، قوم پرستانہ اہداف، کفر آلود اہداف اور غير اسلامي اہداف? البتہ قوموں کے دل ايک ساتھ ہيں? کون سي دو قوميں ہيں جن ميں ايک دوسرے کے لئے کينہ و نفرت ہو؟ آٹھ سالہ جنگ کے بعد ملت ايران اور ملت عراق کي آغوش ايک دوسرے کے لئے کھلي ہوئي ہے? جنگ کا تعلق قوموں سے نہيں ہے، اختلافات سے قوموں کا کچھ لينا دينا نہيں ہے، يہ سارا کيا دھرا حکومتوں کا ہوتا ہے جن کے پيش نظر غير اسلامي اہداف ہوتے ہيں? اس کا علاج کيا جانا چاہئے?

 

مسلمانوں کے مفادات سے علمائے اسلام کي لا تعلقي!

حقيقت يہ ہے کہ ايک ہزار سال تک شيعہ اور سني فرقوں کو لڑوايا گيا، انہوں نے ايک دوسرے کے خلاف کتابيں لکھيں، ايک دوسرے کے مقدسات کي توہين کي? مسلمانوں بشمول شيعہ سني کے درميان اختلافات کي ذہنيت موجود ہے? دشمن مسلمانوں کے ان دونوں بڑے فرقوں کے ما بين اختلافات کي آگ بھڑکانے کے لئے اسي ذہنيت کا فائدہ اٹھانے کي کوشش کرے گا? چنانچہ بعض اسلامي ممالک ميں کبھي شيعہ اہل علم کو سني حضرات کے جذبات کو برانگيختہ کرنے والا بيان دينے کے لئے تيار کيا جاتا ہے اور کبھي سني عالم دين کو ايسا بيان دينے کے لئے اکسايا جاتا ہے جس سے شيعہ فرقے کے جذبات مجروح ہوتے ہوں? بعض اسلامي ممالک ميں بد قسمتي سے يہ سلسلہ ديکھنے ميں آ رہا ہے? اگر اس سلسلے ميں علماء اپني ذمہ داري کو محسوس کريں اور اپنے فريضے کو پہچانيں اور اس بات پر اکتفا نہ کريں کہ حقيقت خود ان کي نظر ميں واضح ہے، وہ اس بات پر اکتفا نہ کريں کہ شخصي طور پر شيعہ فرقے سے ان کے اپنے برادرانہ تعلقات ہيں بلکہ تمام لوگوں کو اس اسلامي اخوت و برادري کا درس ديں، اس کي تلقين کريں اور دشمنوں کي سازشوں سے انہيں آگاہ کريں، اگر يہ کام انجام ديا جائے تو عوامي سطح پر بروئے کار لائے جانے والے دشمن کے حربوں کي کوئي گنجائش ہي باقي نہيں رہے گي?


اغيار سے وابستہ عناصر

بد قسمتي سے عالم اسلام ميں ايسے عناصر پائے جاتے ہيں جو امريکا اور سامراجي طاقتوں کي قربت حاصل کرنے کے لئے کچھ بھي کر گزرنے اور شيعہ سني اختلافات کو ہوا دينے کے لئے تيار ہيں? ميں اس وقت ايران کے بعض ہمسايہ ممالک ميں کچھ ايسے ہاتھوں کا مشاہدہ کر رہا ہوں جو بڑے منظم طريقے سے اور عمدي طور پر شيعہ سني فساد برپا کرنے کے در پے ہيں، مسلکوں، قوميتوں کو ايک دوسرے سے دور کر رہے ہيں اور سياسي حلقوں کو آپس ميں دست بگريباں کر رہے ہيں تاکہ گدلے پاني سے اپنے مفادات کي مچھليوں کا شکار کر سکيں اور اسلامي ممالک ميں اپنے ناجائز اہداف کو پايہ تکميل تک پہنچائيں? ہميں ہوشيار رہنا چاہئے? قوميں، حکومتيں، تمام مسلمان، سياسي حلقے، روشن خيال افراد اور سرکردہ شخصيات کو چاہئے کہ دشمن کي اس سازش کي جانب سے ہوشيار رہيں اور مختلف بہانوں سے اختلاف بھڑکانے کي دشمن کي کوششوں کو کامياب نہ ہونے ديں?


جعلي مسلک

علمائے اسلام بہت ہوشيار رہيں، آپ اتحاد کو پارہ پارہ کر دينے والے ان جعلي مسلکوں کي جانب سے بہت ہوشيار رہئے? تيل سے ملنے والے ان ڈالروں سے جو تفرقہ کے لئے استعمال ہو رہے ہيں بہت زيادہ محتاط رہئے? ان بکے ہوئے پليد ہاتھوں کي جانب سے جو مسلمانوں کے اتحاد کے "عرو? الوثقي" کو پارہ پارہ کر دينے کے در پے ہيں محتاط رہئے? ان کا مقابلہ کيجئے? يہي اتحاد سے لگاؤ اور اسلامي اتحاد کي راہ پر چلنے کا تقاضہ ہے? اس کے بغير ( اتحاد) ممکن ہي نہيں ہے?

اختلاف و شگاف کي ان دراز مدت سازشوں نے جو سو، دو سو يا پانچ سو سال سے جاري ہيں سامراجي مسلک پيدا کر دئے ہيں جو عالم اسلام کے پيکر عظيم ميں ايسے زخم لگائيں جن کا آساني سے مداوا نہ ہو سکے? مثال کے طور پر وہابيت اور بعض ديگر جعلي مسلک اور مکاتب جو عالم اسلام ميں شگاف اور انتشار پيد کرنے کے لئے وجود ميں لائے گئے ہيں?

شروع سے ہي وہابيت کو اسلامي اتحاد پر ضرب لگانے اور مسلم برادري کے درميان اسرائيل جيسا اڈہ قائم کرنے کے لئے تيار کيا گيا? جس طرح اسلام پر ضرب لگانے کے لئے ايک ٹھکانے کے طور پر اسرائيل کي تشکيل عمل ميں لائي گئي اسي طرح وہابيوں اور ان نجد کے حکمرانوں کي حکومت تيار کي گئي تاکہ اسلامي برادري کے اندر ان کا ايک محفوظ مرکز ہو جو ان سے وابستہ ہو اور آپ ديکھ رہے ہيں کہ يہي ہو رہا ہے?

 

مقدسات کي توہين

اسلامي نظام کے نقطہ نگاہ سے ايک دوسرے کے مقدسات کي بے حرمتي ريڈ لائن کا درجہ رکھتي ہے? جو افراد نادانستہ طور پر، غفلت ميں پڑ کر يا بعض اوقات اندھے اور نا معقول تعصب کي بنا پر، خواہ وہ شيعہ ہوں يا سني، ايک دوسرے کے مقدسات کي بے حرمتي کرتے ہيں انہيں اس کا ادراک ہي نہيں ہے کہ وہ کر کيا رہے ہيں؟! دشمن کے بہترين حربے يہي افراد ہيں?

شيعہ اور سني دونوں ہي اپنے اپنے مذہبي پروگرام، اپنے اپنے طور طريقے اور اپنے اپنے ديني امور انجام ديتے ہيں اور انہيں دينا بھي چاہئے? ريڈ لائن يہ ہے کہ ان کے درميان مقدسات کي بے حرمتي کي بنا پر خواہ بعض شيعہ افراد غفلت ميں پڑ کر اس کے مرتکب ہوں يا سني حضرات جيسے سلفي اور ديگر مسلکوں کي جانب سے ديکھنے ميں آتا ہے کہ ايک دوسرے کي نفي کرنے پر تلے رہتے ہيں، اس طرح کا کوئي کام انجام ديں تو يہ در حقيقت وہي چيز ہوگي جو دشمن کي مرضي کے مطابق ہے? ايسے مواقع پر آنکھيں کھلي رکھنے کي ضرورت ہے?


قومي اختلافات کي آگ

انتہا پسندانہ قوم پرستي کے نتيجے ميں پيدا ہونے والے قومي اختلافات زيادہ تر اغيار سے وابستہ روشن خيال افراد کي جانب سے بھڑکائے جاتے ہيں?

اتحاد مخالف بعض عوامل جيسے قومي اختلافات، مذہبي اختلافات، مسلکي اختلافات، فرقہ وارانہ اختلافات اور سياسي اختلافات کا موجود ہونا تقريبا ايک فطري امر ہے، اس کا مقابلہ کيا جانا چاہئے? انہي قومي، مسلکي، مذہبي اور فرقہ وارانہ اختلافات کي آڑ ليکر اسلام دشمن طاقتيں اپني دائمي سازش کے تحت مسلمانوں کے درميان اختلافات کو ہوا ديتي ہيں? ان اختلافات کے پيچھے دشمن کا ہاتھ، دشمن کي سازشيں اور دشمن کي چاليں صاف دکھائي ديتي ہيں? اس کا علاج ضروري ہے? تمام فرقوں کے اہل نظر حضرات کو چاہئے کہ مسلمانوں کے درميان فتنہ کي آگ پھيلنے اور باہمي بھائي چارے اور محبت و الفت کو مٹنے نہ ديں جو دشمنان اسلام کي کوشش ہے?

 

امت اسلاميہ ميں تفرقے کے  انديشے

دشمنان اسلام کا طمع و لالچ

اس وقت عالم اسلام ميں ہميں در پيش سب سے بڑا خطرہ تفرقہ کا ہے? اگر ہم ايک دوسرے سے الگ الگ ہوں گے تو ہميں ديکھ کر دشمن کے حوصلے بلند ہوں گے? عالم اسلام کي تمام حکومتوں اور مسلمان قوموں کو ہم اتحاد، وحدت اور قربت کي دعوت ديتے ہيں? اختلافات کو پس پشت ڈال دينا اور نظر انداز کرنا چاہئے? بعض اختلافات قابل حل ہيں، ہميں چاہئے کہ مل بيٹھ کر انہيں حل کر ليں? بعض اختلافات ممکن ہے کہ کوتاہ مدت ميں حل ہونے والے نہ ہوں، ان سے ہميں چشم پوشي کرکے آگے بڑھ جانا چاہئے? يہ ٹھيک وہ چيز ہوگي جو امريکيوں اور صيہونيوں کو نقصان پہنچائے گي? اسي لئے ان سب نے اس کے لئے جان لگا دي ہے?

 

امت اسلاميہ پر مظالم

اگر آج ملت فلسطين اس تلخ سرنوشت سے دوچار ہے، اگر آج ملت فلسطين کا پيکر خون ميں غلطاں ہے اور اس قوم کا درد و غم تمام دردمند انسانوں کے دلوں کي گہرائيوں ميں اتر گيا ہے تو يہ مسلمانوں کے اختلافات کا نتيجہ ہے? اگر اتحاد ہوتا تو آج يہ حالت نہ ہوتي? اگر اسلامي مملکت عراق قابضوں کے بوٹوں تلے روندي جا رہي ہے تو يہ مسلمانوں کے اختلافات کا نتيجہ ہے، اگر آج مشرق وسطي کے ممالک امريکا کي مغرورانہ اور بدمستانہ دہاڑ کي زد پر ہيں تو يہ مسلمانوں کے اختلاف کي ہي وجہ سے ہے?


تزلزل اور اسلام و مسلمين سے خيانت

جو بھي عالمي تسلط پسند طاقتوں سے مرعوب ہے وہ اس لئے ہے کہ اسے تنہائي اور پشتپناہي کے فقدان کا احساس ستا رہا ہے? اگر کوئي حکومت اور قوم مرعوب ہے تو اس کي بھي وجہ يہي ہے? اگر اسلامي حکومتوں اور قوموں ميں ايک دوسرے کے لئے اپنائيت کے جذبات پيدا ہو جائيں تو حکومتيں پائيں گي کہ قوميں ان کي پشتپناہي کے لئے کھڑي ہوئي ہيں? قوميں يہ ديکھيں کہ حکومتيں حقوق کي بحالي کے لئے کوشاں ہيں، قوميں ديکھيں کہ وہ آپس ميں بھائي بھائي ہيں? ان ميں ہمدلي اور ہمفکري ہے تو اس کے نتيجے ميں رعب و دہشت کي کوئي گنجائش نہيں رہے گي جو سامراج نے بعض قوموں اور سربراہان مملکت کے دلوں ميں پيدا کر رکھي ہے? اتحاد کا سب سے پہلا ثمرہ يہ ہوتا ہے کہ انسان کے اندر طاقت و توانائي کا احساس ابھرتا ہے جبکہ انتشار کا سب سے پہلا نتيجہ يہ ہوتا ہے کہ انسان اندر سے کھوکھلا ہوکر رہ جاتا ہے? " و تذھب ريحکم" انسان بلکہ پوري ايک قوم اپني شادابي اور تازگي سے محروم ہو جاتي ہے?


اصلي دشمن سے غفلت

موجودہ دور عالم اسلام کے اتحاد کا دور ہے? اسي موجودہ کمزور اتحاد کو درہم برہم کر دينے کے لئے دشمن کتني بڑي سرمايہ کاري کر رہا ہے? عراق اور ديگر اسلامي خطوں ميں حالات انہي سازشوں کي زد پر ہيں? اسلامي جماعتوں، اسلامي فرقوں، اسلامي قوميتوں اور اسلامي قوموں کے درميان مختلف بہانوں سے اختلافات پيدا کئے جا رہے ہيں? ايک ہے جو دوسرے کي جان کو آ گيا ہے اور دوسرا پہلے کو تہہ تيغ کئے در رہا ہے? ايک کے دل ميں دوسرے کا بغض بھرا ہوا ہے اور دوسرے کے دل ميں پہلے کا کينہ ہے? نتيجہ اس کا يہ ہے کہ مسلمان عالم اسلام کے اصلي دشمنوں، دنيا کے اس خطے پر تسلط اور غلبہ کے منصوبہ سازوں کي جانب سے غافل ہيں?

ہر فرقے اور مسلک کے محبان قرآن و اسلام اگر اپني بات ميں سچے ہيں اور واقعي انہيں ہمدردي ہے اور چاہتے ہيں کہ قرآن کي عظمت اور اس کا وقار برقرار رہے تو انہيں ياد رکھنا چاہئے کہ بعض ممالک ميں اختلافات پھيلانے کے لئے لٹائي جا رہي يہ رقم يہ بکے ہوئے قلم اور زبانيں، اسلام کي سربلندي کي رکاوٹيں ہيں اور يہ دشمن کي کارستانياں ہيں?
اتحاد کے قيام اور تقويت کے طريقے

اتحاد کے قيام اور تقويت کے طريقے

اتحاد کے دو مراحل ہيں? ايک مرحلہ الفاظ اور بيان کا ہے جو آسان ہے، ايسا کوئي خاص مشکل نہيں? البتہ بعض لوگ ايسے ہيں جو يہ آسان کام کرنے کے لئے بھي آمادہ نہيں ہيں اور بعض افراد مسلمان فرقوں کے خلاف اعلانيہ کفر کے فتوے صادر کر رہے ہيں? موجود ہيں ايسے افراد جو اتحاد مسلمين اور اسلامي فرقوں کي يکجہتي کے باب ميں ايک لفظ منہ سے نکالنے کے لئے تيار نہيں ہيں? بہرحال لفظي کوششوں کا مرحلہ بہت عام تو نہيں ہو سکا ہے ليکن بہرحال يہ کوئي مشکل اور دشوار مرحلہ نہيں ہے? دوسرا مرحلہ ہے عملي اقدام کا? اس کے لئے واقعي مجاہدت اور تندہي کي ضرورت ہے? بڑا سخت اور دشوار کام ہے ليکن يہ امر واجب ہے? بہت سے عناصر ہيں جو عمدا اتحاد کو نقصان پہنچانا چاہتے ہيں اور بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس راہ ميں لٹائے جانے والے پيسے سے ان کي تقويت بھي ہو رہي ہے اور تيل کي قيمت کے طور پر ملنے والے ڈالر کي بہت بڑي مقدار اسي راہ ميں خرچ ہو رہي ہے? بہرحال چونکہ موجودہ دور ميں يہ ( اتحاد کي عملي کوشش) واجب و لازم و ضروري ہے اس لئے اس کي سختيوں اور دشواريوں کو برداشت کرنا ہے?

ثقافتي طريقے

نبي اعظم? کي شخصيت کے پہلوؤں کي ترسيم

دنيا کے مسلمان نبي اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے اسم مبارک کے سائے ميں زيادہ آساني کے ساتھ متحد اور مجتمع ہو سکتے ہيں? يہ اس عظيم ذات کا کرشمہ ہے? ميں نے بارہا عرض کيا ہے کہ " يہ عظيم ہستي مسلمانوں کے جذبات کا محور اور نقطہ اجتماع ہے، مسلمان کو اپنے پيغمبر سے الفت ہے" پالنے والے! تو خود گواہ ہے کہ ہمارے قلوب محبت رسول سے سرشار ہيں? اس محبت کے ثمرات سے ہميں مستفيض ہونا چاہئے? يہ محبت بڑي کارساز اور مشکل کشا ہے?

علمائے اسلام، مسلم دانشور، مصنفين، شعراء اور عالم اسلام کے اہل فن حضرات کا عصري فريضہ ہے کہ جہاں تک ان سے ہو سکے نبي اکرم کي شخصيت اور اس مقدس وجود کي عظمت کے پہلوؤں کي مسلمانوں اور غير مسلموں کے لئے تصوير کشي کريں? يہ امر امت اسلاميہ کے اتحاد اور امت کے نوجوانوں ميں اس وقت اسلام کي جانب شديد رغبت کي لہر جو نظر آ رہي ہے اس کے سلسلے ميں بہت مددگار ثابت ہوگا?

اگر علمائے اسلام يہ قبول کرتے ہيں کہ قرآن کے مطابق " و ما ارسلنا من رسول الا ليطاع باذن اللہ" (ہم نے کسي بھي رسول کو مبعوث نہيں کيا، سوائے اس کے کہ اس کي اطاعت کي جائے، نساء 64) پيغمبر اس لئے نہيں آئے کہ وعظ و نصيحت کريں، کچھ بيان کريں اور امت اپنا کام کرتي رہے اور آپ کا احترام بھي کر ليا کرے? آپ اس لئے مبعوث کئے گئے کہ آپ کي اطاعت کي جائے، آپ معاشرے اور زندگي کي سمت و جہت کا تعين فرمائيں، نظام حکومت تشکيل ديں اور صحيح طرز زندگي کے اہداف کي جانب انسانوں کي ہدايت و رہنمائي کريں?

دشمن کے سلسلے ميں ہوشياري

قرآن کہتا ہے کہ " اے بيدار ذہن مسلمانو! دشمن کو کبھي بھي فراموش نہ کرو، تمہارے ذہن سے نکل نہ جائے کہ تمہارا دشمن موجود ہے، يہ نہ بھولو کے دشمن گھات لگائے بيٹھا ہے، يہ نہ بھولو کہ اگر تم نے پسپائي اختيار کي، اگر کمزوري کا مظاہرہ کيا تو دشمن وار کر بيٹھے گا" دشمن ضرب لگانے کے لئے ہر راستہ آزماتا ہے، اقتصادي راستہ، ثقافتي راستہ، سياسي راستہ اور سلامتي کا راستہ?
مسلم امت کو بيدار رہنا چاہئے? " الم اعھد اليکم يا بني آدم ان لا تعبدوا الشيطان انھ لکم عدو مبين" ( اے بني آدم کيا ہم نے تم سے يہ عہد نہيں ليا تھا کہ شيطان کي عبادت نہ کرنا کہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے، يس 60) دشمن کے آگے ہتھيار نہ ڈال ديجئے، دشمن کو فراموش نہ کيجئے، ياد رکھئے کہ دشمن موجود ہے? اسي شيطان کے سلسلے ميں اللہ تعالي اتني زيادہ تاکيد کے ساتھ فرماتا ہے کہ " انّ کيد الشيطان کان ضعيفا" ( شيطان کے مکر و حيلے کمزور ہيں، 76) يہي شيطان جس کي جانب سے بہت محتاط رہنا پڑتا ہے اور اگر احتياط کا دامن چھوٹ جائے تو آپ پر اس کا وار چل جائے گا? ہاں اگر آپ بيدار ہيں، چوکنے ہيں، متحد ہيں، متوجہ ہيں اور اپنے فرائض پر عمل کر رہے ہيں تو پھر اس کا مکر و فريب بے حد کمزور ہوگا اور وہ کچھ بھي نہيں بگاڑ پائے گا?

" انما سلطانہ علي اللذين يتولونہ" ( اس کا غلبہ صرف ان لوگوں پر ہوتا ہے جنہوں نے اسے اپنا سرپرست بنا ليا ہے، نحل100) شيطان کا زور ان پر چلتا ہے جو اس سے ڈرتے ہيں، اس سے خوف کھاتے ہيں، اس کو بہت بڑا سمجھتے ہيں? جو شخص اللہ تعالي کي ذات پر تکيہ کئے ہوئے ہے اور جو بندہ خدا ہے اس سے تو خود شيطان کو ڈرنا پڑتا ہے?


علمائے کرام کي ہمفکري و ہم خيالي

مختلف مسلکوں کے درميان فقہي ميدان ميں نظريات کے تبادلے سے بہت سے فقہي مسائل ميں ايک دوسرے کے قريب بلکہ مشترکہ فتوؤں تک پہنچا جا سکتا ہے? بعض اسلامي فرقوں کے ہاں فقہي ميدان ميں قابل قدر پيشرفت اور تحقيقات نظر آتي ہيں? ان سے دوسرے فرقے استفادہ کر سکتے ہيں? کبھي يہ بھي ممکن ہے کہ قرآن و سنت سے بعض احکام اور اسلامي امور کے استنباط ميں بعض فرقوں کے پاس جدت عمل ہو جس سے دوسرے فرقے بھي مستفيض ہو سکتے ہيں اور اس راستے سے مشترکہ فتوے تک رسائي حاصل کي جا سکتي ہے? ہم ديکھتے ہيں کہ کسي فرقے کے حوالے سے کوئي فتوا نقل کيا جاتا ہے جبکہ وہ فتوا اس فرقے کا بہت ہي غير معروف فتوا ہے جسے اس فرقے کے بہت کم افراد ہي مانتے ہيں? ممکن ہے کہ اس فرقے کے افراد اس فتوے کو زيادہ قابل اعتنا نہ سمجھيں اور ان کا اس پر کوئي اصرار نہ ہو? ہم مشترک فتوؤں کي نشاندہي کي کوشش کيوں نہ کريں؟


علماء کا فريضہ، حقائق پر روشني ڈالنا

علمائے اسلام آگے بڑھيں اور اسلامي اتحاد کو عملي جامہ پہنائيں اور ايک ايسا منشور تيار کريں جس کي تائيد اور جسے عملي جامہ پہنانے کي کوشش عالم اسلام کے تمام روشن خيال حضرات، تمام سرکردہ اور مخلص سياسي شخصيات کريں تاکہ کسي مسلمان کي يہ جرئت نہ ہو کہ کسي اور مسلک سے تعلق رکھنے والے کلمہ گو کو کافر قرار دے?

مسلمان بھائي خواہ وہ ايران ميں، يا عراق ميں ہوں، يا پاکستان ميں ہوں، يا لبنان ميں ہوں يا پھر دنيا کے ديگر علاقوں ميں آباد ہوں، ان کا تعلق کسي بھي مسلک و فرقے سے ہو، سب يہ بات جانتے ہيں کہ حقيقي علمائے اسلام کا نظريہ يہ ہے کہ " اپنے مسلمان بھائي کے خون سے اپنا ہاتھ رنگين کرنا نا قابل بخشش گناہوں ميں ہے" کچھ لوگ اسلام کي پيروي کے نام پر اور اسلام کي پابندي کے نام پر اپنے ہاتھ اپنے مسلمان بھائي کے خون سے آلودہ کر ليتے ہيں، يہ تو دائرہ اسلام سے نکل جانے والا اقدام ہے? سب کے سب يہ بات ذہن نشين کر ليں کہ ديگر مسلم اقوام کے ساتھ ملت ايران کا برادري و اخوت کا رشتہ حقيقي رشتہ ہے?
مسلکي اختلاف اپني جگہ? شيعہ، شيعہ ہے اور سني، سني ہے? اہل تشيع اور اہل تسنن کے ما بين فکري اور عقيدتي اختلافات ہيں ليکن پھر بھي يہ سارے کے سارے لوگ "لا الہ الا اللہ و محمد رسول اللہ" کے پرچم تلے برادرانہ جذبے کے ساتھ جمع ہوں اور دشمنان اسلام اور دشمنان امت اسلاميہ کے مقابلے ميں پامردي کا مظاہرہ کريں?


اختلافي باتوں کو بنياد نہ بنائيں

حقيقي اسلام اور وہ اسلام جس کي بنياد پر اسلامي نظام کي تشکيل عمل ميں آئي ہے اس کا نعرہ يہ ہے کہ مسلمانوں کو عقائد اور مذہبي بنيادوں ميں اختلافات کے باوجود متحد رہنا چاہئے، مشترکہ نکات کو بنياد بنانا چاہئے، ايک دوسرے کے جذبات کو مجروح کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے? اس طرز فکر والي يہ ديني فضا جس ميں آزادي، انصاف، جمہوريت اور پورے عالم اسلام پر اور امت اسلاميہ کے درميان اتحاد کي تقويت کي راہ ہموار ہو، ہماري سعي و کوشش کے شعبوں ميں سے ايک ہے، ہميں اس ميدان ميں مجاہدت کرنا چاہئے?

شيعہ اور سني حضرات اپنے اختلافات کو اپنے تک محدود رکھيں، عالمي برادري کي سطح پر اور منظر عام پر اختلافات کا دکھاوا کرنے سے گريز کريں? اتحاد کا مظاہرہ کريں اور امت اسلاميہ کے اتحاد کو سامنے لائيں? جو افراد تبليغ کے فرائض انجام ديتے ہيں وہ تبليغي عمل خوش اسلوبي کے ساتھ اور مدلل اور علمي بيان کے ذريعے انجام ديں تاکہ دلوں کو حق و حقيقت کي جانب متوجہ کيا جا سکے?

آپ جہاں کہيں بھي ہوں، اگر آپ کو يہ نظر آئے کہ کوئي مقرر کوئي خطيب، کوئي اخبار اور کوئي مقالہ نگار اپني باتوں سے، اپنے کنايوں سے، اپنے صريحي بيانوں سے عوام ميں تشويش پيدا کرنے کي کوشش کر رہا ہے، لوگوں کے اتحاد کو ختم کر دينے کے در پے ہے تو آپ يقين جانئے کہ وہ بہت بڑي غلطي کر رہا ہے اور غلط راستے پر چل رہا ہے? اگر آپ يہي بات ذہن نشين رکھيں تو بھي کافي ہے? ضروري نہيں ہے کہ آپ کوئي اقدام بھي کريں? بس آپ اپنے ذہن ميں يہ بات رکھئے کہ جو کوئي بھي يہ طرز عمل اختيار کر رہا ہے وہ بہت بڑي غلطي کا شکار ہے اور اس سے بہت بڑي بھول ہوئي ہے?


سياسي طريقے

مشترکہ دشمن کے مقابلے ميں باہمي اتحاد

امت اسلاميہ کا اتحاد ايک مقدس اور عظيم تمنا ہے جو عالم اسلام کے ہر گوشے ميں لوگوں کے دلوں ميں موجود ہے? اس ہدف کے حصول کے کچھ مقدمات اور کچھ شرائط ہيں کيونکہ يہ بڑا سنگين کام اور بہت اونچي چوٹي ہے اور اس کے علاوہ اس راستے ميں دشوارياں اور مشکلات بھي بہت زيادہ ہيں? اسي آج کے دور ميں دنيا بھر ميں ايسے حلقے موجود ہيں جو مسلمانوں کو ايک دوسرے سے الگ کرنے کي پيہم کوششوں ميں مصروف ہيں? اگر ان کے بس ميں ہوتا ہے تو وہ دو مسلم ملکوں کے درميان جنگ کروا ديتے ہيں اور اگر وہ اس ميں کامياب نہ ہوئے تو سياسي جنگ، عقيدتي تنازعہ مذہبي اختلاف اور فرقہ وارانہ عناد پيدا کر ديتے ہيں? جو لوگ ان کاموں ميں لگے ہوئے ہيں وہ گلي کوچے کے عام افراد نہيں بلکہ وہ طاقتور مراکز ہيں جن کے پاس عالمي سلامتي، سياست اور دولت ہے? بنابريں اتحاد مسلمين کي کوششوں کي راہ ميں ان کي جانب سے ان دشواريوں کا کھڑا کيا جانا طے ہے، اس سے بچا نہيں جا سکتا?

اسلامي ممالک کا سربراہي اجلاس ممالک کے حکام و عوام کے مابين اور اسي طرح حکام کي صفوں کے اندر دوستانہ تعاون، مضبوط انتظامي توانائي اور اتحاد و يکجہتي کي علامت ہے? امريکي حکام کو اس ميں عظيم، مشترکہ اور پيچيدہ کارناموں کي انجام دہي کي صلاحيت و توانائي صاف نظر آ گئي ہے اور سامراج کے لئے اسلامي بيداري بہت بڑا خطرہ ہے? جہاں بھي اسے يہ خطرہ نظر آتا ہے وہ حملہ آور ہو جاتا ہے، اسے اپنے حملوں کي آماجگاہ بنا ديتا ہے? (اس خطرے کا عامل) خواہ شيعہ ہوں يا اہل سنت?
سامراج فلسطين ميں حماس کے سلسلے ميں وہي نقطہ نگاہ اور وہي سلوک اپنائے ہوئے ہے جو لبنان ميں حزب اللہ کے ساتھ اس نے روا رکھا ہے? وہ (حماس) سني ہے اور يہ ( حزب اللہ) شيعہ تنظيم ہے? دنيا کے ہر گوشے ميں ديندار اور فرض شناس مسلمانوں کے ساتھ سامراج کا رويہ ايک ہي ہے وہ مسلمان خواہ شيعہ ہوں يا سني?


اقتصادي طريقے

ايسا ہر عمل جو اسلامي قوتوں کو يکجا کرنے کے لئے انجام ديا جائے اور جس سے عظيم امت اسلاميہ زندگي کے مختلف امور سے متعلق فيصلوں ميں منظم ہو وہ اسلام کي خدمت، اسلامي ممالک کي خدمت اور انسانيت کي خدمت کا درجہ رکھتا ہے? اسلامي ممالک کے مرکزي بينکوں کے سربراہوں، اسلامي ترقياتي بينک کے سربراہ اور مالياتي خدمات انجام دينے والے اداروں کے سربراہوں کے بنکاري کے کام اسي زمرے ميں آتے ہيں اور اسي سمت و جہت ميں قرار پاتے ہيں?

اگر اسلامي ممالک حقيقي معني ميں ايک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو جائيں، ہم يہ نہيں کہتے کہ ان کے درميان سياسي اتحاد تشکيل پا جائے بلکہ ان کے ما بين دوستانہ روابط و تعلقات قائم ہو جائيں، مثلا مشترکہ بازار کے لئے جو زير بحث بھي ہے سنجيدہ اقدام اور فيصلہ کيا جائے? اس راستے کي مشکلات کي نشاندہي کرکے ان کے حل تلاش کئے جائيں تو عالم اسلام کي فکرمندي بڑي حد تک ختم ہو جائے گي? بالفاظ ديگر بہت سي مشکلات کي شدت ميں کمي واقع ہوگي?


اتحاد کے علمبردار

آيت اللہ العظمي بروجردي اور شيخ محمود شلتوت

دو نماياں اور ممتاز شخصيتيں جن ميں ايک اپنے زمانے کے عظيم فقيہ، شيعوں کے عظيم الشان مرجع تقليد اور ماضي قريب کے ادوار ميں عديم المثال مذہبي پيشوا حضرت آيت اللہ العظمي بروجردي تھے اور دوسري شخصيت اہل سنت کے با عظمت فقيہ اور مفتي اعظم، الازہر يونيورسٹي کے شجاع اور جديد افکار کے حامل علامہ شيخ محمود شلتوت کي ہے? آيت اللہ بروجردي مرحوم مصر کے "دار التقريب" ادارے کے بانيوں ميں تھے? شيخ شلتوت بھي اسي طرح "دار التقريب بين المذاہب" ادارے کے بانيوں ميں تھے? يہ تقريب (اسلامي مکاتب فکر کو ايک دوسرے کے قريب لانا) شيعہ اور سني علما دونوں کا فريضہ ہے?

 
برسوں قبل آيت اللہ بروجردي مرحوم رضوان اللہ تعالي عليہ اور مصر ميں بعض اکابرين اور علمائے اہل سنت کے زمانے سے يہ خيال سامنے آيا کہ اختلافات کو حاشئے پر ڈال ديا جائے? سني، سني رہے اور شيعہ، شيعہ رہے? ہر کوئي اپنے عقيدے کا پابند رہے اور اس کے ساتھ ہي ايک دوسرے کا مددگار بن جائے? اس زمانے ميں شيعوں کے عظيم الشان مرجع تقليد کا عزم و حوصلہ اور مصر کے مفتي اعظم کي شجاعت و آزاد منشي وقت کے تقاضے کے مطابق بہت بڑا قدم تھا? آج کے دور ميں بھي اکابرين، مفکرين، علمائے دين، دانشوروں، مفتيوں اور سياستدانوں ميں ہر ايک پر اس تعلق سے بہت بڑي ذمہ دارياں ہيں?

نصف صدي قبل ان دونوں عظيم ہستيوں نے اس نماياں حقيقت کا ادراک کيا اور اس کي راہ ميں مساعي انجام ديں? اگر اہل علم و ارباب سياست اس مشن کو سنجيدگي سے آگے بڑھاتے تو شائد آج عالم اسلام کو مسلمانوں کے اختلافات کے دردناک عواقب نہ بھگتنے پڑتے? شائد فلسطين کي مصيبت اور عالم اسلام کے ديگر اندوہناک مسائل اس طرح در پيش نہ ہوتے?


سيد جمال الدين اسد آبادي

سيد جمال الدين اسد آبادي ہماري گزشتہ تاريخ کي ان اہم ترين شخصيتوں ميں سے ايک ہيں جنہوں نے مسلمانوں کو اتحاد کي دعوت دي? سيد جمال الدين کا نظريہ يہ تھا کہ اگر عالم اسلام سياسي و روحاني حيات نو کا خواہاں ہے تو اسے اتحاد قائم کرنے کي اشد ضرورت ہے? سيد جمال الدين اسد آبادي کے سفر، مذاکرات، بيانات سب کچھ اسي تناظر ميں ہوتے تھے? سيد جمال الدين اسد آبادي کو اہل سنت، سني کہتے تھے اور شيعہ انہيں شيعہ مانتے تھے? يعني دونوں فرقے انہيں پسند کرتے تھے? سيد جمال الدين اسد آبادي ايراني شيعہ اور سادات ميں سے تھے? شافعي سني عالم دين شيخ محمد عبدہ کي آواز سے انہوں نے اپني آواز ملائي اور ان کا پيغام پوري دنيا ميں گونج اٹھا? سيد جمال الدين اسد آبادي وہ شخصيت تھے جس نے اسلام کے احياء کا پرچم بلند کيا? معلوم ہوا کہ اسلام کے احياء کا پرچم شيعہ يا سني کي تفريق قبول نہيں کرتا?


امام خميني رضوان اللہ عليہ

امام خميني رحمت اللہ عليہ نے جن عظيم اہداف کي نشاندہي فرمائي وہ اس طرح ہيں؛ عالمي استکبار سے مقابلہ، "نہ مشرقي نہ مغربي کا نعرہ" ( يہ نعرہ اس دور سے متعلق ہے جب دنيا مشرقي اور مغربي بلاکوں ميں تقسيم تھي) قوم کي ہمہ جہتي خود مختاري يعني مکمل خود کفائي پر بہت زيادہ تاکيد، اسلامي شريعت و فقہ اور اصول دين کي پاسداري و پاسباني پر بے حد تاکيد، اتحاد و يکجہتي کا قيام، دنيا کي مظلوم اور مسلمان قوموں پر توجہ، اسلام اور مسلم اقوام کي توقير، عالمي طاقتوں کے سامنے بے خوفي، اسلامي معاشرے ميں انصاف و مساوات کي ترويج، معاشرے کے محروم اور مستضعف طبقوں کي دائمي اور بے دريغ امداد و حمايت? ہم سب نے ديکھا کہ امام (خميني رحمت اللہ عليہ) نے ان اہداف کے لئے بڑي تاکيد اور تندہي کے ساتھ سعي پيہم فرمائي? ہميں چاہئے کہ آپ کے مسلسل جاري مشن اور اعمال صالح کو آگے بڑھائيں اور آپ کے راستے پر چليں?

اسلامي اتحاد و يکجہتي کے مظاہر

امت اسلاميہ کا شکوہ

حج مسلمانوں کے اتحاد و وحدت کا مظہر ہے? يہ جو اللہ تعالي نے تمام مسلمانوں کو، جو بھي اس کي استطاعت رکھتا ہے ايک مخصوص وقت ميں ايک خاص نقطے پر جمع ہونے کي دعوت دي ہے اور ان اعمال و مناسک کے تناظر ميں جو نظم و ترتيب، ہم آہنگي و تال ميل، اور پر امن بقائے باہمي کا آئينہ ہيں مسلمانوں کو شب و روز ايک دوسرے کے ساتھ اکٹھا کر ديا ہے، اس کا سب سے پہلا اور نماياں اثر ہر فرد ميں اتحاد اور اجتماعيت کا احساس پيدا ہونا اور مسلمانوں کے اجتماع کي شان و شوکت کے مناظر کا سامنے آنا اور احساس عظمت سے ان کے ہر فرد کے ذہن و دل کا سرشار ہو جانا ہے?

حج امت اسلاميہ کے اتحاد و يگانگت، درميان سے پردوں اور حجابوں کے ہٹ جانے اور دشمن کي ايجاد کردہ يا تعصب اور توہمات کے نتيجے ميں پيدا ہونے والي خليج کے پٹ جانے کا مظہر اور متحدہ مسلم امہ کي تشکيل کي سمت ميں اٹھايا جانے والا ايک قدم ہے? دوسري جانب يہ دشمنان خدا سے برائت و بيزاري اور مشرکين اور شرک و کفر کے مہروں سے دوري کا آئينہ ہے?


ہفتہ اتحاد

اسلامي جمہوريہ نے عالم اسلام کو دعوت دي ہے کہ آئيے بارہ ربيع الاول سے سترہ ربيع الاول تک اتحاد کا تجربہ کريں? ايک روايت کے مطابق جسے اہل سنت کي اکثريت مانتي ہے اور بعض شيعہ بھي اسے قبول کرتے ہيں بارہ ربيع الاول پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کا يوم ولادت با سعادت ہے? دوسري روايت سترہ ربيع الاول کي ہے جسے شيعوں کي اکثريت اور سنيوں ميں بعض لوگ مانتے ہيں? بہرحال بارہ سے سترہ ربيع الاول تک جو نبي اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي ولادت کے ايام ہيں عالم اسلام کے اتحاد و يکجہتي پر زيادہ توجہ دي جاني چاہئے? يہ مستحکم حصار اور مضبوط قلعہ اگر تعمير کر ليا جائے تو کوئي بھي طاقت اسلامي ملکوں اور قوموں کي حدود ميں قدم رکھنے کي جرئت نہيں کر سکے گي?

ہم يہ نہيں کہتے کہ دنيا کے اہل سنت حضرات آکر شيعہ ہو جائيں، يا دنيا کے شيعہ اپنے عقيدے سے دست بردار ہو جائيں? البتہ کوئي سني يا کوئي دوسرا شخص تحقيق اور مطالعہ کرے اور پھر اس کے نتيجے ميں وہ جو کوئي بھي عقيدہ اپنائے وہ اپنے عقيدے اور اپني تحقيق کے مطابق عمل کر سکتا ہے? يہ اس کے اپنے اور اللہ تعالي کے بيچ کا معاملہ ہے? ہفتہ اتحاد ميں اور اتحاد کے پيغام کے طور پر ہمارا يہ کہنا ہے کہ مسلمانوں کو ايک دوسرے کے قريب آکر اتحاد قائم کرنا چاہئے، ايک دوسرے سے دشمني نہيں برتنا چاہئے? اس کے لئے محور کتاب خدا، سنت نبي اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم اور شريعت اسلاميہ کو قرار ديا جائے? اس بات ميں کوئي برائي نہيں ہے? يہ تو ايسي بات ہے جسے ہر منصف مزاج اور عاقل انسان قبول کرے گا?


يوم قدس

يوم قدس عالم اسلام کے اتحاد و يکجہتي کے حقيقي جلوؤں ميں سے ايک ہے? امت اسلاميہ کي يکجہتي کا دن پرچم نجات قدس کے زير سايہ منايا جائے? عالم اسلام کے مشرقي نقطے يعني انڈونيشيا سے ليکر عالم اسلام کے مغربي نقطے يعني افريقا اور نائيجيريا تک جہاں کہيں بھي عوام کو اپني خواہش و ارادے کو ظاہر کرنے کا موقع ملے وہ اس دن ضرور ظاہر کريں? اس وقت عالم اسلام مسئلہ فلسطين کے تعلق سے بے حد حساس اور پر جوش نظر آ رہا ہے? وجہ يہ ہے کہ عالم اسلام ميں بيداري آ چکي ہے? لہذا ہميں اس دن کا احترام کرنا چاہئے، مظلوم ملت فلسطين کي حمايت ميں اٹھنے والي اپني آواز کو دنيا والوں کے کانوں تک پہنچانا چاہئے، ماہ رمضان المبارک کے فيوضات سے الہام حاصل کرتے ہوئے اپنے دلوں کو مستحکم و پائيدار بنانا چاہئے اور وعدہ الہي پر اپنے ايمان و ايقان کو قوي تر کرنا چاہئے?

 

اسلامي عيديں

اسلامي عيد مسلمانوں ميں اتحاد و يگانگت کا احساس جگانے کے لئے ہے? اسلامي عيد يعني وہ دن جب پورے عالم اسلام ميں لوگ جشن منائيں? اسلامي عيد کے دو پہلو ہيں? ايک پہلو اللہ تعالي اور روحانيت و معنويت کي جانب توجہ اور ارتکاز کا ہے اور دوسرا پہلو تمام مسلمانوں کا محور واحد کے گرد جمع ہو جانا ہے? تمام اسلامي عيدوں اور تقاريب ميں ہمارے لئے ان خصوصيات پر توجہ دينا ضروري ہے تاکہ ہم مسلمانوں کے دل ايک دوسرے کے قريب ہوں? آج مسلمانوں کو ہر دور سے بڑھ کر اس کي ضرورت ہے کہ ان کے دل ايک دوسرے کے نزديک ہوں?

 

دار التقريب

ميں اسلامي فرقوں اور مسلکوں کي ايک دوسرے سے قربت کو لازم، واجب اور ضروري سمجھتا ہوں اور اسے اسلامي نظام کے اہداف کي راہ ميں اٹھايا گيا قدم مانتا ہوں? ميرا يہ نظريہ ہے کہ اتحاد شکني کا عمل امت اسلاميہ کے پيکر پر کاري ضرب کے مترادف ہے?
جس دار التقريب اسلامي مسلکوں کو ايک دوسرے کے قريب لانے کے لئے کوشاں ادارے کي بات ہم کر رہے ہيں وہ اسي لئے ہے? مصر ميں جو دار التقريب تھا وہ ہمارے نزديک بہت قابل قدر اور محترم تھا اور آج بھي اس کا ہم بہت احترام کرتے ہيں?
ليکن بد قسمتي يہ رہي کہ اسے کام ہي نہيں کرنے ديا گيا اور آج بھي اسے يہ موقع نہيں ديا جا رہا ہے? صرف ايک مختصر عرصے ميں جب "رسال? الاسلام" نامي مجلہ شائع ہوتا تھا اور شلتوت مرحوم اور شيخ سليم مرحوم بقيد حيات تھے، دار التقريب نے بڑي اچھي سرگرمياں انجام ديں? آيت اللہ بروجردي مرحوم جو ہمارے مرجع تقليد تھے مصر کے دار التقريب کے پشت پناہوں ميں شامل تھے? جامع? الازھر کے چانسلر پہلے شيخ سليم تھے جو دار التقريب کے باني اور اس کے مقدمات فراہم کرنے والے تھے، اس کے بعد شيخ محمود شلتوت الازہر کے چانسلر بنے جو مصر کے مفتي بھي تھے?
انہوں نے بھي دار التقريب کے سربراہ کے فرائض انجام دئے? يہ شخصيتيں تقريب المذاہب کي پشت پناہي کرتي تھيں? آج بھي دنيائے اسلام کو اس کي اشد ضرورت ہے? اس تقريب کا مقصد يہ ہے کہ اسلامي فرقے افکار و نظريات کي سطح پر ايک دوسرے کے قريب آئيں? بہت ممکن ہے کہ مختلف فرقوں ميں ايک دوسرے کے تعلق سے پائے جانے والے تصورات سے بحث و گفتگو کے نتيجے ميں بڑے اچھے اور مفيد نتائج نکليں?
شائد بہت سي غلط فہمياں دور ہو جائيں اور بعض نظريات ميں اعتدال پيدا ہو جائے اور بعض افکار حقيقي معني ميں بالکل قريب اور ہم آہنگ ہو جائيں? ايسا ہو جائے تو يہ بہترين صورت حال ہوگي? کم سے کم يہ ہونا چاہئے کہ اشتراکات اور مشترکہ باتوں پر زور ديا جائے? باہمي گفتگو، مذاکرات اور تبادلہ خيال کا کمترين فائدہ يہ ہوگا? بنابريں تفرقہ انگيز باتيں اٹھانے سے گريز کيا جانا چاہئے?

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬