15 March 2010 - 17:41
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 1087
فونت
جامعة المصطفی العالمیه کے سربراہ :
رسا نیوز ایجنسی ـ جامعة المصطفی العالمیہ کے سربراہ نے چند نادرست تقریر کے جواب میں نظام ولایت فقیہ کے نظام کو باسشاہی نظام سے مقائسہ کرتے ہوئے کہا : ولایت فقیه کا نظام بادشاہی نظام کے خلاف ہے ارثی نظام نہی ہے ۔
حجت الاسلام والمسلمين علي رضا اعرافي
 
حجت الاسلام والمسلمین علی رضا اعرافی، جامعة المصطفی العالمیہ کے سربراہ رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر سے گفت و گو میں کہا : ولایت فقیہ کے اور بادشاہی نظام میں بہت زیادہ فاصلہ پایا جاتا ہے  کیونکہ ولایت فقیہ کا نظام ارثی نہی ہے تا کہ ارث کے بنا پر کسی شخص کو حاصل ہو جائے اور تنہا ملاک ارث نہی ہے؛ بلکہ متعدد ملاک پائے جاتے ہیں ۔

انہوں نے کہا : بادشاہ کے یہاں کوئی انتخاب نہی پایا جاتا؛ لیکن نظام ولایت فقیہ میں انتخاب ہے گر چہ وہ دو مرحلہ میں ہو ۔

حوزہ علمیہ قم کے جامعہ مدرسین کے ممبر نے اظہار خیال کیا : ولایت فقیہ کے نظام میں ولی فقیہ کا
فیصلہ عدالت اور علم کے ساتہ ملا ہوا ہوتا ہے اور باطنی مراقبت پائی جاتی ہے اس کے باوجود مجلس خبرگان رھبری بھی ہوتی ہے کہ جو ایک کلی نظارت ولایت فقیہ کے باب میں اعمال کرتا ہے ۔ 
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬