06 April 2010 - 15:29
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 1145
فونت
قائد انقلاب اسلامی:
رسا نیوزایجنسی - ملک کے اعلی عہدہ داروں نے آج شام قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی.
قائد انقلاب اسلامي

 


رسا  نیوزایجنسی کی رھبر معظم کی خبر رساں سائٹ سے منقولہ رپورٹ کے مطابق ، ملک کے اعلی عہدہ داروں نے آج شام قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔

ملاقات کرنے والوں میں کابینہ کے ارکان، پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی کی صدارتی کمیٹی، پارلیمانی کمیشنوں کے سربراہ، عدلیہ کے اعلی حکام، نگراں کونسل کے سکریٹری اور اس کونسل کے ماہرین قانون شامل تھے۔ حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے قائد انقلاب اسلامی نے ملک کی ترقی کے عمل میں حکام کے اتحاد و یکجہتی اور یگانگت و ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا اور فرمایا کہ حکام کو چاہئے کہ محتلف شعبوں میں ملک کے اندر پائی جانے والی بے پناہ مادی و روحانی صلاحیتوں اور وسائل کی صحیح شناخت اور ان کے صحیح استعمال نیز دگنے عزم اور دگنی محنت کے ساتھ ملک کے بیس سالہ ترقیاتی منصوبے میں معین شدہ اہداف تک بالکل اس سے بالاتر منزل تک رسائی کے لئے اپنی تمام تر توانائیوں کو بروئے کار لائیں۔


قائد انقلاب اسلامی نے نئے ہجری شمسی سال کی ایک بار پھر مبارکباد پیش کی اور فرمایا کہ نئے سال کے بابرکت ہونے کا دارومدار اس پر ہے کہ حکام با مقصد اور پر جوش سعی و کوشش کے ذریعے اور عمل و محنت میں کسی بھی حد پر پہنچ کا اکتفا نہ کرنے کے عزم کے ساتھ ایران کے با ایمان عوام پر برکات الہی کے نزول کی راہ ہموار کریں۔


قائد انقلاب اسلامی نے ملک میں موجود صلاحیتوں اور استعداد کو زمین کی تہوں میں پوشیدہ یا محدود مقدار میں باہر نکالی گئی معدن سے تعبیر کیا اور فرمایا کہ اقتصادی شعبوں میں ملک کی صلاحیتیں اور توانائیاں بہت زیادہ ہیں اور علم و دانش کے میدان میں بھی وہ حیرت انگیز استعداد کا مالک ہے۔ قائد انقلاب اسلامی نے ملک میں علم و دانش کے شعبے میں پائی جانے والی بے پناہ صلاحیتوں اور مہارتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ سائنس و ٹکنالوجی کے میدان میں بھی ملک کی صلاحیتیں ناقابل تصور ہیں اور بڑے اقدامات کے لئے ہموار زمین دستیاب ہے۔


قائد انقلاب اسلامی نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ صلاحیتوں کی شناخت اور ان کے صحیح استعمال کے سلسلے میں چوٹی کی سمت گامزن ہونا چاہئے اور بیچ راہ میں کہیں بھی رکنا نہیں چاہئے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر ہم نے ان صلاحیتوں کے استعمال کے لئے کمر ہمت نہ کسی تو اس کا مطلب ہے کہ ہم سے کوتاہی ہوئی ہے اور یہ کوتاہی سب پر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔


 قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ عوام کی خدمت اور ضروری مواقع پر ان کی خدمت میں حاضر رہنا خدائی عمل ہے۔ آپ نے فرمایا کہ صدر اسلام میں بعض ہستیوں اور اصحاب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدح و ثنا کئے جانے کی وجہ کثرت عبادت و مناجات نہیں بلکہ ان کا درست سیاسی موقف اور ان کا جہاد تھا۔ اسی طرح صدر اسلام میں بعض افراد کی مذمت بھی حرام کاموں کے ارتکاب اور گناہوں کے باعث نہیں بلکہ ضرورت کے وقت میدان عمل سے ان کی غیبت کے باعث تھی۔


قائد انقلاب اسلامی نے ملک کی پیشرفت کے عمل میں حکام کے اتحاد و یکجہتی کی حفاظت کو انتہائی اہم قرار دیا اور فرمایا کہ حکام کے اتحاد و یگانگت کا مطلب نظریات اور طرز فکر کے اختلاف کو نظر انداز کرنا نہیں ہے کیونکہ طرز فکر کا اختلاف اور ماہرانہ و عالمانہ مباحثے سے امور میں پیشرفت حاصل ہوتی ہے چنانچہ اختلاف رائے کو ملک کی پیشرفت کے عمل کے رک جانے یا لوگوں کی راہوں کے جدا ہو جانے کا باعث نہیں بننے دینا چاہئے۔


قائد انقلاب اسلامی نے تمام حکام بالخصوص مجریہ، مقننہ اور عدلیہ کے سربراہوں کو بڑے فیصلوں کے سلسلے میں آپس میں اتحاد و ہم آہنگی قائم کرنے کی سفارش کی اور فرمایا کہ موجودہ حالات میں پانچواں ترقیاتی منصوبہ ملک کے سامنے ہے اور اس منصوبے نے حکام کے دوش پر سنگین ذمہ داریاں ڈال دی ہیں جن کی تکمیل کے لئے ان کے ما بین ہم آہنگی اور یکجہتی ضروری ہے۔


قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ حکومت اجرائی محکمے کے طور پر اجرائی امور کے سلسلے میں میدان عمل میں ہے اور سب کو چاہئے کہ مصلحتوں اور مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت کی مدد کریں اور اجراء کے لئے سہولیات فراہم کریں تاکہ تمام امور آگے بڑھ سکیں۔ قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے بیس سالہ ترقیاتی منصوبے میں طے شدہ اہداف کے حصول کو تینوں محکموں کی نہایت اہم اور سنگین ذمہ داری قرار دیا اور فرمایا کہ بعض شعبوں میں ہم اس وقت ترقیاتی منصوبے میں طے شدہ وقت کے لحاظ سے آگے ہیں اور بعض شعبوں میں ہماری پیشرفت میں لازمی سرعت نہیں ہے، بنابریں بلند ہمتی کے ساتھ محنت کرنا چاہئے تاکہ بیس سالہ ترقیاتی منصوبے کے اہداف سے ہم آگے نکل جائیںـ


قائد انقلاب اسلامی نے معاشرے میں محنت و عمل کی ترویج کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سبسڈی کو با ہدف و با مقصد بنانے کے موضوع کی جانب اشارہ کیا اور فرمایا کہ میں امید کرتا ہوں کہ حکومت اور پارلیمنٹ کے درمیان مطلوبہ ہم آہنگی قائم ہو تاکہ سبسڈی کو با مقصد بنانے کے قانون کے اجراء کے ساتھ ہی عوام حکام کی محنت و تدبر کے ثمرات سے مستفیض ہو سکیں۔


قائد انقلاب اسلامی نے اسلامی نظام میں فرائض منصبی کو بہت سنگین اور اہم فریضہ قرار دیا اور فرمایا کہ اسلامی نظام کے حکام کو یاد رکھنا چاہئے کہ ان کے عہدے کے ایک ایک لمحے کے سلسلے میں آخرت میں ان سے بازپرس کی جائے گی بنابریں انہیں اس طرح عمل کرنا چاہئے کہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں اطمینان بخش جواب دے سکیں۔


آپ نے دنیوی زندگی اور مساعی کا اصلی ہدف آخرت کی زندگی میں فلاح و نجات کا حصول قرار دیا اور حکام کو اللہ تعالی کے تقرب اور قرآن میں تدبر کے سلسلے میں بلند ہمتی سے کام لینے کی سفارش کی۔

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬