07 April 2010 - 19:20
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 1155
فونت
آیت الله مکارم شیرازی:
رسا نیوز ایجنسی ـ حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے بعض افکار پر تنقید کرتے ہوئے تاکید کی اور کہا : ایک چہرہ ہونا چاہیئے ، دو چہرہ نہی ہونا چاہیئے ، جمہوری اسلامی کی طرف ہوں اور جمہوری ڈموکریٹک کی طرف بھی ، مذھبی بھی ہوں اور سیکولر و لائیک بھی ، یہ ممکن نہی ہے ایک نیام میں دو شمشیر اور ایک منہ میں دو زبان نہی ہو سکتا ۔
آيت الله مکارم شيرازي
 
رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کے رپورٹ کے مطابق حضرت آیت الله ناصر مکارم شیرازی مرجع تقلید نے آج صبح شہر مقدس قم ایران کے مسجد اعظم میں اپنے فقہ کے درس خارج میں ایک روایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے توحید کو تمام اصول دین کا منبع جانا ہے اور کہا : بدن میں روح کے مانند توحید ہے تمام امر و نہی و احکام و عقائد شرعی جسم ہیں اور ان تمام کے لئے روح توحید ہے ۔
 

انہوں نے تاکید کی : اصول دین میں توحید کے برابر کوئی دوسری چیز نہی ہے اور قرآن کریم توحید ذات و صفات کے علاوہ دوسری توحید کو بھی بیان کرتا ہے ۔
 

مرجع تقلید نے اپنی تقریر میں یک چہرہ و ایک رنگ ہونے کی اھمیت کو بیان کرتے ہوئے اظہار خیال کیا : انسان کو چاہیئے کہ اپنی صورت، زبان و ۔ ۔ ۔  کو ایک رنگ و ایک دل رکھے، اور ھر طرح دو طرفانہ فعل ، قول ، عمل ، ظاھر و باطن اور اسی طرح خلوت و جلوت میں بھی یہ ایک طرح کا شرک ہے اور اسلام ان چیزوں سے بیزاری کرتا ہے۔  
 
حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے وضاحت کی : ھم جب مفہوم اخلاص کی تحلیل کرتے ہیں تو مشاھدہ کرینگے کہ توحید کی طرف پلٹ رہا ہے اور خلوص نیت کا تقاضہ یہ ہے کہ تمام امور خدا وند تبارک و تعالی کے لئے ہیں ۔
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬