13 April 2010 - 19:55
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 1187
فونت
عالم نقوی :
رسا نیوزایجنسی – عالم نقوی نے اپنی تحریرسے مسلم حکمرانوں کو انے والے خطرے کا احساس دلایا.

 
رسا نیوزایجنسی کی رپورٹ کےمطابق ، فلسطین میں کوئی بڑا سانحہ ہونے والا ہے صہیونی یہودی پاگل ہورہے ہیں انہیں احساس ہونے لگا ہے کہ باسٹھ سال میں وہ کچھ بھی نہی کرسکے نہ یروشلم کی تل ابیب کی جگہ اسرائیل کی باضابطہ طور پر مستقل راجدھانی بنا سکے نہ مسجد الاقصی کو مسمار کر سکے  نہ قبہ الصخری کو کو ڈھاسکے  جب کہ ان کے نقش قدم پر چل کے ھندوستانی صہیونی نواز وں نے ساڑھے چار سوسال قدیم ایک عبادت گاہ کو مجمع کرکے دن دھاڑے زمین بوس کر ڈالا تھا

صہیونی جب غور کرتے ہیں تو انہیں محسوس ہوتا ہے کہ گریڑ اسرائیل کے قیام میں ان کے اندازے سے کچھ زیادہ ہی تاخیر ہوگئی ہے
 
8491 میں جب انہوں نے فلسطین پر قبضہ کرکے اسے اسرائیل بنایا تھا تو ان کا خیال تھا کہ صرف نصف صدی کےاندر وہ اپنا نصب العین حاصل کرلیں گے لیکن باسٹھ سال ہوگئے اور وہ اج بھی ادھورے کے ادھورے ہیں
 
گزشتہ دنو ں غزہ پر ہونے والے بمباری ان کے اس احساس محرومی سے پیدا ہونے والے  پاگل پن اورجنون کا ثبوت ہے

فتح کے ایم پی حاتم عبد قادر نے جمعہ کے روزاپنے بیان میں بالکل درست نشان دھی کی ہے کہ اسرائیل پرانےیروشلم (شھرالقدس ) کو نئی یہودی بستیوں سے گھیر لینا چاھتا ہے اوراسے کوئی روکنے والا نہی
ایسا لگتا ہے کہ مسلم حکمرانوں کو حقیقی خطرے کا ادراک نہی
حالانکہ 2فروری کو یھودیوں کے اجلاس میں گریڑ اسرئیل میں ارض مقدس یعنی مدینہ منورہ سے لے کر پورے عراق ، شام ، لبنان ، اردن ، صحراے سینا اور جنوبی ترکی اور دریاے فرات دریاے نیل کےدرمیان کا پورا علاقہ شامل ہے
 
اسرائیلیوں کا عقیدہ ہے کہ گریڑ اسرائیل کی سرحدیں ان کی مقدس کتاب تلمود میں درج تفصیلات کے عین مطابق ہیں
 
مسلمان باسٹھ سال کے بعد بھی سورہے ہیں جب کہ صہیونیت نے اعلانیہ کا اجراء کرتے ہوئے کہدیا تھا تھا کہ ھمیں ھر طرح کی پر تشدد جارحیت کے لئے تیار رہنا چاھئے ھمارا ھدف لبنان ، شام اور اردن کے ٹکڑے کرنا ہے پھر ھم عرب دنیا کے ٹکڑے کریں گے اس کے بعد ھم پورٹ سعید ، اسکندریہ اور سینائی پر بمباری کریں گے
عراق وافغانستان میں گزشتہ بیس برسوں سے جوکچھ ہوا وہ صہیونی مقتدرہ ہی کی حکمت عملی کا نتیجہ ہے ایران ، یمن اور سعودی عرب نشانے پر ہیں مقصد شیعہ سنی افتراق کو جنگ کی شکل دے کر عراقی او ایرانی شیعوں اور عربوں کو اپس میں لڑ لڑا کر انہیں اتنا کمزور کردینا ہے کہ جب مسجد اقصی کو شھید کریں تو کہیں سے کوئی مزاحمت نہ ہوسکے

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬