13 August 2009 - 14:29
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 119
فونت
جس طرح ہم لوگوں کو ہونا چاہئے ہم ویسے نہیں ہیں
عرفان کے آفتاب کی خدمت میں


ہماری مثال اس گروہ کی طرح ہے جس نے اپنے سردار کو قید کر رکھا ہو اور اس مصیبت کی وجہ سے خود جنگ کتنے اور خود صلح کرنے کے ارادہ کو چنا ہو خود ہم لوگوں نے یہ کہا ہے اور اجازت نہیں دیتے اور مواقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ آئیں اور اس معاملہ کو حل کریں حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ اگر وہ آئے گا تو مشکلوں کو حل کر دے گا اس کے با وجود ہم لوگوں نے اس کو قید کر رکھا ہے ۔

لہذا اگر کروڑوں افراد بھی اس کے موافق و طرفدار ہیں باز ہم وہ شخص مثل تنہا و اکیلا ہے کہ جس کا کوءی یار و مددگار نہیں ہے حالانک۰ ہم لوگ بیداری کی حالت میں بھی اپنے امور و وظائف پر صحیح سے عمل نہیں کرتے ہیں ایسے حالات کے با وجود اس بات کے منتظر ہیں کہ بیداروں ہوں اور تہجد کو انجام دیں اگر انسان کو توفیق ہو گی کہ وہ نیند سے اٹھے اور تہجد میں مشغول ہو تو وہ یہ کر سکتا ہے اور اگر توفیق نہ ہوئی تو وہ جگا ہوا اور بیدار ہو کر بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا ہے ۔

ایک شخص کا جو مسجد جمکران زیادہ جایا کرتا تھا کہنا ہے کہ میں نے مولا کو دیکھا انھووں نے مجھ سے کہا کہ میرے چاہنے والے مجھ سے محبت کرنے والوں سے کہو کہ میرے لئے دعا کریں اور ایک مرتبہ میری نظروں سے غائب ہو گئے اسی طرح ایک شخص سے کہا تھا یہ لوگ جو مسجد جمکران میں آتے ہیں میرے اچھے دوست ہیں اور ہر کوئی کچھ نہ کچھ حاجت رکھتے ہیں کوئی گھر تو کوئی شادی ، کوئی بچہ تو کوئی دولت ، کوئی نوکری تو کوئی ادائے قرض کی حاجت لے کر آتا ہے مگر کسی کو میری فکر ہی نہیں ہے۔

ہاں ! وہ ہزاروں سال سے قید ہے کوئی بھی اس مقدس مکان مثل جمکران یا کوئی اور مقدس مقام پر جائے تو پہلے ان کے لئے دعا کرے ۔ اور اس کی سب سے بڑی حاجت کو ان کے ظہور کے دعا کو وسیلہ بنا کر مانگے ۔

خدا جانتا ہے کہ امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے لیسٹ میں کون سی جگہ ہے ان کی نگاہ میں نہ جانے میری کیا حیثیت ہے جو کہ اپنے بندے کے اعمال کو ہر ہفتہ دو مرتبہ دوشنبہ و پنجشنبہ کو ملا کر دیکھتے ہیں صرف اتنا چاہتے ہیں کہ جیسا ہم لوگوں کو ہونا چاہیے ویسا نہیں ہوں ۔
 لہذا ہم لوگوں کو چاہیے کہ امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور کے لئے اپنے آپ کو آمادہ کریں۔

 اگر امام زمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کا ظہور نزدیک ہے تو ہر شخص کو چاہیے کہ اس روز کے لئے اپنے آپ کو ہر طور سے آمادہ کرے اپنے گناہوں کے لئے توبہ کرے اور بھی اسی طرح کے امور کو انجام دے اور یہی تو بہ سبب بنے گا جو مصیبتیں شیعوں کے اوپر آئی ہیں جو پہلے کبھی ایسی مصیبتیں نہیں آئی تھیں اور جو بھی آفت و بلا جو ظہور امام زمان سے پہلے آرہی ہوں وہ شیعوں کے اوپر سے دفع ہو جائے ۔
تعجیل فرج کے لئے دعا کرنے سے بہتر یہ ہے کہ ہم اپنے دین کی سلامتی کے لئے دعا کریں ۔

 امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل کے لئے دعا کرنے سے اہم و ضروری یہ ہے کہ ہم اپنے بقائے ایمان کے لئے دعا کریں اپنے عقیدہ پر ثابت قدم رہنے اور امام زمانہ کے ظہور تک ان سے انکار نہ کرنے کی دعا کریں ایسا نہ ہو کہ ہم اس کا انکار کر دیں لہذا ضرورت ہے جس کے ذریعہ سے دار فانی سے زندگی قطع و تمام ہو جاتی ہے لیکن اپنے عقیدے سے الگ ہو جانا یہ سبب ہوتی ہے کہ انسان اپنے حیات جاوید آخرت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے اور جہنم میں چلا جائے گا ۔ حضرت علی علیہ السلام نے لیلۃ المبیت ( شب ہجرت ) میں حضرت رسول اکرم اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کر رہے ہیں : ( أ فی سلامۃ من دینی ؟) کیا میرا دین سالم رہے گا کیا میں اپنے دین پر باقی رہوں گا ؟ یعنی مرتے وقت تک چاہے شہادت ہی کیوں نہ ہو اپنے دین پر باقی رہنا ، عقیدے و ایمان پر ثابت رہنا خود شہادت سے بہتر ہے لہذا امام یہ سوال کر رہے ہیں ۔

یہ دعا بہت ہی مفید اور بہتر ہے جس کے بارے میں حکم دیا گیا ہے کہ زمانہ غیبت میں پڑھا جائے ( یا اللہ یا رحمن یا رحیم یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک ) خدایا ! اے وہ ذات جس کی رحمت بے حساب ہے ! اے مہربان ! اے دلوں پر حکومت اور اس کے پلٹانے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ ۔

ہم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے 

 قرآن ایسا موجود ہے جو مختلف منزلوں پر نازل ہوا ہے جو سنے ہوئے اور دیکھے ہوئے واقعات کی حکایت کرتا ہے عدیل قرآن ( عترت ) بھی اس دنیا کی نعمتوں کی حکایت کرتا ہے لیکن ہم لوگ اپنے غمخوار ، اپنے ہادی ، اپنے حامی و مددگار کی خود قدر وعزت نہیں کرتے اور اس کا شکریہ ادا نہیں کرتے بلکہ اپنے واسطہ خیر کو قطع کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔ فعقرو ھا ان لوگوں نے حضرت صالح کے ناقہ کو ذبح کر ڈالا ۔

 آئمہ معصومین علیہم السلام جو ہمارے لئے نعمتوں کے ولی ہیں فیض پہنچانے والے ہیں ان کو ہم دیکھ نہیں سکتے اگر امام زمانہ بھی آ جائیں تو ان کے ساتھ بھی ہم وہی برتاؤ کریں گے جو ان کے آباء و اجداد کے ساتھ کیا ہے کیا یہ ہو سکتا ہے کہ امام کے کروڑوں چاہنے والے اور دوست ہوں مگر وہ ظہور نہ کریں ؟ ۔

 دعائے فرج ہمارے درد کی دوا ہے

امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے تعجیل فرج کے لئے دعا کرنا ہی ہمارے درد کا علاج ہے روایت میں وارد ہوا ہے کہ آخری زمانہ میں سب ہلاک ہو جائیں گے ( الا من دعانا لفرج ) مگر وہ جو لوگ تعجیل فرج کے لئے دعا کرتے ہیں یہ بیان آئمہ علیہم السلام کی عنایت ہے اصل ایمان اور شیعہ پر کہ وہ خود کو پہچانیں یہ ایک علامت ہے ان لوگوں کے لئے یعنی تعجیل فرج کے لئے دعا کرنا علامت ہے کہ ابھی تک ایمان باقی ہے ۔

اور بھی عجیب و غریب حکم دئے گئے ہیں کیونکہ اہل ایمان کے لئے آخری زمانہ میں بہت سارے مشکلات پیش آئیں گے یہاں تک کہ روایت میں آیا ہے ( بعد ما ملئت ظلماً و جوراً ) یہاں تک کہ زمین ظلم و جور سے بھر جائے گی اسی طرح روایت میں وارد ہوا ہے کہ ( ینکرہ اکثر من قال بامامتہ ) زیادہ تر وہ لوگ جو امام زمانہ کی امامت کے قائل ہوں گے اور ان کی امامت پر یقین رکھتے ہوں گے وہ لوگ ان کا انکار کر دیں گے یعنی بہت سارے لوگ ان کی امامت اور ایمان سے پلٹ جائیں گے ۔

 اسی طرح کہا گیا ہے کہ آخر زمانہ میں اس دعا فرج جو کہ دین میں تثبیت کی دعا ہے اس کو پڑھے ( یا اللہ یا رحمن یا رحیم یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک ) خدایا ! اے وہ ذات جس کی رحمت بے حساب ہے ! اے مہربان ! اے دلوں پر حکومت اور اس کے پلٹانے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ ۔

یعنی ایمان کا وہ مرتبہ جو تو نے عنایت کیا ہے اس پر باقی رکھ نہ یہ کہ مسلمان باقی رکھ چونکہ یہ اس کے معنی تثبیت در دین نہیں ہیں ۔

 عزاداری راستہ سے منحرف ہونے کی دیوار ہے

 یہ توسلات ، عزاداری ، مجالس ، اہلبیت علیہم السلام کی قبروں کی زیارت یہ علامت ہے کہ اہل ایمان اہلبیت علیہم السلام سے منسلک ہیں اور ابھی تک اپنے راستے سے منحرف نہیں ہوئے ہیں کفار اور ان کے آلہ کار کو یہ حکم مل چکا ہے کہ مسلمانوں اور قرآن کے درمیان حتی مساجد ، امام بارگاہوں ، مجلس عزا ، مرثیہ خوانی وغیرہ میں جداءی پیدا کرائیں ۔ چونکہ یہ تمام چیزیں سلطان جور کے مقاصد کے خلاف تھیں ۔ ظلم و جور کی خواہشوں کو کچل دیتی ہیں لہذا سلطنت اور بادشاہت کے طرفداروں نے قبروں کو توڑنے کا حکم دے دیا مجالس اور مرثیہ خوانی پر پابندی لگا دی گئی ۔

 شوال کی آٹھ تاریخ بقیع کے انہدام کی تاریخ ہے اور اہم تاریخوں میں سے ہے اس لئے کہ حوزہ علمیہ نجف اس تاریخ کو دروس تعطیل کر دئے جاتے تھے لیکن آہستہ آہستہ ہمارے لئے ایک عادی دن بن گیا اور اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں ۔

کیا ہم لوگوں نے اپنے افعال و اعمال سے قرآن کی اہمیت کو نہیں گھٹایا ہے ؟؟

اس کے با وجود کہ مذہب تشیع کی حقانیت قرآن میں موجود ہے ہمارے اعمال کی وجہ سے بعض افراد اس سے بے خبر ہیں سنا ہے کہ بیرونی ممالک میں بہت سارے ایران کے بنے اجناس ترکی کے نام پر بھیجے جاتے ہیں اگر ایران کے نام پر بھیجے جاتے تو لوگ نہیں خریدتے کیونکہ ہم لوگوں نے اسلام اور قرآن کے اصولوں کو نہیں اپنایا ہم میں بعض وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنی ذاتی مفاد کو دیکھ کر بازار میں اپنی حیثیت کھو دی ہے ۔ ہاں ! اگر ہمارا عمل اپنے مسلمانوں کے ساتھ قرآن کے مطابق نہ ہو گا تو ایسے ہی حالات رونما ہوں گے اچھے پھلوں کو اوپر اور نیچے خراب پھلوں کو رکھ کر پیکنگ کرایا جاءے تو یہ کھلا ہوا فریب اور دھوکہ ہے ہم اگر اسلام اور قرآن پر عمل کرنے میں بھی ایسا ہی قبیح عمل کریں گے تو کیا یہ فعل قرآن کی اہمیت کو کم نہیں کرے گا ؟!

 جس سے بھی دل چاہتا ہے دوستی کرتے ہیں چاہے قرآن کے حکم کی مخالفت کیوں نہ ہو رہی ہو اورکچھ لوگوں سے دشمنی کرتے ہیں حالانکہ یہ دشمنی مخالف قرآن ہی کیوں نہ ہو ؟ کیا یہ صحیح ہے ؟ کیا یہ فعل و عمل قرآن کے فرمان کے مطابق ہے ؟! اہلبیت علیہم السلام فرماتے ہیں کہ میرا چاہنے والا میرا دوست وہ ہے جو خدا کو ، خدا کو دوست رکھنے والوں کو اور مجھ کو دوست رکھتا ہو اور ہمارے دشمنوں سے اور خدا کے دشمنوں کا دشمن ہو ۔ مؤمن و متدین وہ لوگ ہیں جن کے دوستوں کو دیکھا جائے کہ وہ خدا کے دوستوں میں سے ہیں یا اس کے دشمنوں میں سے ۔

قرآن کے ذریعے عجائبات کو دیکھا جا سکتا ہے

 روایتوں اور احادیث میں قرآن مجیدکے بارے میں وارد ہوا ہے کہ لا تفنی عجائبہ " قرآن کے عجائبات ختم ہونے والے نہیں ہیں ۔ اسی طرح اس آیت شریفہ میں ارشاد ہوتا ہے و نزلنا علیک القرآن تبیاناً لکل شیء قرآن کو تمہارے اوپر اس لئے نازل کیا ہے تاکہ وہ تمام چیزوں کو بیان کرے اس سے بھی بہتر و بالاتر اورکیا طریقہ سمجھانے کا ہو سکتا ہے ؟ جس نے قرآن مجید کے اس مطلب کو درک کر لیا اور اس کی پیروی کرتے ہیں وہ عجائبات کا مشاہدہ کرتے ہیں لیکن بہت ہی افسوس کی بات ہے کہ ہم لوگ کمزور ہیں ضعیف ہیں ڈرتے ہیں کہ اگر قرآن سے فال دیکھتے ہیں تو کیا مصیبت میرے سر پر نازل ہو جائے گی حالانکہ سر نہیں جانتے ہیں کہ اگر وہ مصیبت  نہ آئے تو اس سے بدتر مصیبت آ سکتی ہے ۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬