16 August 2009 - 16:46
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 134
فونت
جوادمحمد زمانی :
عدلیہ نے ھمارے ملک میں پر فراز و نشیب دن گزارے ہیں ، قانون اساسی کی تدوین ختم ہوئی تھی ، یہ اھم اورملک کاحیاتی قانون عوام کے سامنے رفرینڈم میں رکھا گیا تھا ، قانون اساسی کے مطابق تینوں قواء( مجریہ ، مقننہ ،قضائیہ ) اسلامی جمھوریہ میں ھر ایک ،ایک دوسرے سے مستقل عمل کرتے ہیں ? اس اساسی قانون کونسل کے اھم رکن مرحوم آیت الله شهید بهشتی تھے .
صادق لاريجاني


مرحوم آیت الله شهید بهشتی انگلش ، عربی ، جرمنی کی زبانوں سے واقف ہونے ، لاء اور دنیا کے مختلف ممالک کے اساسی قوانین سےاشناء ہونے کی بناء پراپ نے قانون اساسی کے تحریر کرنے میں اھم نقش ایفاء کیا، انکے نظریات اوررای ان جلسات میں حلال مشکلات تھیں ، جوکچھ بھی ھم نے کہا وہ انکی ذھانت ، استعداد ، اور ملکہ اجتھاد سبب ہوا کہ عدلیہ کے سربراہ ہونے کے لئے انہیں انتخاب کیا گیا .


اس لحاظ سے انقلاب اسلامی کے بعد عدلیہ کے سب سے پہلے سربراہ آیت الله ڈاکٹر سید محمد حسین حسینی بهشتی ہوئے ، اس کے باوجود کے ان کا زمانہ ریاست بہت طولانی نہ رہ سکا مگر عدلیہ کی تشکیل اور نظم پانے میں بہت موثر تھا ، یہ کامیاب ریاست بہت ساری سختیوں اورمشکلات سے دوچار تھیں اسکی اصلی وجہ بنی صدر کی تخریبیں اور تھدید یں تھیں . 


بنی صدر شهر به شهر ، تقریروں میں انکے سلسلے میں بد دھن تھا اور انہیں مملکت کا قاتل اور دشمن کہا کرتا تھا . یہ فضاء اس وقت بھتر یوئی جب بنی صدرنے ایران سے راہ فرار لی اور اخر میں مظلوم آیت الله ڈاکٹر بهشتی نے اپنے انقلاب اسلامی کے کچھ وفاددارساتھیوں کے ھمراہ جام شھادت نوش کرلیا .


آیت الله ڈاکٹر بهشتیکے بعد آیت الله سید عبدالکریم موسوی اردبیلی عدلیہ کے رییس منصوب ہوئے ،ان کی ریا ست سن 1368 ھجری شمسی تک رہی ان کے بعد  آیت الله محمد یزدی دس سال تک اس اھم عھدے پر رہے اور سن 1378  میں آیت الله سید محمود هاشمی شاهرودی کا رییس کے عنوان سے انتصاب کیا گیا کہ ان کی ریاست بھی دس سال 1388  تک برقرار رہی .


اس کے ھر دورے نے عدلیہ کے شعبہ میں ایک نئی لہر ڈوڑادی اورھر دورہ  پر فراز و نشیب ، پر پیچ و تاب رھا ہے اور وہ دوسرے دورے کے لئے مقدمہ کی حیثت رکھتا تھا ، تایہ کہ نئی فکر کے فقیہ ایت اللہ  صادق لاریجانی نے اس دورے کی ریاست کے لئے منتخب ہوئے .


جوان طلاب  صادق لاریجانی کو اچھی طرح پہچانتے ہیں ان کے فقہ و اصول دروس ، ازادانہ فکر اور نقد ونظرکے سا تھ سبھی کی زبان زد ہے .

 
شیخ صادق لاریجانی نے سن 1339 میں نجف اشرف میں ایک عالم دین کے گھرانے میں پیدا ہوئے ، ان کے والد بزرگوار امل (ایران ) کے رہنے والے تھے ، برسوں سے قم اور نجف کے حوزہ علمیہ میں طلاب کو درس دیا کرتے تھے یہ عالم باپ جس کا.


میرزا هاشم آملی نام تھا نہایت خوش اخلاق اور شوخ طبع تھے .


حوزه علمیه قم و نجف  میں ان کے دروس بھی اچھے دروس میں سے جانے جاتے تھے وہ سن 1311 میں اس زمانہ کی حکومت کے دباو میں نجف مھاجرت کر گئے اور عراق میں 30 سال تک رہے .

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬