14 June 2010 - 18:02
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 1451
فونت
ڈاکٹر انوار :
رسا نیوز ایجنسی - ال انڈیا مسلم مجلس مشاورت شعبہ دھلی کے صدر ڈاکٹر انوار نے ایران پر حملے کے سلسلے سے سعودی عرب کو اپنی فضائی حدود دینے پرسعودی عرب کے یہودی نوازحکمران کے خلاف مھم چھڑنے اوردنیا کے مسلمان کوایران کی حمایت کرنے کی درخواست کی۔
ھندوستان

رسا نیوزایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ، ال انڈیا مسلم مجلس مشاورت شعبہ دھلی کے صدر ڈاکٹر انوار نے اس خبر پر سخت تشویش کا اظھار کیا کہ ایران پر حملے کے لئے سعودی عرب اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دے گا ۔

انہوں نے اس خبر کے انتشار پر دنیا کے مسلمانوں کو بیدار ہونے کی تاکید کرتےہوئے کہا : سعودی عرب کے یہودی نوازحکمران کے خلاف مھم چھڑنی چاھئے۔

انہوں نے اس خبر کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا : یہ خبر اچانک نہی ائی بلکہ اس کی تیاریاں بہت پہلے سے کی جاری تھیں اور اب جب امریکا اور اسرائیل نے تمام عرب حکمرانوں کوپرکھ لیا ہے کہ وہ صھیونی منصوبوں کے خلاف اٹھنے کی ھمت نہی رکھتے تو اس خبر کو عام کردیا گیا ہے ۔

ڈاکڑ انوراسلام نے کہا : اگر حکومت سعودی عرب نے اس خبر کی وضاحت نہ کی تو یہ سمجھا جائے گا اس نے صھیونی طاقتوں سے اسلام نواز طاقتوں کے خلاف ہاتھ ملایا ہے ۔

انہوں نے اس سلسلے میں جلد ہی نئی دھلی سفارت خانے پر زبردست مظاھرہ کی خبر دیتے ہوئے کہا : ایران اسوقت تنھا وہ اسلامی طاقت ہے جو ظالم اور صھیونی طاقت کے خلاف میدان میں ڈٹی ہوئی ہے۔

انہوں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایران کی حمایت کی دعوت دیتے ہوئے کہا : ایران نے اسلام دشمن طاقتوں کو انکی اوقات بتا دی دوسرے جانب عرب حکمران نہ یہ کہ صرف ایران کی حمایت نہی کررہے ہیں بلکہ انہوں نے ایران کے خلاف اسرئیل سے ہاتھ ملا لیا ۔

انہون نے سعودی عرب اور اسرئیل کے درمیان اس تفاھم کے سلسلے میں کہا : اس سمجھوتہ میں امریکا نے اھم کردار ادا کیا ہے لھذا امریکا بھی اسی نفرت اور مخالفت کا مستحق ہے۔

واضح رہے کہ اج لندن کے اخبار ٹائمز اور دبئی کے خلیج ٹائمز نے یہ انکشاف کیا کہ سعودی عرب نے ایران کے ایٹمی مقامات پر اسرئیلی لڑاکو طیاروں کو بمباری کرنےکے لئے اپنی فضائی دفاعی لائن کو غیر موثر رکھنے کی سلسلے میں گزشتہ روز تجربہ کیا۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬