19 August 2009 - 17:03
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 148
فونت
آیت الله نوری همدانی کی طرف سے بیان کیا گیا :
رسا نیوز ایجنسی - سوائن فلو «A » کے سلسلہ میں ہوئے استفتاء کا جواب دیتے ہوئے آیت الله نوری همدانی نے سوائن فلو «A » کی وجہ سے حج کا انعقاد نہ ہونے کے حکم کا معیار معین کیا ۔
آيت الله نوري همداني

 

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹ کے مطابق آیت الله نوری همدانی سوائن فلو «A  » کے سلسلہ میں ہوئے استفتاء کے جواب میں اپنا نظریہ پیش کیا ۔

بیان کئے گئے  سوال اور اس کے جواب کا کامل متن اس طرح ہے :
 

 حضرت آیت الله نوری همدانی (دامت توفیقاته) کی خدمعت میں

سلام اور تحیت

آپ کی خدمت اقدس میں عرض ہے :
 

« جیسا کہ آپ با خبر ہیں آج کل ایک خاص بیماری جس کا نام  سوائن فلو ہے جوکہ مختلف ممالک میں یہاں تک کہ سعودی عرب میں بھی پایا جاتا ہے جو ایرانی حکومت اور ایرانی قوم خصوصا حج اور عمرہ پر جانے والے حضرات کے لئے فکر اور مشکلات کا سبب بنی ہوئی ہے ، لیکن ابھی تک کوئی بھی ذی ربط عھدہ دار یہاں تک کہ خود سعودی عرب کی حکومت نے بھی حج اور عمرہ کے اعمال انجام نہ ہونے کا قطعی فیصلہ یا اس سلسلہ میں کوئی بات کہی ہو ، صرف حکومت سعودی عرب کے وزیر صحت نے اظہار خیال کیا ہے کہ خاص مریض اور ۶۵ سال سے زیادہ کے عمر والے بزرگ اور چھوٹے بچّے بھی حج اور عمرہ کے لئے نہ جائیں ۔

دوسری طرف اس سال جیسا کہ خبر میں آیا ہے تقریبا ھزار لوگوں میں سے تقریبا ۵۰ لوگ ابھی تک اس مرض میں مبتلا ہوئے ہیں جو کہ بحمدالله معالجه کے بعد صحیح اور سالم ہو گئے ۔

اب ان تمام نکات کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ سے گزارش ہے کہ آپ فرمائیں :

۱۔ کیا ضرر محتمل میں جو لوگ حج کے لئے مستطیع ہو چکے ہیں مذکورہ  حالات ان کے تاخیر حج کا باعث ہو سکتا ہے ؟

۲۔ کیا اس بات کی وجہ سے کہ حکومت سعودی عرب خاص مریض اور ۶۵ سال سے زیادہ کے عمر والے بزرگ اور چھوٹے بچّے کو قطعی طور پرحج  کے لئے منع کردیں تو اس مقدار ضرر کا احتمال ، لوگوں کے حج کے تاخیر کا سبب بن سکتی ہے ؟

 

 خدا وند عالم سے حضرت عالی کی توفیقات ، سلامتی اور ان کے صحت کی دعا کرتے ہیں ۔
 
حج تحقیقاتی سنٹر


حضرت آیت الله نوری همدانی نے اس استفتاء کا جواب اس طرح دیا ہے ۔

بسم الله الرحمن الرحیم

سلام علیکم
 
برادر محترم جناب حجت الاسلام والمسلمین قاضی عسکر دامت برکاته


 اس سال کے حج تمتع کے سلسلہ میں جو جناب عالی کے خط میں بیان کئے گئے ہیں اس سلسلہ میں قطعی طور پر  کوئی جواب دینا ابھی جلد ہوگا لیکن اس کا جواب ان تین موضوع سے مرتبط ہیں ۔
 

۱۔ سوائن فلو کا خطرہ اور اس کا نقصانات کس حد تک ہے کیا سردی زکام اور عادی بیماری کی طرح کچھ دنوں کے لئے ہوتا ہے یا بہت زیادہ اور خطرناک ہوتا ہے ؟

۲۔ اس بیماری کا پھیلاؤ اس مقام پر جہاں حجاج محترم رہا کرتے ہیں کس حد تک ہے مثال کے طور پر ایک فی صد ہے یا ایک ھزار میں ایک ہے یا ۵۰ فی صد ہے ؟ 

۳۔ خطرہ اور اس کا نقصان معتبر ماہرین کی طرف سے بیان کیا گیا ہے تاکہ شرعی حجت ہوں یا بغیر دلیل کے افواہ کے حد تک ہے ؟

لہذا اگر معتبر ماہرین کی طرف سے ثابت ہو کہ بہت زیادہ اس کا خطرہ اور اس کا نقصان ہے اس حد تک کہ عقلی طور پر اس حالات میں  سفر کرنا بہت زیادہ  خطرہ اور نقصان کا باعث ہو سکتا ہے ، تو ایسی صورت میں یہ سفر جائز نہی ہے ۔ حلانکہ حج کا موضوع ایک اھم اسلامی فریضہ میں سے ہے جس کو جھوڑا نہی جا سکتا ہے اس کا انجام پانا لازمی ہے اور اس حکم کا معیار بھی یہی ہے ، اور اس میں اشخاص کی نسبت اور عمر کا فرق ہونا کوئی معنا نہی رکھتا       


و فقکم الله تعالی لما یحب و یرضی


 24 شعبان 1430

حسین نوری همدانی

قابل ذکر ہے کہ اس کے پہلے کچھ خبریں اس سال حج تمتع کے انعقاد نہ ہونے کے احتمال کو بیان کر رہا تھا جو اس بیماری کے پھیلنے کے احتمال کی بنا پر  نشر پایا تھا ۔

  

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬