07 July 2010 - 13:38
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 1543
فونت
سنی و شیعہ رہنما :
رسا نیوزایجنسی - جعفریہ الائنس اور سنی تحریک کے رہنمائوں نے حکومت پاکستان کوملک سےمذہبی آزادی سلب کرنے کی غرض سے کچھ دہشتگردوں کی سرپرستی کا الزام سونپا ۔
سني و شيعہ رہنما

رسا نیوزایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ، منگل کو جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ علامہ عباس کمیلی نے 7 رکنی وفد کے ساتھ سنی تحریک کے مرکز پرمحمد شاہد غوری، قاری خلیل الرحمن قادری، مبین قادری اور سلیم قادری سے ملاقات کی ۔

دونوں مذاھب کے رہنمائوں نے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں اس بات کا اعادہ کیا کہ دہشتگردوں کی جانب سے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی ہر سازش کو شیعہ اورسنی مل کر ناکام بنائیں ۔

اس موقع پر علامہ عباس کمیلی نے کہا :مسلک اہلسنت اور شیعہ مسلک کے درمیان مذہبی حوالے سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ آج سازش کے تحت ایک مخصوص طبقے کو حکومتی سرپرستی میں ملک سے مذہبی آزادی سلب کرنے کی چھوٹ دی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا : اگر حکومت سانحہ نشتر پارک پرسنجیدگی کا مظاہرہ کرتی اورملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا تو نہ سانحہ یوم عاشور ہوتا اور نہ ہی سانحہ داتا دربار دھرایا جاتا ۔
انہوں نے حالیہ فسادات میں کالعدم تنظیموں کےملوث ہونے کا دعوی کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ حکومت دہشتگردوں کو دہشتگرد اور محبان وطن کو محب وطن سمجھے تب ہی اس ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ممکن ہےکیوں کہ سانحہ نشتر پارک، سانحہ یوم عاشور اور سانحہ داتا دربار ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا : حکومت کالعدم تنظیموں کے نام کی بجائے ان کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرے،ملک میں جاری دہشتگردی میں حکومتی ادارے اور لیبرل قسم کی مختلف سیاسی جماعتیں ملوث ہیں جو ان دہشتگردوں کی حمایت کررہی ہیں،

انہوں نے ان مجرمین کے سلسلے میں عدلیہ کو اپنے مکمل اختیارات کا استعمال کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا : خصوصی عدالتوں اور ان میں موجود ججز صاحبان کو بغیر دبائو کے کام کرنے کی اجازت سے ہی دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ 7 جولائی کو جعفریہ الائنس کے تحت کراچی میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں تمام مسالک کے علماء پر مشتمل مزارات و مساجد بچائو کمیٹی کا اعلان کیا جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ اس موقع پر جعفریہ الائنس کے سینئر نائب صدر مولانا حسین مسعودی، علامہ جعفر رضا نقوی، شمس الحسن، شبر رضا، محسن رضا، احمر اور سجاد رضا بھی موجود تھے۔
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬