15 July 2010 - 16:30
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 1576
فونت
تیسری شعبان کی مناسبت سے (پہلی قسط) :
حضرت امام حسن علیہ السلام کی ولادت کے بعد پچاس راتیں گزریں تھیں کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کا وجود بطن مادر میں مستقر ہوا تھا ۔ حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ ولادت حسن اورامام حسین علیہ اسلام کے بطن مادر میں انےمیں بہت کم فاصلہ تھا ۔ (1)
روضہ حضرت امام حسين

ابھی آپ کی ولادت نہی ہوئی تھی کہ ایک روایت کی بنیاد پر ام الفضل بنت حارث نے خواب میں دیکھا کہ رسول کریم کے جسم کاایک ٹکڑا لا کرمیری آغوش میں رکھا گیا ہے . اس خواب سے وہ بہت گھبرائیں ، اوردوڑی ہوئی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوکرعرض کرےی ہیں : حضورآج ایک بہت برا خواب دیکھا ہے۔ حضرت نے خواب سن کرمسکراتے ہوئے فرمایا : یہ خواب تونہایت ہی عمدہ ہے۔ اے ام الفضل خواب کی تعبیر یہ ہے کہ میری بیٹی فاطمہ کے بطن سے عنقریب ایک بچہ پیدا ہو گا جو تمہارے ہی آغوش میں پرورش پائے گا ۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس فرمائش کوتھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ نورنظررسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، امام حسین علیہ السلام ۳/ شعبان ۴ ء ہجری بمقام مدینہ منورہ میں بطن مادرسے آغوش مادرمیں آ گئے۔ ( 2 )

ام الفضل کا بیان ہے کہ میں حسب الحکم ان کی خدمت کرتی رہی، ایک دن میں بچے کولے کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئی آپ نے آغوش محبت میں لے کرپیارکیا اورپھر آپ رونے لگے میں نے اپ کے رونے کا سبب دریافت کیا توفرمایا : ابھی ابھی جبرئیل میرے پاس آئے تھے اوانہوں نے خبر دی کہ یہ بچہ امت کے ہاتھوں نہایت ظلم وستم کے ساتھ شہید ہوگا اور اے ام الفضل وہ مجھے اس کی قتل گاہ کی سرخ مٹی بھی دے گئے ہیں ۔ (3)

اور دوسری کتابوں میں ملتا ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دیکھو فاطمہ سے اس واقعے کا کوئی تذکرہ نہ کرے ورنہ انہیں سخت ملال ہو گا .
ملا جامی لکھتے ہیں کہ ام سلمہ نے بیان کیا : ایک دن رسول خدا میرے گھراس حال میں تشریف لائے کہ آپ کے سرمبارک کے بال بکھرے ہوئے تھے اورچہرے پرگرد پڑی ہوئی تھی ، میں نے اس پریشانی کودیکھ کراپ سے پوچھا کیا بات ہے فرمایا : مجھے ابھی ابھی جبرئیل عراق میں مقام کربلا تک لے گئے تھے وہاں مجھے حسین کی قتل گاہ دیکھائی اوریہ مٹی وہیں سے لایا ہوں اے ام سلمہ اسے اپنے پاس محفوظ رکھو جب یہ مٹی خون میں بدل جائے توسمجھنا کہ میرا حسین شہید ہوگیا ۔ ( 4 )

آپ کااسم گرامی:

صاحب نورالابصار لکھتے ہیں کہ ولادت کے بعد سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امام حسین علیہ السلام کی آنکھوں میں لعاب دہن لگایا اور اپنی زبان ان کے منہ میں دے کر بڑی دیرتک چسایا، اس کے بعد داہنے کان میں اذان اوربائیں کان میں اقامت کہی، پھردعائے خیرفرما کر حسین نام رکھا ۔ ( 5 )

علماء کا بیان ہے کہ یہ نام اسلام سے پہلے کسی کا بھی نہیں تھا، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ نام خود خداوندعالم کا رکھا ہوا ہے ۔ ( 6 )

کتاب اعلام الوری طبرسی میں ہے کہ یہ نام بھی دیگرآئمہ کے ناموں کی طرح لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔


آپ کاعقیقہ:

امام حسین علیہ السلام کانام رکھنے کے بعد سرور کائنات نے حضرت فاطمہ سے فرمایا کہ بیٹی جس طرح حسن کا عقیقہ کیا گیا ہے اسی طرح اس کے عقیقہ کا بھی انتظام کرو، اوراسی طرح اس کےبالوں کے ہم وزن چاندی صدقہ دو، جس طرح اس کے بھائی حسن کے لئے کرچکی ہو، اور پھررسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی فرمائش کے مطابق رسم عقیقہ ادا کردی گئی ۔ (7)


آپ کی کنیت اور القاب:

آپ کی کنیت صرف ابوعبداللہ ہے، البتہ آپ کے القاب بے شمار ہیں جن میں سید و سبط اصغر، شہیداکبر، اوران میں سیدالشہداء زیادہ مشہور ہے ۔ علامہ محمد بن طلحہ شافعی کا بیان ہے کہ سبط اور سید خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے معین کردہ القاب ہیں ۔ (8)

آپ کی رضاعت :

اصول کافی باب مولد الحسین میں ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے پیدا ہونے کے بعد نہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کا شیر مبارک نوش کیا اورنہ کسی اوردائی کا دودھ پیا ، ہوتا یہ تھا کہ جب آپ بھوکے ہوتے تھے توسرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لا کرزبان مبارک آپ کے دہن اقدس میں دے دیتے تھے ، اور امام حسین علیہ السلام اسے چوسنے لگتے تھے ، یہاں تک کہ سیر وسیرآب ہوجاتے تھے ، معلوم ہونا چاہئے کہ اسی سے امام حسین علیہ السلام کا گوشت پوست بنا اورلعاب دہن رسالت سے امام حسین علیہ السلام پرورش پا کر کار رسالت انجام دینے کی صلاحیت کے مالک بنے یہی وجہ ہے کہ اور شاید یہی وجہہ ہو کہ آپ رسول کریم سے بہت زیادہ مشابہ تھے ۔ ( 9 )

خداوند عالم کی طرف سے ولادت امام حسین علیہ السلام کی تہنیت اور تعزیت کے حوالے سے علامہ حسین واعظ کاشفی لکھتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کی ولادت کے بعد خلاق عالم نے جبرئیل کوحکم دیا کہ زمین پرجاکرمیرے حبیب محمد مصطفی کومیری طرف سے حسین کی ولادت پرمبارک باد پیش کر و اورساتھ ہی ساتھ ان کی شہادت عظمی سے بھی انہیں مطلع کرکے تعزیت دے دو،
جناب جبرئیل بحکم رب جلیل زمین پرائے ، اورانہوں نے آن حضرت کی خدمت میں خدا کی جانب سے شہادت حسین کی تعزیت بھی پیش کردی ، یہ سن کرسرورکائنات پریشان ہو گئے اورآپ نے پوچھا، جبرئیل ماجرا کیا ہے تہنیت کے ساتھ تعزیت کی تفصیل بیان کرو، جبرئیل نے عرض کی ایک دن وہ ہوگا جس دن آپ کے چہیتے فرزند”حسین“ کے گلوئے مبارک پرکند خنجر چلایا جائے گا اورآپ کا یہ نورنظر بےیار و مددگار میدان کربلامیں یکہ و تنہا تین دن کا بھوکا اور پیاسا شہید کیا جائیگا یہ سن کرسرور محو عالم گریہ ہوگئے۔ آپ کے رونے کی اوازجونہی امیرالمومنین نے سنی وہ بھی رونے لگے اورعالم گریہ میں داخل خانہ سیدہ کونین ہوگئے ۔

جناب سیدہ کونین نے جوحضرت علی (ع ) کوروتا دیکھا بے تاب ہوگئیں، عرض کی ابوالحسن رونے کاسبب کیا ہے فرمایا: بنت رسول ابھی جبرئیل آئے تھے اور وہ حسین کی تہنیت کے ساتھ ساتھ اس کی شہادت کی بھی خبر دے گئے ہیں حالات سے با خبر ہونے کے بعد فاطمہ کے گریہ گلوگیر ہوگیا ، آپ نے حضرت کی خدمت میں حاضر ہو کرعرض کی باباجان یہ حادثہ کب ہوگا، فرمایا: جب نہ میں ہوں گا اورنہ توہوگی اورنہ علی ہوں گے اورنہ حسن ہوں گے ۔ فاطمہ نے پوچھا بابا میرابچہ کس خطا پرشہید ہوگا ، فرمایا فاطمہ تیرا لال حسین بے جرم وخطا ، صرف اسلام کی حمایت میں شہید کر دیا جائیگا، فاطمہ زہرا سلام اللہ نے عرض کی باباجان جب ہم میں سے کوئی نہ ہوگا توپھراس پر کون گریہ کرے گا اوراس کی صف ماتم کون بچھائے گا، راوی کا بیان ہے کہ اس سوال کاحضرت رسول کریم ابھی جواب نہ دینے پائے تھے کہ ہاتف غیبی کی آواز آئی ، اے فاطمہ غم نہ کروتمہارے اس فرزند کاغم ابدالآباد تک منایاجائے گا اوراس کا ماتم قیامت تک جاری رہے گا ایک روایت میں ہے کہ رسول خدا نے فاطمہ کے جواب میں یہ فرمایا تھا کہ خدا کچھ لوگوں کوہمیشہ پیدا کرتا رہے گا جس کے بوڑھے بوڑھوں پراورجوان جوانوں پراوربچے بچوں پراورعورتیں عورتوں پر گریہ وزاری کرتی رہیں گے۔

...................................

1. اصابہ نزول الابرار واقدی
2. شواہدالنبوت ص ۱۳، انوارحسینہ جلد ۳ ص ۴۳ بحوالہ صافی ص ۲۹۸، جامع عباسی ص ۵۹، بحارالانوار و مصاح طوسی ابن نما ص ۲ وغیرہ
3. مشکواة جلد ۸ ص ۱۴۰ طبع لاہور
4. شواہدالنبوت ص ۱۷۴
5. نورالابصار ص ۱۱۳
6. ارجح المطالب و روضة الشہداء ص ۲۳۶
7. مطالب السؤل ص ۲۴۱
8. مطالب السؤل ص ۳۱۲
9. نورالابصار ص ۱۱۳
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬