21 July 2010 - 15:33
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 1608
فونت
اپ علی بن الحسین علیھما السلام ، شیعوں کے چوتھے امام ، اپ کا لقب « زین العابدین » اور « سجاد » ہے ۔ ایک مشہور قول کی بنا پراپ ۳۸ ھ ق میں پیدا ہو ئے ۔ [۱] اپ نے اپنی پوری زندگی لوگوں کو مختلف طریقہ ، مختلف راستے سے ہدایت کرنے میں صرف کردیا ۔ اور اس دنیا میں لوگوں کو ان کے فرائض سکھایا۔
امام سجاد عليہ السلام

حضرت امام زین العبادین علیہ السلام کی تعلیمات مختلف کتابوں میں جمع کی گئی ہیں ۔ جیسے : رسالہ حقوق ، صحیفہ سجادیہ ، تحف العقول وغیرہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔
ان کی سفارشات میں سے ایک سفارش والدین کا اولاد کے ساتھ گھریلو رابطہ ہے ۔

یہ اس لئے لکھی گئ کہ امام علیہ السلام کے بعض کلمات ان کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور اس امید کے ساتھ کہ ہملوگ اپنے وظیفے اور فرائض کوبخوبی پہچان سکیں اور اس پر عمل کر سکیں ۔

والدین کے حقوق:

ماں کا حق :

انسان اس وقت اپنے ماں باپ کے زحمتوں اور تکلیفوں کو سمجھتا سکتا ہے جب وہ خود بھی ماں یا باپ بن جاتا ہے ۔

ماں اپنے شکم میں بچے کو بہت ہی مشکل اور سختی کے ساتھ حمل کرتی ہے ۔ اور بہت ہی زیادہ زحمتوں کو تحمّل کرتی ہے ۔ تا کہ اس کے بچے کی نشو و نما ہو سکے ۔ باپ بھی ماں کے ساتھ ساتھ اس کے کاموں میں ہاتھ بٹاتاہے اور اس کا ساتھ دیتا ہے ۔

فطرت انسانی کا تقاضہ یہ ہے کہ اپنی توانائی کے بقدران تمام زحمتوں اور مشکلات کا شکریہ ادا کرے اگر چہ انسان ان زحمتوں کا کما حقہ حق ادا نہیں کر سکتا ۔

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ماں اور باپ کا حق اولادوں پر اس طرح فرماتے ہیں :

« فَحَقُّ أُمِّکَ فَأَنْ تَعْلَمَ أَنَّهَا حَمَلَتْکَ حَیْثُ لَا یَحْمِلُ أَحَدٌ أَحَداً وَ أَطْعَمَتْکَ مِنْ ثَمَرَةِ قَلْبِهَا مَا لَا یُطْعِمُ أَحَدٌ أَحَداً وَ أَنَّهَا وَقَتْکَ بِسَمْعِهَا وَ بَصَرِهَا وَ یَدِهَا وَ رِجْلِهَا وَ شَعْرِهَا وَ بَشَرِهَا وَ جَمِیعِ جَوَارِحِهَا مُسْتَبْشِرَةً بِذَلِکَ فَرِحَةً مُوَابِلَةً مُحْتَمِلَةً لِمَا فِیهِ مَکْرُوهُهَا وَ أَلَمُهَا وَ ثِقْلُهَا وَ غَمُّهَا حَتَّى دَفَعَتْهَا عَنْکَ یَدُ الْقُدْرَةِ وَ أَخْرَجَتْکَ إِلَى الْأَرْضِ فَرَضِیَتْ أَنْ تَشْبَعَ وَ تَجُوعَ هِیَ وَ تَکْسُوَکَ وَ تَعْرَى وَ تُرْوِیَکَ وَ تَظْمَأَ وَ تُظِلَّکَ وَ تَضْحَى وَ تُنَعِّمَکَ بِبُؤْسِهَا وَ تُلَذِّذَکَ بِالنَّوْمِ بِأَرَقِهَا وَ کَانَ بَطْنُهَا لَکَ وِعَاءً وَ حَجْرُهَا لَکَ حِوَاءً وَ ثَدْیُهَا لَکَ سِقَاءً وَ نَفْسُهَا لَکَ وِقَاءً تُبَاشِرُ حَرَّ الدُّنْیَا وَ بَرْدَهَا لَکَ وَ دُونَکَ فَتَشْکُرُهَا عَلَى قَدْرِ ذَلِکَ وَ لَا تَقْدِرُ عَلَیْهِ إِلَّا بِعَوْنِ اللَّهِ وَ تَوْفِیقِهِ .

وَ أَمَّا حَقُّ أَبِیکَ فَتَعْلَمُ أَنَّهُ أَصْلُکَ وَ أَنَّکَ فَرْعُهُ وَ أَنَّکَ لَوْلَاهُ لَمْ تَکُنْ فَمَهْمَا رَأَیْتَ فِی نَفْسِکَ مِمَّا یُعْجِبُکَ فَاعْلَمْ أَنَّ أَبَاکَ أَصْلُ النِّعْمَةِ عَلَیْکَ فِیهِ وَ احْمَدِ اللَّهَ وَ اشْکُرْهُ عَلَى قَدْرِ ذَلِکَ وَ لا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ » [2]

تم پرتمہاری ماں کا حق یہ ہے کہ تم جانو ! اس نے تمھمیں اپ نے شکم میں رکھا ہے کہ کوئی اورنہی رکھ سکتا ہے ۔ اپنے جگر کے میوہ سے جو چیز تم کو کھلاتی ہے جو کسی کو نہیں کھلاتی ہے ۔ اپنی آنکھ ، کان ، ہاتھ ، پیر ، بال اور جلد اور اپنے تمام اعضاء سے تمہاری محافظت و نگہداری کرتی ہے ۔ اور اپنے اس عمل سے بہت ہی خوش و خرم بھی رہی ہے ۔ اور اس حالت میں محتاط اور چوکس بھی رہی ہے ۔ حاملگی کے ایام میں تمام ناگواری ، درد ، سختی ، غم اور اندوہ کو اپنے جان پر خریدا اور تحمل کیا اس وقت تک کہ دست قدرت الہی نے تم کو اس کے بطن سے الگ کر دیا اور تم اس وسیع و عریض زمین پر آگئے ۔

تم کو سیر کر کے ماں کا دل خوش ہو جاتا تھا چاہے وہ خود بھوکی رہ جائے ۔ تم کو کپڑے پہناتی تھی چاہے خود نہ پہنے ، تمہاری پیاس بجھاتی تھی چاہے وہ خود پیاسی رہ جائے ، تم کو آفتاب کی تیز دھوپ سے بچاتی تھی چاہے وہ خود اس دھوپ میں ہی کیوں نہ رہے ۔ اور خود مشکلات میں زندگی بسر کرتی تھی اور تم کو ناز سے پالتی تھی ۔ اور خود جاگتی رہتی تھی مگر تمکو آرام کی نیند میں سلاتی تھی ، اس کے اندر تمہارا ظرف وجود تھا ، اس کا دامن تمہارے آرام کرنے کی جگہ تھی ، اس کا پستان تمہارے لئے پانی کا مشک تھا ، اس کی جان تمہارے لئے بلاؤں کا سپر ، دنیا کی گرمی اور ٹھنڈک کو تمہارے لئے اپنی جان پر برداشت کرتی تھی ، تم اس کا اسی حد تک شکریہ ادا کرو اور یہ حق شناسی بغیر خدا کی توفیق اور اس کی مد د کے بغیر نہیں کر سکتے ۔

باپ کا حق :

باپ کا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے وجود کی بنیاد اور جڑ ہے اور تم اس کی ٹہنی اگر وہ نہ ہو تا تو تم نہ ہوتے تمہارا وجود نہ ہوتا ۔

پھر جب بھی تم اپنے اندر کچھ خوشحالی جیسی چیزوں کا احساس کرو تو سمجھ لو کہ یہ اس کی دی ہوئی نعمت ہے ۔ وہ جس حد تک تمہارے اوپر حق رکھتا ہے اس کی قدر دانی اور شکر گزاری کرو ۔

وہ نکات جو حضرت امام علی بن الحسین علیہ السلام انسانوں کو بتا رہے ہیں ، اولاد کی دعا والدین کے لئے ہے۔ انہوں نے صحیفہ سجادیہ میں ماں باپ کے حق میں دعا کرنے کا طریقہ تعلیم کیا کہ کس طرح دعا کرنی چاہیئے ۔


« اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَ رَسُولِکَ، وَ أَهْلِ بَیْتِهِ الطَّاهِرِینَ، وَ اخْصُصْهُمْ بِأَفْضَلِ صَلَوَاتِکَ وَ رَحْمَتِکَ وَ بَرَکَاتِکَ وَ سَلَامِکَ. وَ اخْصُصِ اللَّهُمَّ وَالِدَیَّ بِالْکَرَامَةِ لَدَیْکَ، وَ الصَّلَاةِ مِنْکَ، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ »

خدا یا ! اپنے بندے اور رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے اہلبیت اطہار علیہم السلام پر رحمت نازل فرما ۔ اور ان سب کو بہترین صلوات ، رحمت ، برکات اور سلام سے مخصوص فرما ۔

اور اے خدا وند عالم ! میرے والدین کو بھی خصوصیت کے ساتھ اپنی بارگا ہ میں کرامت اور رحمت نازل فرما : اے ! تو بہترین رحم کرنے والا ہے ۔

« اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِه ِ، وَ أَلْهِمْنِی عِلْمَ مَا یَجِبُ لَهُمَا عَلَیَّ إِلْهَاماً ، وَ اجْمَعْ لِی عِلْمَ ذَلِکَ کُلِّهِ تَمَاماً ، ثُمَّ اسْتَعْمِلْنِی بِمَا تُلْهِمُنِی مِنْهُ ، وَ وَفِّقْنِی لِلنُّفُوذِ فِیمَا تُبَصِّرُنِی مِنْ عِلْمِهِ حَتَّى لَا یَفُوتَنِی اسْتِعْمَالُ شَیْ‏ءٍ عَلَّمْتَنِیهِ ، وَ لَا تَثْقُلَ أَرْکَانِی عَنِ الْحَفُوفِ فِیمَا أَلْهَمْتَنِیهِ »

خدا یا ! محمد و آل محمد علیہم السلام پر رحمت نازل فرما ، اور مجھ پر ان تمام امور کا الہام فرمادے جو والدین کے لئے مجھ پر واجب کئے ہیں ۔ اور ان سب کا مکمل علم میرے پاس جمع کردے اور ان پر عمل کرنے کے راستے پر مجھے لگا دے اور مجھے تو فیق دے کہ جس علم کی بصیرت تو نے عطا فرمادی ہے اس پر اپنی زندگی میں عمل کرسکیں تا کہ کوئی تیرا دیا ہوا علم عمل سے الگ نہ رہ جائے اور تیرے الہام کی پیروی اور اتباع کرنے میں میرے اعضاء کو گرانی کا احساس نہ ہو۔

« اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ کَمَا شَرَّفْتَنَا بِهِ، وَ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، کَمَا أَوْجَبْتَ لَنَا الْحَقَّ عَلَى الْخَلْقِ بِسَبَبِهِ. اللَّهُمَّ اجْعَلْنِی أَهَابُهُمَا هَیْبَةَ السُّلْطَانِ الْعَسُوفِ، وَ أَبَرُّهُمَا بِرَّ الْأُمِّ الرَّءُوفِ، وَ اجْعَلْ طَاعَتِی لِوَالِدَیَّ وَ بِرِّی بِهِمَا أَقَرَّ لِعَیْنِی مِنْ رَقْدَةِ الْوَسْنَانِ، وَ أَثْلَجَ لِصَدْرِی مِنْ شَرْبَةِ الظَّمْآنِ حَتَّى أُوثِرَ عَلَى هَوَایَ هَوَاهُمَا، وَ أُقَدِّمَ عَلَى رِضَایَ رِضَاهُمَا وَ أَسْتَکْثِرَ بِرَّهُمَا بِی وَ إِنْ قَلَّ، وَ أَسْتَقِلَّ بِرِّی بِهِمَا وَ إِنْ کَثُرَ »

خدا یا ! محمد و آل محمد علیہم السلام پر رحمت نازل فرما ، جس طرح تو نے ان کے ذریعے ھمیں شرف بخشا ہے اور ان پر رحمت نازل فرما جس طرح تو نے ان کے حق کو تمام مخلوقات پر لازم قرا ر دیا ہے ۔

خدا یا ! مجھے تو فیق دے کہ میں اپنے ماں باپ سے اسطرح ڈروں کہ جیسے کوئی کسی جابر سلطان سے ڈرتا ہے ، اور ان کے ساتھ اس طرح مہربانی کروں جس طرح ایک مہربان ماں اپنی اولاد کے ساتھ مہربانی کرتی ہے ۔ اور پھر میری اس اطاعت کو اور میرے اس نیک برتاؤ کو میری آنکھوں کے لئے اس سے زیادہ خوشگوار بنا دے جتنا خواب آلودہ نیند کا خمار خوشگوار ہو تا ہے ۔ اور اس سے زیادہ باعث سکون بنادے جتنا تشنہ لب کے لئے جرعہ آب باعث سکون ہو تا ہے تا کہ میں ان کی خواہش کو اپنی خواہش پر مقدم کروں اور ان کی رضا کو اپنی رضا سے آگے رکھو ں ۔ ان کے کئے ہوئے احسانات کو زیادہ سمجھوں چاہے وہ قلیل ہی کیوں نہ ہوں ۔ اور اپنی خدمات کو قلیل تصور کروں چاہے وہ کثیر ہی کیوں نہ ہو ۔


« اللَّهُمَّ خَفِّضْ لَهُمَا صَوْتِی، وَ أَطِبْ لَهُمَا کَلَامِی، وَ أَلِنْ لَهُمَا عَرِیکَتِی، وَ اعْطِفْ عَلَیْهِمَا قَلْبِی، وَ صَیِّرْنِی بِهِمَا رَفِیقاً، وَ عَلَیْهِمَا شَفِیقاً »

خدا یا ! ان کے سامنے میری آواز کو دبا دے ، میرے کلام کو خوشگوار، میرے مزاج کو نرم ، میرے دل کو مہربان ، مجھے ان کا رفیق اور ان کے حال پر شفیق ، دل سوز اور مہربان بنادے ۔

« اللَّهُمَّ اشْکُرْ لَهُمَا تَرْبِیَتِی، وَ أَثِبْهُمَا عَلَى تَکْرِمَتِی، وَ احْفَظْ لَهُمَا مَا حَفِظَاهُ مِنِّی فِی صِغَرِی. »

خدا یا ! انہیں میری تربیت کی جزا مرحمت فرما اور میری نگہداشت کا ثواب عطا فرما اور جس طرح انہوں نے بچپنے میں میری حفاظت کی ہے تو ان کی حفاظت فرما ۔
« اللَّهُمَّ وَ مَا مَسَّهُمَا مِنِّی مِنْ أَذًى، أَوْ خَلَصَ إِلَیْهِمَا عَنِّی مِنْ مَکْرُوهٍ، أَوْ ضَاعَ قِبَلِی لَهُمَا مِنْ حَقٍّ فَاجْعَلْهُ حِطَّةً لِذُنُوبِهِمَا، وَ عُلُوّاً فِی دَرَجَاتِهِمَا، وَ زِیَادَةً فِی حَسَنَاتِهِمَا، یَا مُبَدِّلَ السَّیِّئَاتِ بِأَضْعَافِهَا مِنَ الْحَسَنَاتِ. »

خدا یا ! انہیں میری طرف سے جو بھی اذیت پہنچی ہے یا کوئی نا خوشگوار صورت پیش آئی ہو، یا میرے پاس ان کا کو ئی حق ضائع ہو گیا ہو تو اسے ان کے گناہوں کا کفارہ ، ان کے درجات میں بلندی کا سبب اور ان کی نیکیوں میں اضافہ کا سامان بنادے ۔ اے برائیوں کو کئی گنا نیکیوں میں تبدیل کر دینے والے!

« اللَّهُمَّ وَ مَا تَعَدَّیَا عَلَیَّ فِیهِ مِنْ قَوْلٍ، أَوْ أَسْرَفَا عَلَیَّ فِیهِ مِنْ فِعْلٍ، أَوْ ضَیَّعَاهُ لِی مِنْ حَقٍّ، أَوْ قَصَّرَا بِی عَنْهُ مِنْ وَاجِبٍ فَقَدْ وَهَبْتُهُ لَهُمَا، وَ جُدْتُ بِهِ عَلَیْهِمَا وَ رَغِبْتُ إِلَیْکَ فِی وَضْعِ تَبِعَتِهِ عَنْهُمَا، فَإِنِّی لَا أَتَّهِمُهُمَا عَلَى نَفْسِی، وَ لَا أَسْتَبْطِئُهُمَا فِی بِرِّی، وَ لَا أَکْرَهُ مَا تَوَلَّیَاهُ مِنْ أَمْرِی یَا رَبِّ فَهُمَا أَوْجَبُ حَقّاً عَلَیَّ، وَ أَقْدَمُ إِحْسَاناً إِلَیَّ، وَ أَعْظَمُ مِنَّةً لَدَیَّ مِنْ أَنْ أُقَاصَّهُمَا بِعَدْلٍ، أَوْ أُجَازِیَهُمَا عَلَى مِثْلٍ، أَیْنَ إِذاً- یَا إِلَهِی- طُولُ شُغْلِهِمَا بِتَرْبِیَتِی! وَ أَیْنَ شِدَّةُ تَعَبِهِمَا فِی حِرَاسَتِی! وَ أَیْنَ إِقْتَارُهُمَا عَلَى أَنْفُسِهِمَا لِلتَّوْسِعَةِ عَلَیَّ! هَیْهَاتَ مَا یَسْتَوْفِیَانِ مِنِّی حَقَّهُمَا، وَ لَا أُدْرِکُ مَا یَجِبُ عَلَیَّ لَهُمَا، وَ لَا أَنَا بِقَاضٍ وَظِیفَةَ خِدْمَتِهِمَا »

خدا یا ! اگر انہوں نے کسی قول میں مجھہ پر زیادتی کی ہے ، یا کسی عمل میں حد سے تجاوز کیا ہے ، یا میرے کسی حق کو برباد کیا ہے ، یا میرے بارے میں کسی واجب میں کوتاہی کی ہے ، تو میں اسے معاف کئے دیتا ہوں اور انہیں بخش دے رہاہوں ۔ بلکہ یہ التماس کرتا ہوں کہ تو ان سے ان کے مواخذہ کو برطرف فرما دے کہ میں انہیں اپنے بارے میں متہم نہیں کرنا چاہتا ہوں اور نہ تربیت کے سلسلہ میں انہیں سست قراردیتا ہوں ، اور نہ ان کے کسی عمل کو ناگوار قرار دیتا ہوں کہ مالک ! ان دونوں کا حق میرے اوپر زیادہ واجب ہے ۔ اور ان کے احسانات میری خدمات کے پہلے ہیں ، اور ان کی شان اس سے بالاتر ہے کہ میں کسی عدل کی بنا پر ان سے بد لا لوں یا ان کے ساتھ برابر کا معاملہ کروں ۔ ایسا کروں گا تو ان کے اس احسان کا کیا ہو گا جو انہوں نے میری طویل تربیت میں کیا ہے ۔ یا میری حفاظت میں وسعت اور سکون کا سامان فراہم کیا ہے بھلا وہ مجھ سے مکمل حق کہاں حاصل کرسکتے ہیں ، میں تو ان کے حقوق کا ادراک بھی نہیں رکھتا ہوں اور ان کے خدمات کے فرض کو ادا بھی نہیں کر سکتا ہوں ۔

« فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ أَعِنِّی یَا خَیْرَ مَنِ اسْتُعِینَ بِهِ، وَ وَفِّقْنِی یَا أَهْدَى مَنْ رُغِبَ إِلَیْهِ، وَ لَا تَجْعَلْنِی فِی أَهْلِ الْعُقُوقِ لِلْآبَاءِ وَ الْأُمَّهَاتِ یَوْمَ تُجْزى‏ کُلُّ نَفْسٍ بِما کَسَبَتْ وَ هُمْ لا یُظْلَمُونَ. »
تو خدا یا ! محمد و آل محمد علیہم السلام پر رحمت نازل فرما ، اور اس راہ میری امداد فرما ، اے وہ بہترین ذات جس سے مدد مانگی جاتی ہے اور مجھے توفیق عطا فرما ، اے سب سے زیادہ مرکز توجہ اور ہدایت دینے والے اور مجھے ان لوگوں میں نہ قرار دینا جو ماں باپ کے نافرمان ہوں ۔ اس دن جس دن ہر نفس کو اس کے کئے کا مکمل بدلا دیا جائے گا اور کسی پر کو ئی ظلم نہ کیا جا ئے گا ۔

« اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ وَ ذُرِّیَّتِهِ، وَ اخْصُصْ أَبَوَیَّ بِأَفْضَلِ مَا خَصَصْتَ بِهِ آبَاءَ عِبَادِکَ الْمُؤْمِنِینَ وَ أُمَّهَاتِهِمْ، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ. »

خدا یا ! محمد و آل محمد علیہم السلام پر رحمت نازل فرما ، اور میرے والدین کو وہ بہترین نعمت عطا فرما جو تو نے اپنے بندگان مؤمن میں کسی والدین کو بھی عطا فرمائی ہے ۔ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔
« اللَّهُمَّ لَا تُنْسِنِی ذِکْرَهُمَا فِی أَدْبَارِ صَلَوَاتِی، وَ فِی إِنًى مِنْ آنَاءِ لَیْلِی، وَ فِی کُلِّ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ نَهَارِی. »

خدا یا ! ان کی یاد سے غافل نہ ہونے دینا ، نہ نمازوں کے بعد اور نہ رات کے لمحات میں اور نہ دن کی گھڑیوں میں ۔

« اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ اغْفِرْ لِی بِدُعَائِی لَهُمَا، وَ اغْفِرْ لَهُمَا بِبِرِّهِمَا بِی مَغْفِرَةً حَتْماً، وَ ارْضَ عَنْهُمَا بِشَفَاعَتِی لَهُمَا رِضًى عَزْماً، وَ بَلِّغْهُمَا بِالْکَرَامَةِ مَوَاطِنَ السَّلَامَةِ. اللَّهُمَّ وَ إِنْ سَبَقَتْ مَغْفِرَتُکَ لَهُمَا فَشَفِّعْهُمَا فِیَّ، وَ إِنْ سَبَقَتْ مَغْفِرَتُکَ لِی فَشَفِّعْنِی فِیهِمَا حَتَّى نَجْتَمِعَ بِرَأْفَتِکَ فِی دَارِ کَرَامَتِکَ وَ مَحَلِّ مَغْفِرَتِکَ وَ رَحْمَتِکَ، إِنَّکَ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ، وَ الْمَنِّ الْقَدِیمِ، وَ أَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ. »

خدا یا ! محمد و آل محمد علیہم السلام پر رحمت نازل فرما ، میری دعائے خیر کے سبب انہیں بخش دے اور میرے ساتھ ان کی نیکیوں کے بدلے ان کی حتمی مغفرت فرما اور میری گذارش کی بنا پر ان سے مکمل طور پر راضی ہو جا اور اپنی کرامت کی بنا پر انہیں بہترین سلامتی کی منزل تک پہنچا دے ۔

اور خدا یا ! اگر تو انہیں پہلے بخش چکا ہے تو اب میرے حق میں شفیع بنا دے اور اگر میری بخشش پہلے ہو جائے تو مجھے ان کے حق میں سفارش کا حق عطا کردینا تا کہ ہم سب ایک کرامت کی منزل اور مغفرت و رحمت کے محل میں جمع ہو جائیں کہ تو عظیم ترین فضل کا مالک اور قدیم ترین احسان کرنے والا اور سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ۔ [۳]
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬