25 July 2010 - 15:18
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 1621
فونت
آیت الله سبحانی:
رسا نیوزایجنسی - حضرت آیت الله سبحانی نے پیغمبراسلام سے توسل کی دلیلوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : اگرھم اپنی دعاوں میں پیغمبر اسلام کے ذریعہ توسل کرتے ہیں اور انہیں واسطہ قرار دیتے ہیں وہ اس بناء پر ہے کہ پیغبر اسلام کی ذات گرامی نفس ذکیہ رکھتی ہے ۔
آيت الله سبحاني

رسا نیوزایجنسی کے رپورٹر کی مشھد مقدس سے رپورٹ کے مطابق ، حضرت آیت الله شیخ جعفر سبحانی نے گذشتہ روز مدرسہ علمیہ نواب مشهد میں توسل کے حوالے سے وھابیت کے اشکالات اور شبہات کا جواب دیتے ہوئے کہا : توسل کی قسمیں ہیں ان میں سے اسماء الله تبارک و تعالی، قرآن مجید ، برادر مؤمن کی دعا ، پیغمبراسلام (ص) کی اپکی حیات میں دعا تمام امت اسلامیہ کے مورد اتفاق ہے ۔

انہوں نے مزید کہا : توسل کے سلسلے سے جوکچھ بھی مورد گفتگو ہے وہ پیغمبراسلام (ص) کی رحلت کے بعد اپ سے توسل کی گفتگو ہے کہ ھم شیعہ معتقد ہیں کہ ایات قران کی بنیاد پر پیغبر کی دعا جس طرح ان کے زمان حیات میں مستجاب تھی اسی طرح اپ کے انتقال کے بعد بھی اپ کی دعا مورد اجابت ہے اور اسےھم نے برزخی حیات اوراس دنیا سے ھمارے رابطے کے ذریعہ ثابت کیا ہے ۔

حضرت آیت الله سبحانی نے بیان کیا : یہاں پرایک دوسری گفتگو بھی ہے کہ پیغمبر کی ذات گرامی سے توسل جائز ہے یا اپ کی منزلت سے یا اپ کے حق سے ؟ اس سلسلے میں وھابیت سخت ہے کہ پیغبر اسلام سے ھر طرح کا توسل اپ کی ذات گرامی سے یا اپ کے حق کے ذریعہ یا اپ کی منزلت سے ایک قسم کا شرک ہے اور اگر انسان توبہ نکرے تو قتل کی سزاکا مستحق ہے ۔

انہوں نے مزید کہا : حقیقتا اگر ھم پیغبر اسلام سے متوسل ہوتے ہیں اور اپنی دعاوں میں اپ کو واسطہ قرار دیتے ہیں وہ اس بنیاد پر ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) کی دعا اپ کے نفس ذکیہ کی بنیاد پر مستجاب ہے کہ اگران میں یہ قربت الھی نہ ہوتی تو ھرگز ایسا نہ ہوتا ۔

حوزہ علمیہ قم کے اس معروف استاد نے کہا : پپیغمبر سے توسل کے حوالے وھابیوں کا سب سے پہلا اشکال اور شبھہ یہ ہے کہ بزرخ قیامت اور دنیا کے درمیان ایک قسم کا حائل اور دیوارہےاور جب ھمارے درمیان حائل ہے تو پھر اپ کس طرح پیغمبر سے متوسل ہوتے ہیں اور انہیں اپنی کے قبولیت میں واسطہ قرار دیتے ہیں ؟ جواب بڑا روشن اور صاف ہے کہ اپ جب بھی قران کی ایتوں کا ترجمہ کریں گے توپہلے اور بعد کی ایتوں کو سامنے رکھکر ہی ترجمہ کریں گے اور قران کا فرمان ہے کہ یہ برزخ اوازوں کے پہنچنے میں اڑے نہی ہے بلکہ دنیا میں واپسی میں روکاوٹ بنی ہے ۔

انہوں نے مزید کہا : وھابیوں کا دوسرا سوال یہ ہےکہ مردہ اوازیں نہی سن سکتا مرنے کے بعد سماعتیں چھین لی جاتی ہیں لھذا پیغمبر بھی نہی سن سکتے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ صحیح بخاری میں تحریر ہےکہ میت تشیع کرنے والوں اوازیں سنتی ہے اوراگر میت کے پاس سننے کی صلاحیت نہی ہے تو پھر تلقین کے کیا معنی ہیں ؟ لھذا اگر قران میں ذکر ہے کہ مردوں کو نہی سنا سکتے تو مقصود مردوں کا نہ سننا نہی ہے بلکہ مقصود یہ ہے مردے سن کرفائدہ نہی اٹھا سکتے کیوں کہ وہاں مقام عمل نہی ہے اور مردے وہاں سے واپس نہی اسکتے لھذا جو کچھ بھی سنیں گے اس سے فائدہ نہی اٹھا سکتے ۔
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬