26 August 2009 - 21:50
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 179
فونت
رسا نیوز ایجنسی - عراق کے اسلامی مجلس اعلی کے صدر کینسر جیسی خطرناک بیماری کی وجہ سے آج ظھر کے وقت اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔
حجت الاسلام و المسلمين سيد عبد العزيز حکيم

 

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹ کے مطابق ، حجت الاسلام و المسلمین سید عبد العزیز حکیم عراق کے اسلامی مجلس اعلی کے صدر کینسر جیسے مھلک بیماری کا تاب نہ لا سکے اور آج ظھر کے وقت تھران کے اسپتال میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے ۔


وہ کینسر کے  بیماری کی وجہ اور جسمانی حالات کے نا مناسب ہونے کی وجہ سے اس دو سال کے مدت میں ڈاکٹر کے زیر اعلاج رہے وہ دو سال تک خصوصی ماھرین کے تحت نظر تھے ، اس ہفتہ ان کی حالت کچھ نازک ہو گئی تھی اور آج اس دنیا سے گزر گئے ۔ 


سید عبدالعزیز حکیم  کے مشاور عالی شیخ ھمام حمودی کے آفس نے اس روحانی مجاھد کے انتقال پر تمام شیعوں اور عراقی قوم کو تسلیت پیش کی ہے ۔


سید عبد العزیز کے بیٹے سید عمار حکیم  کچھ دیر کے بعد اس سلسلہ میں عراقی عوام کے خدمت میں اعلان پڑھینگے ۔


عبدالعزیز حكیم شیعوں کے بڑے مرجع آیت‌الله سید محسن حكیم  کے فرزند تھے ان کے والد بزرگوار بھی اپنے بیٹوں کی طرح صدام کے ظلم اور اس کی حکومت کے مخالف تھے ۔ 


سید عبدالعزیز حكیم کے ۹ بھائی اور چار بہنیں تھیں جنمیں سے ان کے سات بھائی عراق کے بعثی حکومت سے مبارزه اور مقابلہ کر نے میں شہید ہو گئے ۔ ان کے تمام بھائی عراق کے ممتاز عالم دین اور ان میں کچھ مجتھد اور مرجع تقلید بھی تھے ۔


سید عبدالعزیز حكیم سن ۱۹۸۲ سے عراق کے مجلس اعلای اسلامی کی رھبریت صدام کی ظالمانہ حکومت کو ختم کرنے کے لئے کر رہے تھے ۔ وہ سید محمدباقر حكیم عراق کے اسلامی مجلس اعلی کے صدر کے نجف اشرف میں شہید ہو نے کے بعد عراق کے اسلامی مجلس اعلی کے صدرچنے گئے ۔


وہ ۷۰ عیسوی کے ابتدائی عشرہ میں دینی تعلیم کے حصول میں مشغول ہوئے اور انہوں نے اینی دینی تعلیم  " سید محمود هاشمی شاهرودی " ، " سید عبدالصاحب حكیم " اور اپنے بھائی  " آیت الله شهید سید محمد باقر حكیم " جیسے بڑے عالم دین سے حاصل کی ۔


عبدالعزیز حكیم حوزہ کے نظام سطح تعلیم کو تمام کرنے کے بعد فقہ اور اصول کا درس خارج شهید سید محمد باقر صدر اور آیت‌الله خویی جیسے استادوں سے حاصل کیا اور شہید صدر کے درس کے تقریرات بھی لکھے ۔

انہوں نے سید محمد باقر صدر کے شهادت کے بعد سیاسی میدان میں کار کردگی شروع کر دی اور اس کے بعد مجبور ہو کر ایران میں ھجرت اختیار کر لی ۔  سید عبدالعزیز حكیم ایران میں آنے کے بعد عراقی مظلوم عوام کی رہائی کے لئے صدام ظالم حکومت سے مسلحانہ مقابلہ کر نے کا راستہ اختیار کیا اور اس میدان میں انہیں اچھی کامیابی بھی حصل ہوئی ۔ 


وہ عراق میں صدام کی حکومت گرنے کے بعد لوٹ گئے ، اور عراق کے تمام اسلامی پارٹیوں سے گفتگو کرنے کے بعد عراق کا پہلا قومی مجلس  صدام کے حکومت گرنے کے بعد اسلامی پاڑٹیوں کی مدد سے تشکیل دی گئی جس کے نتیجہ  میں ۱۳۰ سے زیادہ نما ئندہ عراقی پارلیمنٹ میں تھے ۔   

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬