04 September 2010 - 18:03
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 1795
فونت
آیت‌الله سبحانی:
رسا نیوزایجنسی - حضرت آیت الله سبحانی نے کفار و مشرکان سے روابط برقرار کرنے میں مسلمانوں کا نقصان بتاتے ہوئے کہا : جو کفار ھمارے خلاف باتیں نہی کرتے ہیں یا ھمیں نقصان نہی پہونچاتے ان سے معمولی روابط رکھنے میں کوئی حرج نہی ہے ۔
آيت‌الله سبحاني

رسا نیوزایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق ، مراجع تقلید میں سے حضرت آیت‌الله جعفر سبحانی نے اج ظھر کے وقت اپنی سلسلہ وار تفسیر نشست میں جو مدرسہ حجتیہ قم میں بیرونی طلاب کی موجودگی میں منعقد ہوئی سوره حشرکی اخری ایت اورسورہ ممتحنہ کی ابتدائی ایتوں کی تفسیرکی ۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ سورہ ممتحنہ میں تیرہ ایتیں موجود ہیں اس سورہ کی شان نزول بیان میں کہا : اس سورہ کی شان نزول یہ ہے مسلمان کافروں نزدیکی روابط رکھنے سے پرھیز کریں ۔

حضرت آیت الله سبحانی نے تاکید کی : سوره ممتحنه میں امت اسلامیہ اور مسلمانوں کے حق میں خارجہ پالیسی بیان کی گئی ہے ولھذا اس سورہ کی ایات کے مفاھیم کو سمجھنے میں دقت کرنی چاھئے ۔

انہوں نے ایات وروایات کے ائینہ میں کہا : وہ کفارجو ھمارے خلاف قیام نہی کرتے اور ھمارے منافع کو نقصان نہی پہونچاتے ان سے معمولی دوستی رکھنے میں کوئی حرج نہی ہے ۔

اس مفسر قران کریم نے آیه « یا ایهاالذین آمنوا لا تتخذوا عدوی و عدوکم اولیا....» میں فرمایا : کفار مشرکین فقط مسلمانوں ہی کے دشمن نہی ہیں بلکہ خداوند تبارک و تعالی کے دشمن ہیں اور مسلمان بھی اس ذات باری تعالی سے مرتبط ہیں ۔

حضرت آیت الله سبحانی نے تاکید کی: قران کریم کا نہ ماننا اور پیغمبر اسلام (ص) کو مکہ سے نکالنا کفار ومشرکین کی خصوصیات میں سے یہ قوم ہے جس کسی بھی حالت میں رابطہ رکھنا مناسب نہی ۔
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬